فوٹوبشکریہ فیس بک

وہ کسی معاملے میں مدعی ہیں لیکن انہیں ملزم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے: جسٹس شوکت صدیقی
24 جولائی 2018 (14:51) 2018-07-24

اسلام آباد: جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا ہے کہ سچ کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے وہ کسی معاملے میں مدعی ہیں لیکن انہیں ملزم بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ضلع کچہری کے ساتھ وکلا چیمبرز کی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف دائر خاتون شہری کی درخواست کی سماعت کی اور اس موقع پر درخواست گزار خاتون نے جذباتی انداز میں کہا کہ ایف ایٹ کچہری میں غیرقانونی کثیرالمنزلہ عمارات بنائی گئی ہیں، قبضہ کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیں۔ خاتون کا کہنا تھا کہ جج صاحب آپ سچے اور کھرے انسان ہیں، جو کچھ آپ نے اس سسٹم کے حوالے سے کہا میں آپ کے ساتھ کھڑی ہوں، 30 جولائی کو آپ کے ساتھ سپریم کورٹ میں پیش ہوں گی۔

یہ خبر بھی پڑھیں:یاسمین راشد کے حلقے میں نالے سے سیکڑوں شناختی کارڈ برآمد

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ آپ کو پتا ہے سچ کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے ؟ دیکھ لیں میں کسی معاملے میں مدعی ہوں لیکن ملزم بنا کر پیش کیا جارہا ہے، حق اور سچ کے لئے آواز بلند کریں ہوسکتا ہے آپ اکیلے رہ جائیں۔

عدالت نے حکم نامے میں لکھا کہ ایف ایٹ کچہری میں کثیرالمنزلہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف ایکشن ہوگا، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔ کیس کی مزید سماعت31 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔


ای پیپر