فوٹوبشکریہ فیس بک

خواجہ سعد رفیق کہاں ہے، اگلی تاریخ پر پیش ہو: جسٹس ثاقب نثار
24 جولائی 2018 (15:35) 2018-07-24

لاہور: چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے پاکستان ریلویز میں خسارے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت میں سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے بارے دریافت کرتے ہوئے استفسار کیا کہ چنے والا کہاں ہے ، اگلی تاریخ پر پیش ہو، ادارے نہیں چل رہے، سمجھ سے بالا ہے ملک کیسے چل رہا ہے؟

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ازخود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے فرانزک آڈٹ رپورٹ پر ریلوے کو بھیجے ہوئے نوٹس کا جواب طلب کر لیا اور حکم دیا کہ رپورٹ میں دی گئی تجاویز کو شائع کیا جائے۔

اس موقع پر آڈٹ افسر نے فرانزک آڈٹ کی رپورٹ عدالت میں پیش کی اور موقف اپنایا کہ ریلوے کا خسارہ 40 بلین ہے جس پر چیف جسٹس نے فرانزک آڈٹ رپورٹ پر ریلوے سے جواب طلب کر لیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ چنے والا کہاں ہے ، اگلی تاریخ پر پیش ہو، ادارے نہیں چل رہے، سمجھ سے بالا ہے ملک کیسے چل رہا ہے؟ رپورٹ ٹھوک کر اور کسی خوف کے بغیر دینی تھی۔

چیف جسٹس نے آڈٹ افسر سے استفسار کیا کہ بتائیں کیا ریلوے میں سب اچھا ہے؟ جس پر آڈٹ افسر نے جواب دیا کہ رپورٹ اچھی نہیں ہے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا پچھلے 5 سال میں سب سے زیادہ خرابی پیدا ہوئی؟ آڈٹ افسر بولے خرابی 70 سال سے ہے گزشتہ 5 سال میں دور کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ عدالت نے حکم دیا کہ فرانزک آڈٹ رپورٹ میں دی گئی تجاویز کو شائع کیا جائے۔


ای پیپر