انوکھی سیڑھیاں
24 جولائی 2019 2019-07-24

ٹی وی آن کیا تو پاکستان کا معروف اداکار اور ڈی جے محسن عباس حیدر قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر پریس کانفرنس کر تے ہوئے ا±ن الزامات کا جواب دے رہا تھا جو ا±س کی بیوی فاطمہ س±ہیل نے ا±س پر ذہنی اور جسمانی تشدد کے حوالے سے لگائے۔ محسن کہہ رہا تھا کہ یہ سب الزام جھوٹے اور ا±س کی شہرت کو داغدار کرنے کے لئے ایک بھونڈا پراپیگنڈہ ہے اور جو تشدد والی تصاویر فاطمہ نے سوشل میڈیا پر دکھائی ہیں وہ زخم اور نشان (نیل)میری مار کی وجہ سے نہیں بلکہ سیڑھیوں سے گرنے کی وجہ سے آئے ہیں۔ کیسا معاشرہ ہے اور کیسے لوگ ہیں ہم کہ ہمارے گھروں میں وہ سیڑھیاں ہیں جہاں سے صرف لوگوں کی بہو، بیٹیاں ہی گرتی ہیں کبھی ہمارے اپنے بیٹے اور ہمارے گھر کے دوسرے افراد نہیں گرتے۔ ہمارے کچن کے سیلنڈر بھی بڑے عجیب اور سمجھدار ہیں جب بھی پھٹتے ہیں تو مرتی پرائے گھر کی بیٹی ہے کبھی ساس ا±س دھماکے میں نہیں مرتی اور نہ ہی گھر کا کوئی دوسرا فرد، کچن بھی بڑے عجیب ہیں جب ا±ن میں آگ لگتی ہے تو ج±ھلستی ا±س گھر کی بہو ہی ہے۔

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ جب ہم اپنی بیٹی کو ر±خصت کر رہے ہوتے ہیں تو ماں باپ ساتھ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ بیٹا اب وہی تمہارا گھر ہے اور وہیں رہنا ہے تم نے جیسا بھی ہو نباہ کرنا اب، مطلب ہم دبے لفظوں میں یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ بیٹا اب جو مرضی ہو واپس اس گھر مت آنا اب جا رہی ہو تو واپس لاش ہی آنی چاہیے۔ پاکستان ا±ن ملکوں میں سے ایک ہے جہاں کچھ سالوں پہلے گھریلو تشدد کو ج±رم تک نہیں سمجھا جاتا تھا۔

قانون سازی کے بعد یہ عمل اب قانون کی نظر میں جرم تو بن گیا ہے لیکن معاشرے کے ایک بڑے طبقے میں اسے اب بھی معمول کی بات ہی سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں گھریلو تشدد کے حوالے سے بات کرنا ابھی بھی کسی حد تک ایک (ٹیبو) ہے عورتوں کے ساتھ ہونے والی بہت سی زیادتیوں کی طرح گھریلو تشدد بھی ایک طرح کا عزت کا مسئلہ بنا لیا گیا ہے جسے دوسروں سے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔

خواتین عموماًگھریلو تشدد کے حوالے سے بات نہیں کرتیں جیسے اگر کسی کو پتا چل گیا تو ا±ن کی کیا عزت رہ جائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ گھریلو تشدد یا رشتہ داروں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے بیشتر واقعات منظر عام پر ہی نہیں آتے۔ اور پسند کی شادی کرنے والی خواتین اگر گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں تو وہ نہ گھر والوں کو بتا سکتی ہیں اور نہ کسی اور کو ا±نھیں یہ پتا ہوتا ہے کہ اس صورتِحال میں ا±نھیں ایک ہی روایتی جملہ س±ننے کو ملے گا کہ یہ شادی تم نے اپنی مرضی سے کی تھی اور اب خود ہی ب±ھگتو۔ پھر وہ اندر ہی اندر ا±س جبر کو سہتی رہتی ہیں اور جب بات برداشت سے باہر ہوتی ہے تو پھر نتیجہ خودکشی کی صورت میں نکلتا ہے۔

وزارت انسانی حقوق نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنوری 2011ءسے 2017ءتک خواتین پر تشدد سے متعلق 51 ہزار 241 کیس رجسٹر کئے گئے، اس عرصہ کے دوران سب سے زیادہ گھریلو تشدد کے 15 ہزار 461 واقعات سامنے آئے۔

وزارت کو صوبائی محکمہ پولیس سے موصول ہونیوالے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خواتین پر تشدد کے 2011 ءمیں 8 ہزار 418، 2012ءمیں 8 ہزار 845، 2013ءمیں 7 ہزار 573، 2014ءمیں 7 ہزار 741، 2015ءمیں 6 ہزار 527، 2016ءمیں 8 ہزار 13 اور گزشتہ سال کے دوران 4 ہزار 66 کیسز سامنے آئے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق ان شکایات میں خواتین پر گھریلو تشدد، غیرت کے نام پر قتل، جلانا، جنسی زیادتی، کام کرنے کی جگہوں پر ہراساں کرنے سمیت دیگر جرائم شامل ہیں۔۔ یہ دو سال پہلے کے اعدادو شمار ہیں اس سے بھی تلخ نتائج 2018 میں آئے ، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ مطابق 2018 پاکستانی عورتوں کے لئے مزید غیر محفوظ ہونے کا سال تھا۔

خواتین کے لیے بنائے گئے قوانین کے باوجود عورتوں کے خلاف تشدد اور جرائم میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اس کی بڑی وجہ ہمارے معاشرتی رویے ہیں جنہیں بدلنے کی ضرورت ہے ، ہمیں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو یہ اعتماد دینا ہو گا کہ سسرال میں مرنے اور ظلم برداشت کرنے سے بہتر ہے تم واپس آ جاو¿ اور انھیں یہ باور کروانا ہوگا کہ وہ ہم پر بوجھ نہیں ہیں اور ساتھ ساتھ گھریلو تشدد کرنے والے افراد کو کڑی سزائیں دینے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر