Political turmoil, PTI government, price, petroleum products, electricity
24 جنوری 2021 (12:19) 2021-01-24

سیاسی ہنگاموں کے بیچوں بیچ حکومت کے عوام پر بے رحمانہ وار جاری وساری ہیں۔ راوی کہیں بھی چین لکھنے سے قاصر ہے۔ پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی مہنگائی کا تحفہ نئے سال کے چڑھتے ہی دو مرتبہ دیا گیا۔ نتیجتاً سبھی کچھ عوام کی پہنچ سے باہر کرنے کا سامان ہوگیا۔ مظاہروں کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔ بدانتظامی اپنے عروج پر ہے۔ پی آئی اے کی تباہی کے اقدامات اور عوام کا اس پر اعتماد چکناچور کرنے کا نیا شوشا ملائشیاء میں چھوٹا۔ عدم ادائی واجبات کا ملبہ مسافروں پر جا پڑا۔ گھنٹوں پھنسے رہے۔ رل کر بالآخر اسلام آباد پہنچے تو ان کا سامان دبئی میں تھا! چینی کے مسلسل بحران اور آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے عوام کو روکھی پھیکی کھانے پر مجبور کردیا۔ یوں تو یہ بھی عوام دوستی ہی کی ایک جہت ہے۔ چینی نہ ہوگی ذیابیطس کنٹرول میں رہے گی۔ بس قوم نے گھبرانا نہیں ہے کیونکہ ہر قدم انہی کے مفاد میں اٹھایا جارہا ہے۔ سیاسی گرماگرمی میں، سوشل میڈیا پر چلتے تلخ بیانوں کی بازگشت ہمیں ایک محاورے کی یاد دلاتی ہے۔ کبھی کہا جاتا تھا، کلام الملوک ملوک الکلام۔ یعنی بادشاہوں کا کلام بھی نہایت اعلیٰ ہوتا ہے۔ کلام کی دنیا کی بادشاہی پر گویا فائز ہوتا ہے۔ تاہم آج کے بادشاہ اور ان کے کلام ملاحظہ ہوں۔ ٹرمپ، بورس جانسن، موودی کے منہ سے جھڑنے والے پھول ہوں یا ہمارے والوں کے، دنیا کے بدبودار پھولوں کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ جن کے نام لکھتے ہوئے بھی ناک بند کرنی پڑتی ہے۔ مثلاً بدبودار لاش لِلی (Stinking Corpse Lily )، مردہ گھوڑا لِلی، مشرق سکنک بند گوبھی، مغربی سکنک بند گوبھی (سکنک امریکی جانور ہوتا ہے جو خطرہ دیکھ کر ناقابل برداشت بدبو پھینکتا ہے)۔ اب دنیا کو مشرقی (مودی) مغربی (ٹرمپ) سکنک بند گوبھی پھولوں کا سا بدبودار کلام اور اسی بو باس کی سیاست اور تہذیب کا سامنا ہے۔ یہ اکیسویں صدی کا کلام الملوک ہے!

ٹرمپ نے تو اچانک امریکا کے چھکے چھڑا دیے ۔ مسلح مظاہرے 50 ریاستوں کے مرکزی شہروں میں متوقع تھے۔ 16 جنوری تا 20 جنوری بائیڈن کی تاجپوشی تک امریکی جمہوریت کی جان سولی پر ٹنگی رہی۔5 2ہزار مسلح نیشنل گارڈ واشنگٹن کی سڑکوں پر غیرمعمولی طاقت کا مظاہر ہ کرنے کو موجود رہے۔ ٹیکساس  نے 16 تا 20 جنوری اپنا کیپٹل بند رکھا ۔  واشنگٹن چھاؤنی بنا ہوا ہے۔ بش نے افغانستان پرحملے کو ’صدمہ اور ہیبت‘ (Shock and Awe ) کا فخریہ نام دیا تھا۔ اب گورے کہتے تھے کہ امریکا ’شاک‘ کی کیفیت میں ہے! جو کچھ 6 جنوری کو کیپٹل ہل واشنگٹن میں ہوا، امریکی مغربی، جمہوری تاریخ کا سیاہ ترین باب تھا جسے AFP  نے لکھا: ’جمہوریت اس طرح مرتی ہے‘۔ منتخب نمایندے میزوں کے نیچے جا چھپے۔ سیکورٹی افسران نے انہیں گیس ماسک پہننے اور فوری چھپ جانے کو کہا۔ ٹرمپ اور امریکا کے جھنڈے لہراتے خونخوار انداز میں چڑھے چلے آنے والے مظاہرین یوں حملہ آور ہوئے گویا یہ واشنگٹن نہیں، عراق یا افغانستان ہے۔ بیرئر توڑے، اسپیکر کی کرسی پر چڑھے، رات تک پولیس مظاہرین مابین جھڑپیں جاری رہیں۔ فیض کی شاعری بھسم تھی، سب تاج اچھالے جائیںگے، سب تخت گرائے جائیںگے! وائٹ ہاؤس کی دھرتی دھڑدھڑ دھڑک رہی تھی۔ آنسو گیس، کڑکڑ کڑک رہی تھی۔ ٹرمپ مسند چھوڑنے پر راضی نہیں۔ امریکا، اس کے سفید فام نسل پرست جتھوں (امریکی RSS ) صہیونی، حتیٰ کہ ہندو فاشست، عیسائی مبلغ سبھی ٹرمپ کو اپنا مسیحا بنائے، کچھ کر گزرنے کو ہیں۔ حملہ آوروں میں پولیس اور فوجی، نیز ریٹائرڈ افسران بھی شامل تھے۔ حملہ آور ہمراہ پھانسی دینے کو سولی مع پھندا لیے ہوئے تھے۔ اب دھڑادھڑا خود امریکی دہشت گرد امڈ رہے ہیں مزا چکھاتے۔وقتی طور پریہ دب گیاہے۔تاہم لاوا تو پک رہاہے۔ اب اپنے گھر یہی جنگ لڑو! یہ سنیٹرز اور کانگریس ممبران تک پہنچ کر قتل وغارت کی تیاری سے آئے تھے تاکہ ایمرجنسی کا نفاذ اور مارشل لاء تک نوبت پہنچے۔ یہ سارے مناظر عین وہی ہیں جو باربار مسلم دنیا میں دیکھے دکھائے گئے۔ اب اس گڑھے میں امریکا گر کر زخمی ہوا پڑا ہے۔ سینیٹر مٹ رومنی تو تقریباً رو ہی پڑے کہ ’ساری دنیا میں یہ چرچا ہو رہا ہے جو شرمناک دل شکستگی کا سامان ہے۔ میں ہل کر رہ گیا ہوں۔ میرے 25 پوتے نواسے اگلی نسل ٹی وی پر یہ سب دیکھ رہے ہیں۔‘ (جو امریکی سیاسی داداؤں کے لیے تکلیف دہ شرمساری ہے!) ٹرمپ کو تم نے خود گریٹر اسرائیل کے ایجنڈے پورے کرنے کے لیے مامور کیا، کھلی چھٹی دی۔ مشرق وسطی کی سیاست میں یہودی مفادات کی تکمیل کے لیے ٹرمپ نے جس کامیابی سے سعودی عرب، امارات کا اسلامی چہرہ مسخ کیا، خلیجی سیاست میں تہلکہ مچائے رکھا، فلسطین پر قبضہ اپنی آخری انتہاؤں کو چھو رہا ہے۔ درپردہ ٹرمپ تو صہیونیت کا ہیرو اور اسرائیل کا محسن اعظم ہے۔ تاہم بوتل سے جن نکالا تو تھا، اب واپس ڈالنا مصیبت ہوگیا۔ ٹرمپ نے بلیک واٹر کے 4 قاتلوں کو معافی دے دی جنہوں نے بغداد کے پرہجوم اسکوائر میں عوام پر فائر کھول دیا تھا۔ 17 عراقی شہید 17 زخمی ہوئے تھے۔ اب یہی سورما ’ٹرمپ فورس‘ کے 

کام آئیںگے۔جاتے جاتے مزید74 مجرم رہا کر دیئے۔ واشنگٹن کے حملہ آور سینیٹرز، کانگریس مین کا خراج وصول کرنے آئے تھے، دل کی دل ہی میں رہ گئی۔ مسلم دنیا کو آگ اور خون میں نہلانے والے بش نے بھی شدید رنج وغم کا اظہار کیا! جمہوریت کا جنازہ تھا بڑی دھوم سے نکلا! جنازہ پڑھانے کو عیسائی ایوینجلسٹ، مذہبی علامات اور انجیل ہاتھ میں لیے خدائی حمد کرتے وہاں موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق واشنگٹن پہنچنے کے لیے چرچوں نے مالی امداد فراہم کی۔ پیش نظر اس مسیحا (ٹرمپ!) کے ذریعے انقلاب کی توقع تھی! عجب تماشا یہ بھی ہے کہ ہندو فاشسٹ بھی ٹرمپ کے ایسے پجاری ہیں کہ اسے صرف ووٹ نہیں دیے، مذہبی وظیفوں کے ذریعے اس کے جیتنے کی دعائیں بھی الاپیں! (اسی لیے ہارا!)

 سیاسی دیوانگی کے مناظر ہی کچھ کم نہ تھے، کورونا کے بعد امریکا میں اضطراب، بے چینی، ڈیپریشن، بے خوابی بہت بڑھ گئی ہے۔ لاک ڈاؤن کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ تنہائی، گھریلو تشدد، معاشی غیریقینی صورت حال، خاندانی پشت پناہی عنقا، نہ ہی سرکاری صحت سروس مددگار۔ ذہنی مسائل کے حل اور مدد کے لیے مریض کو کم ازکم 28 دن اور زیادہ ہوتو 90 دن انتظار کرنا پڑتا ہے۔ خاک ہوجائیںگے ہم تم کو خبر ہونے تک! اور خودکشیاں کرتے ہو بھی رہے ہیں۔ اگرچہ ذہنی شفا ہر مریض کی شہ رگ سے قریب ہے۔ ’ہم اس کی رگِ گردن سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں‘۔ (ق۔ 16) ’تم خواہ چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے، (اللہ کے لیے یکساں ہے) وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے، حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر ہے۔‘ (الملک۔ 13,14) مگر ہم قرآنی علم کے انمول خزانوں پر سانپ بنے بیٹھے، خود بھی ذہنی مریض ہوچکے ہیں۔ سب سے پہلے حرم بند کیا۔ بازار، کلب، سینما گھروں کی پابندیاں تو ختم ہوگئیں، اللہ کے گھروں پر برقرار ہیں۔ ویکسین سے ساری امیدیں وابستہ ہیں۔ جبکہ دوا اور دعا یک جا ہوں تو شفا کا نسخہ مکمل ہوجاتا ہے۔ بھارت میں 52، اسرائیل میں13 ویکسین لینے والوں میں طبی پیچیدگیاں پیدا ہوگئیں جنہیں ویکسین دے کر مشاہدے کے لیے روکا گیا تھا۔ جو گھر چلے گئے ان کا خدا حافظ!ناروے میں29 مرگئے  !  ہمارے ہاں حکمران خود کورونا بنے عوام کو نڈھال کرنے کو کافی ہیں۔ عوام پتھرائے پڑے ہیں۔ غم ہے نہ اب خوشی ہے، امید ہے نہ یاس۔ سب سے نجات پائے زمانے گزر گئے! بھارت کے ہاتھوں دگرگوں حالت میں کشمیری مجاہدہ آسیہ اندرابی کے لیے شکوہ سنج لوگ یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ جو قوم اور حکمران امریکا کی تمامتر فدویت نبھاکر عافیہ کے لیے تنکا نہ ہلا سکے وہ بھارت جیسے دشمن سے اپنی بہن آسیہ کے لیے کیا کریںگے۔ بیان جاری کردیں اور بس! یہی کشمیر سے ہمارا رشتہ رہ گیا ہے۔ تفو بر تو اے بے بسی!


ای پیپر