24 جولائی 2018 2018-07-24

کل کا دن بڑا اہم ہے، پاکستان کے کروڑوں عوام جنہیں اس ملک کے حکمران سیاستدانوں نے ہمیشہ ” بھیڑ بکریاں“ سمجھا اگر واقعی ایک ”قوم“ ہیں تو کل یہ ثابت ہو جائے گا ۔ کہ سیاستدان اپنے عوام کو جو سمجھتے ہیں ٹھیک سمجھتے ہیں۔ یہ دن پاکستان کی زندگی میں کئی بار آیا، بدقسمتی سے ہم نے کبھی یہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی ہم واقعی ایک ”قوم“ ہیں۔ بھارتی دانشور خشونت سنگھ کا ایک انٹرویو کچھ برس قبل میں نے ایک بھارتی میگزین ”ہندسماچار“ میں پڑھا تھا۔ وہ فرماتے ہیں ”1947ءمیں برصغیر کے مسلمان ایک ”قوم“ کی طرح متحد تھے، اس قوم کو ایک ملک کی ضرورت تھی، پھر قائداعظمؒ جیسے عظیم رہنما کی مثالی جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان کے نام سے ایک ملک بن گیا، اب پاکستان ایک ملک ہے جسے ایک ”قوم“ کی ضرورت ہے“.... کل 25جولائی 2018ءکو بھارتی دانشور خشونت سنگھ کو یہ پیغام دینے کا دن ہے پاکستان میں واقعی ایک ”قوم “ بستی ہے ۔ کل کا دن یہ ثابت کرنے کا دن ہے ”مومن ایک سوراخ سے دوبار یا بار بار نہیں ڈسا جاسکتا“.... کل اس ملک کے سیاسی سانپوں ،اژدہوں، چمگادڑوں ، مگرمچھوں اور بھیڑیوں سے چھٹکارے کا دن ہے۔ یہ فیصلہ کرنے کا دن ہے کہ کب تک ان ”سیاسی بچھوﺅں “ سے ڈنگ ہم کھاتے رہیں گے ۔.... کل عمران خان کی بے شمار خوبیوں کو یادرکھنے کا دن ہے۔ کل یہ یادرکھنے کا دن ہے اس کی وجہ سے ملک کو ہمیشہ عزت ملی۔ دنیا میں پاکستان کو منفرد مقام دلانے کے لیے ہرممکن کوشش اس نے کی۔ پاکستان کے محب وطن عوام کے لیے وہ ایک اُمید بنارہا ، اب بھی بنا ہوا ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں پاکستانی بستے ہیں وہ اس پر اندھا اعتماد کرتے ہیں ، اور صرف پاکستانی نہیں غیرملکی بھی کرتے ہیں ۔....چند روز پہلے پاکستان کے ایک مشہور بزنس مین جو چند دنوں کے لیے ٹورنٹو آئے ہوئے تھے نے مجھے ایک واقعہ سنایا جس سے میرے دل میں عمران خان کے لیے عزت مزید بڑھ گئی، وہ فرماتے ہیں ”میں دوبرس قبل کسی کاروباری سلسلے میں چائنہ گیا، چائنہ کی ایک فرم کے ساتھ جب میراکاروباری معاہدہ ہورہا تھا اس کے سی ای او لی پانگ سونگ نے مجھ سے کہا ”ہم آپ پر صرف اس لیے اعتماد کررہے ہیں کہ آپ کا تعلق عمران خان کے پاکستان سے ہے“ ....اس بزنس مین کا تعلق نون لیگ سے تھا، بلکہ شریف فیملی کے ساتھ اُس کا ذاتی تعلق تھا، اب پچھلے ایک برس سے وہ عمران خان کا دم بھرتا ہے، اور چائنہ کی اس فرم کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں اُسے جتنا منافع ہوتا ہے اس کا پچیس فی صد ہر سال وہ شوکت خانم ہسپتال کے لیے وقف کردیتا ہے، .... کل عمران خان کی چند ذاتی کمزوریوں کو یا سیاسی کوتاہیوں کو نظرانداز کرنے کا دن ہے، وہ فرشتہ نہیں، مگر کل یہ یادرکھنے کا دن ہے پاکستان کے تقریباً تمام سیاستدانوں سے وہ ہزاردرجے بہتر ہے۔ کم ازکم اس حوالے سے تو یقیناً بہتر ہے وہ بددیانت نہیں ہے، اور جو بددیانت کسی سیاسی ضرورت کے تحت اُس کے اردگرد اکٹھے ہیں، یا اپنے اردگرد رہنے کی اس نے انہیں اجازت دے رکھی ہے مجھے امید ہے اللہ کے فضل سے اُسے اقتدار مل گیا یہ سارے بددیانت خودبخود اس سے پرے ہو جائیں گے۔ یہ اس اُمید پر اس کے ساتھ ہیں کہ وہ بھی شاید روایتی حکمران ثابت ہوگا جو اسی طرح اُنہیں ہرقسم کی ”انھی“ ڈالنے کی اجازت عنایت فرمادے گا جس طرح دوسرے یا اس سے قبل حکمران سیاستدان اپنے لوگوں کو عنایت فرمائے رکھتے ہیں، ....مجھے اُمید ہے وہ ایسانہیں کرے گا۔ ورنہ اُس کے خلاف آواز بلند کرنے والا پہلا شخص انشاءاللہ میں ہوں گا ، وہ اس حوالے سے بھی پاکستان کے تقریباً تمام سیاستدانوں سے بہتر ہے کہ پاکستان کے ساتھ اُس کی محبت کسی ذاتی مقصد کی تکمیل کے لیے نہیں ہے۔ جیسا کہ بے شمار سیاستدانوں کو پاکستان صرف اُسی وقت اچھا لگتا ہے جب وہ اقتدار میں ہوتے ہیں۔ اپنی چوبیس سالہ بغیر کسی اقتدار کے سیاسی جدوجہد کے دوران ایک لمحہ بھی ایسا نہیں آیا جب پاکستان سے وہ مایوس ہوا ہو۔ اس کی وجہ سے دنیا میں پاکستان کی جتنی عزت بنی یہ ”قرض “ کل اُسے واپس کرنے کا دن ہے، ....آپ کا فرمان ہے ”کسی انسان کو صحیح معنوں میں جاننا ہو اس کے ساتھ سفر کریں“۔ میں نے اس کے ساتھ سفر کیے ہیں۔ دوران سفر کئی بار ایسے ہوا پاکستانی عوام کی محرومیوں کا ذکر کرتے ہوئے اس کی آنکھیں بھیگ گئیں، وہ بڑے مضبوط اعصاب کا مالک ہے مگر بے بس لوگوں کو تکلیف میں مبتلا دیکھ کر بعض اوقات اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا۔ یہ جواکثر برس ہا برس سے اقتدار میں رہنے والے ڈاکوﺅں ،چوروں اور لٹیروں کے لیے وہ سخت زبان یا ”نامناسب زبان“ استعمال کرتا ہے اس کے پیچھے بھی اس کی وہ تڑپ ہوتی ہے جو پاکستان کے لیے بے بس ، محروم اور مظلوم طبقے کے لیے ہروقت اُس کے دل میں رہتی ہے۔ وہ جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا کپتان تھا۔ جب پاکستان نے ورلڈ کپ جیتا ۔ میرے محترم بھائی ملک کے نامورترین آرتھوپیڈک سرجن پروفیسر عامر عزیز تب کرکٹ ٹیم کے ”ہیلتھ ایڈوائزر“ تھے وہ بتاتے ہیں عمران خان کی اُن دنوں رات کی نیندیں حرام ہوئی ہوئیں تھیں۔ اُس کے سر پر صرف ایک ہی بھوت سوار رہتا کسی طرح ورلڈ کپ جیت کر پاکستان کی دنیا میں اُس نے عزت بنانی ہے۔ اُن دنوں وہ اپنے کھلاڑیوں کی جس جذباتی انداز میں تربیت کرتا، اُنہیں لمبے لمبے لیکچر دیتا اس سے صاف ظاہر ہوتا تھا یہ شخص پاکستان کو ٹوٹ کر چاہتا ہے .... کل پاکستان کو ٹوٹ کر چاہنے والے اس شخص کی لاج رکھنے کا دن ہے، .... پاکستان کی معیشت اس وقت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے، ڈالر آسمانوں سے باتیں کررہا ہے۔ روپیہ کہیں نظر ہی نہیں آرہا ، اللہ کے فضل سے عمران خان کو اقتدار ملا وہ جانتا ہے یہ اس کے لیے پھولوں کی سیج نہیں ہوگی۔ اب یہ کانٹوں کا ایسا بستر ہے جس سے اس جیسے مضبوط اعصاب کا مالک کوئی دیانت دار حکمران ہی نمٹ سکتا ہے، مجھے یقین ہے وہ ملک کو دوبارہ ایسے عزت مندانہ مقام پر لاکر کھڑے کردے گا، جہاں بیرون ملک مقیم لاکھوں پاکستانی بڑے فخر سے اپنے پاکستانی ہونے کے اعلان کرنا شروع کردیں گے۔ اب وہ بے چارے اپنی شناخت چھپاتے پھرتے ہیں، دنیا میں کوئی ہماری عزت ہی نہیں ہے، کل دنیا میں پاکستان کی عزت میں اضافہ کرنے کا دن ہے۔ کل پاکستان کو جنم جنم کی سیاسی غلاظتوں سے پاک کرنے کا دن ہے۔ عمران خان کا یہ احسان چکانے کا دن ہے کہ اس نے لُوٹ مار کی سیاست میں ایسی دراڑ ڈال دی جو اپنے مقام پر اب کبھی واپس نہیں آسکے گی ،....فرمایا گیا ”خدا اُس قوم کی حالت نہیں بدلتا نہ ہو جسے آپ اپنی حالت بدلنے کا خیال“.... کل یہ ثابت کرنے کا دن ہے یہ ”قوم“ اپنی حالت اب بدلنا چاہتی ہے۔ .... کل عمران خان کو نہیں اپنے آپ کو ووٹ دینے کا دن ہے، پاکستان دشمن غیر ملکی قوتوں کو مکمل طورپر رد کرکے ملک کی دوست قوتوں کو ترجیح دینے کا دن ہے، اس ملک کے سیاسی ڈاکوﺅں، چوروں اور لٹیروں پر بڑا ترس کھالیا گیا، کل اپنے آپ پر ترس کھانے کا دن ہے، پاکستان پر ترس کھانے کا دن ہے، .... جی ہاں.... کل پتہ چل جائے گا پاکستان کے کروڑوں لوگ مستقبل میں عزت مندانہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں یا نہیں ؟ ۔ کل ایک بار پھر ثابت کرنے کا دن ہے کہ پاکستان بیس کروڑ عوام کا ملک ہے یا دوچار لٹیرے سیاسی خاندانوں کا ؟؟؟


ای پیپر