Donald Trump, 150-year-old, tradition, US, Joe Biden, oath taking ceremony
24 جنوری 2021 (12:28) 2021-01-24

گزشتہ بدھ 20 جنوری کو امریکہ کے نئے منتخب صدر جوبائیڈن نے ملک کے 46ویں صدر کے عہدے کا حلف اٹھا لیا… ان کے ساتھ موصوف اور ان کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزد اور منتخب ہونے والی نائب صدر کاملا ہیرس نے بھی منصب سنبھالا… عام حالات میں یہ معمول کی کارروائی ہوتی… ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں 1789 سے لے کر اب تک یعنی گزشتہ 232 سالوں سے ہر چار سال بعد نئے صدر اور نائب صدر کے لیے انتخابات منعقد ہوتے ہیں… ایک شخص زیادہ سے زیادہ دو مدتوں کے لیے اس عہدے کے قابل سمجھا جاتا ہے… جو بائیڈن سابق صدر اوبامہ کے دو مدتی عہد (2008 تا 2016 ) کے دوران نائب صدر کی خدمات سرانجام دیتے رہے… لیکن اس مرتبہ امریکہ نہیں چارسو عالم میں یہ آواز گونج رہی ہے کہ نئی تاریخ ہو گئی ہے… عہدِنو کا آغاز ہوا ہے… ایک وجہ یہ ہے لیکن اتنی غیرمعمولی نہیں کہ ایک خاتون وہ بھی رنگدار نسل والی نائب صدارت کی کرسی پر فائز ہوئی ہیں… مگر رنگدار شخص تو آٹھ سال تک خطہ ارض کی واحد سپرطاقت اور گورے رنگ کی اکثریت والوں کے ملک کا منتخب سربراہ رہا ہے… کاملا ہیرس کا خاتون ہونا البتہ علیحدہ بات ہے… تاہم غیرمعمولی طور پر تعجب کی یہ بات تھی کہ سبکدوش ہونے والے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے ملک کی ڈیڑھ سو سالہ روایات کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے مقابلے میں نئے اور منتخب صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت نہیں کی… حالانکہ روایت یہ چلی آ رہی ہے اور امریکی اسے فخر کے ساتھ بیان کرتے ہیں… سابق اور نیا منتخب صدر خواہ اس کی پارٹی کی مخالف جماعت سے تعلق رکھتا ہو ہاتھ میں ہاتھ دے کر کانگریس (امریکی پارلیمنٹ) کے ہال میں داخل ہوتے ہیں۔ یوں زبان عمل سے آئین کی بالادستی اور جمہوری عمل کے شفاف طریقے سے جاری رہنے پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں… لیکن اس مرتبہ ایسا نہیں ہوا… اسی پر اکتفا نہیں شکست زدہ سابق صدر نے تمام روایات کو پامال کرتے ہوئے گزشتہ 3 نومبر کی شب اور اس کے دوسرے اور تیسرے روز جبکہ ہر کہ و مہ پر واضح ہو چکا تھا کہ جوبائیڈن انتخابی معرکہ جیت چکے ہیں لیکن چار سال سے کرسی صدارت پر براجمان ڈونلڈ ٹرمپ نے روایتی فراخدلی کے ساتھ اپنی شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا… انہوں نے ایک اور صحت مندانہ روایت کو پائوں تلے روند کر انہیں مبارکباد کا ٹیلیفون کرنے سے بھی احتراز سے کام لیا… ڈنکے کی چوٹ اعلان کیا ان کے خلاف دھاندلی کا ارتکاب ہوا ہے اور یہ کہ وہ نتائج کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں… وہائٹ ہائوس خالی نہیں کریں گے… اپنا مقدمہ پُرزور طریقے سے لڑیں گے… یوں اس حد تک برملا انکار کی صورت اور منفی انداز میں نئی تاریخ رقم ہوئی… پورا امریکہ اور بیرون دنیا کے اندر انتخابی عمل پر گہری نگاہ رکھنے والے مبصرین حیران تھے کہ شکست زدہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پچاس میں سے کسی ایک ریاست کے اندر اپنے خلاف دھاندلی کے قطعی ثبوت یا واضح شواہد میں سے ایک بھی پیش نہیں کر سکے جبکہ نتائج کو نہ تسلیم کر کے انہوں نے تمام کے تمام امریکی آئین اور سوا سو سالہ جمہوری عمل کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں… بظاہر کوئی چیلنج کرنے والا نہیں تھا… کیونکہ اپنے ملک کے منتخب صدر بظاہر ابھی تک موصوف ہی تھے کسی نے پوچھا حضرت یہ کیا تماشا ہے… فرمایا تماشا تو میرے ساتھ ہوا ہے… میں سب کو مزہ چکھائوں گا…

شکست زدہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اصل طاقت حقیقت میں یہ تھی کہ انہیں اپنے حریف جوبائیڈن کے مقابلے میں کم از کم 7.4 ملین ووٹ پڑے تھے۔ یہ سب کے سب تقریباً اکثریتی سفید فام آبادی نے ڈالے… ٹرمپ صاحب کو ان پر بڑا ناز تھا… وہ اپنے آپ کو ملک کی اکثریتی اور نمائندہ گوری آبادی کا منتخب کردہ سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں باہر آ کر آباد ہونے والے اکثر لوگوں کے مقابلے میں امریکی عوام کا زیادہ اعتماد حاصل ہے… جبکہ ان کے نزدیک بظاہر کامیابی کا اعلان کرنے والے جوبائیڈن کو باہر سے آ کر آباد ہونے والے غیرسفید فاموں کا اعتماد حاصل ہے… جنہیں ڈونالڈ ٹرمپ نے حقیقی امریکی شہری تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا… اس دعوے کے برعکس امریکہ کا 1789 سے نافذ چلا آنے والا آئین دستور مملکت سے تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے… موجودہ دنیا کے اس پہلے تحریری آئین کے نزدیک ہر وہ شہری جو ملک کے اندر قیام اور عرصے کی کچھ شرائط پوری کر چکا ہے… شہری قرار دیے جانے کا مجاز ہے… ووٹ دے گا اور اگر پیدائشی امریکی ہو (یعنی سرزمین امریکہ پر پیدائش ہوئی ہو) تو صدارت کے عہدے کے لیے بھی ووٹ طلب کرنے کا حق رکھتا ہے… اگرچہ پہلے یہ صرف قول 

تھا لیکن کالوں نے لمبی جدوجہد کے بعد اس کی عملی حقیقت منوا لی… یوں خالص نسلی اور نسبتاً کم تعلیم یافتہ گورے امریکی ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ آن کھڑے ہوئے… کھل کر ٹرمپ کا ساتھ دیا… لیکن اعلیٰ تعلیم یافتہ باشعور اور نسبتاً متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے امریکیوں کو یہ صورت حال ہرگز قبول نہ تھی… وہ اسے اپنے لیے باعث شرم محسوس کرتے تھے… ان کے ساتھ کالی اور دیگر اقلیتی آبادیوں کی بڑی تعداد بھی آن کھڑی ہوئی… میڈیا کے نمائندوں میں سے عالمی شہرت رکھنے والے اخبارات اور چینلوں (مثلاً نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، ٹائم میگزین اور سی این این و دیگر چینلوں نے بھرپور طریقے سے اس رائے کا ساتھ دیا… مستزاد بات یہ تھی کہ امریکی آئین کا لفظ لفظ اور جملہ جمہوری روایات باآواز بلند نومنتخب صدر جوبائیڈن کی پشت پناہی کررہی تھیں… مگر مقابلے میں ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے کثیر ساتھی بھی اپنی ضد پر اڑ گئے… نوبت با ایں جارسید کہ تقریب حلف برداری سے دو ہفتے قبل بدھ 6 جنوری کو ٹرمپ اور ری پبلکن پارٹی میں ان کے حامیوں نے امریکی کانگریس کے مرکزی مقام CAPITOL HILL کا گھیرائو کر لیا… یہ مظاہرہ اگر پُرامن ہوتا تو کسی د تک گوارا تھا مگر ان میں معتد بہ تعداد مسلح افراد کی بھی تھی… یہاں تک کہ کئی ایک ریٹائرڈ فوجی افسر اور جوان بھی گوری نسل کی نمائندگی کرنے والے ٹرمپ کے حق میں پورے مزاحمتی جذبوں اور ارادوں کے ساتھ سینہ سپر نظر آ رہے تھے… نتیجتاً قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ٹکرائو نے جنم لیا کئی لوگ جانوں سے ہاتھ گنوا بیٹھے… ایسا واقعہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا… امریکی آئین اور سوا دو سو سالہ جمہوری روایات رکھنے والی پوری عمارت زمین بوس ہوتی نظر آ رہی تھی… آئین کی روح تلملا رہی تھی… امریکیوں کے بتائے ہوئے سیاسی و جمہوری تہذیب کے تمام سانچے مٹی کے کھلونوں کی مانند خاک میں ملتے نظر آ رہے تھے… دنیا پر یہ حقیقت واضح ہو رہی تھی کہ امریکی اس کے دانشوروں اور تحقیق کاروں کے دعاوی کے علی الرغم اندر سے نسل پرست ہے… یہ وہ مرحلہ تھا جب آئین کے الفاظ اور روح نے کروٹیں لینا شروع کر دیں… جیتنے والے صدر جوبائیڈن کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی کانگریس کے ایوان بالا یعنی ایوان نمائندگان میں اکثریت ہے… اس کی خاتون سپیکر اور بے باکی میں اپنا ثانی نہ رکھنے والی نینسی پولیسی نے صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے (Impeachment) کی تحریک پیش کر دی اس میں ٹرمپ صاحب کے آئین مخالف اور جمہوریت دشمن طرزعمل کی بار بار مذمت کی گئی… یہاں تک ٹرمپ کی اپنی جماعت ری پبلکن پارٹی کے دس ارکان نے بھی کھلے ایوان کے اندر اپنے صدر کے خلاف ووٹ دے ڈالا… یہ ٹرمپ صاحب کی چار سالہ مدت میں ان کے خلاف مواخذے کی دوسری تحریک تھی جو باقاعدہ منظور کی گئی… یوں ان صاحب کے آئین دشمن طرز عمل کی وجہ سے انہیں اپنے ملک کی تاریخ کے بہت بڑے ولّن کا درجہ حاصل ہو گیا… انہوں نے اعلان کیا اس سب کے باوجود وہ تقریب حلف برداری میں شریک نہیں ہوں گے تو سب نے کلمہ شکر ادا کیا… موصوف گھر چلے گئے ہیں… اگرچہ اعلان کر کے گئے ہیں اپنی جنگ جاری رکھیں گے مگر انہیں جس حد تک مذمت کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کے بعد یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ چار سال بعد ری پبلکن پارٹی انہیں ایک مرتبہ پھر ٹکٹ جاری کر کے اپنی مزید رسوائی کا سامان کرے گی…

اس سارے قضیے میں پوری دنیا کے اندر آئین کی بالادستی اور جمہوری عمل پر یقین رکھنے والوں بالخصوص ہم اہل پاکستان کے لیے کیا سبق پوشیدہ ہے… پہلی بات یہ پورے تنازع کے دوران امریکی فوج (جوبلاشبہ دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت ہے) غیر جانبدار رہی… اس کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جن ریٹائرڈ افسروں اور جوانوں نے کیپٹل ہل کے مظاہروں میں حصہ لیا انہوں نے نہ صرف آئین و جمہوریت بلکہ نوکری کے حلف سے بھی بے وفائی کی لہٰذا ان کے خلاف مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا جاتا ہے… فوج کسی صدر یا جماعت کی بجائے آئین اور منتخب اداروں کی پشت پر کھڑی تھی… دوسرا پہلو یہ سامنے آیا کہ امریکہ کا منظم ترین داخلی جاسوسی کا نظام اور اس کی طاقتور تنظیم ’ایف بی آئی‘ جو نائن الیون کے بعد ’سی آئی اے‘ کے ساتھ ہوم لینڈ سکیورٹی کے وسیع نظم میں جوڑی جا چکی ہے کہیں نظر نہ آئی… اس نے کسی کے ساتھ خفیہ یا کھلے روابط قائم نہ کیے سرگوشیاں نہ کیں اور حق یا مخالفت میں مشورے بھی نہیں دیئے کسی جماعت کو توڑ کر اندر سے گروپ بازی کا خیال تک مشوروں میں نہ آیا… کسی نوعیت کی پس پردہ سازش یا جوڑتوڑ کا الزام نہیں لگایا گیا… ٹرمپ اور اس کے ساتھیوں نے شکایت کی نہ جوبائیڈن کے حامیوں نے اپنی ایجنسیوں کی کارروائیوں پر کوئی الزام عائد کیا… انتہائی باخبر میڈیا نے اس ضمن میں قیاس آرائیوں کا بازار بھی گرم نہ کیا… سی آئی اے جو کام اور حرکات دنیا بھر میں کرتی ہے انہیں اپنے ملک میں کرنے کی جرأت نہ کی… سوشل میڈیا نے ’درون مے خانہ‘ قسم کی خبریں یا بے پرکیاں نہیں اڑائیں… آج کل جس ففتھ جنریشن وار کا بہت چرچا ہے اور صدر ٹرمپ اپنی 2016 کی انتخابی مہم میں اس حربے سے بہت کام لیا تھا وہ بھی کم کم نظر آئی… ہر سو اس بات کا چرچا تھا کہیں آئین کی بالادستی اور حرمت کو ٹھیس نہ آن پہنچے… جمہوری روایات سلامت رہیں اس کے سانچے ٹوٹنے نہ پائیں… ان کی بھرپور حفاظت قومی فریضہ ہے جس کی ادائیگی ہر باشعور امریکی کی ذمہ داری ہے… صدر جوبائیڈن نے بھی عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد جو پہلی تقریر کی اس میں برملا الفاظ میں واضح کیا ملک کا آئین ہماری سب سے بڑی طاقت ہے… اس کی ایک ایک شق کی الفاظ اور روح کے ساتھ پابندی اور پیروی کی جائے گی… یوں امریکہ کے اندر واقعی ان معنوں میں نئی تاریخ رقم ہو گئی کہ آئین اور جمہوریت کی جن دیواروں نے ڈونالڈ ٹرمپ جیسے شتر بے مہار کی لن ترانیوں کی وجہ سے ڈگمگانا شروع کر دیا تھا قوم کے باشعور طاقتوں اور منتخب نمائندوں کی اکثریت نے کس طرح یکجان ہو کر ان کا دفاع کیا… انہیں مضبوطی کے ساتھ تھام لیا… یعنی ایسی تمام حرکات اور سازشیں ہم نے تیسری دنیا کے ممالک بالخصوص آمریت زدہ حکومتوں کے لیے مخصوص کر رکھی ہیں اپنے یہاں ان کا سایہ بھی نہ پڑنے پائے… پاکستان کے حالات پر نگاہ ڈالیے یہاں بھی ایک شتر بے مہار آئین کو کھلونا سمجھ کر اس کی بنیادوں میں پانی ڈال رہا ہے… اس دوران میں ہمارے مقتدر طبقات یا حاضر سروس جرنیل کیا خدمات سرانجام دے رہے ہیں… ایجنسیاں کس قسم کا کھیل کھیل رہی ہیں… ججوں کی ایک تعداد کس کی تابمع مہمل بنی ہوئی ہے… ان کا تذکرہ بچے بچے کی زبان پر ہے… گلی گلی تبصرے ہو رہے ہیں مگر کسی کے اندر احساس زیاں نہیں رہا… حالانکہ ہمارا متفق علیہ آئین محض جمہوری نہیں اسلامی بھی ہے… عوام کی حکمرانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کا بھی اعلان کرتا ہے… مقدس قومی دستاویز ہے… یہی ہماری حرماں نصیبی ہے…


ای پیپر