Broadsheet case, Panama II, PPP, PML-N, PTI
24 جنوری 2021 (11:46) 2021-01-24

براڈ شیٹ سکینڈل کے بعد پاکستانی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے یہ تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل ہے۔جومنظرعام پر آیاہے۔ پاکستان ، برطانوی ثالثی عدالت میں براڈ شیٹ کیخلاف مقدمہ ہار گیااور موجودہ حکومت نے 28 ملین ڈالر جرمانے کے طور پربھی ادا کیا۔ یہ معاملہ سامنے آیاتو کہا گیا ، موجودہ حکومت اور ریاستی اداروں نے عوامی ٹیکس کا پیسہ کمپنی کو دے دیا جبکہ 28ملین ڈالر ادا کرنے کی اصل وجہ ہے کہ نواز شریف کی جائیدادیں پکڑی گئی ہیں ، جن اثاثوں کا سراغ براڈ شیٹ نے لگایا۔انکی تصدیق برطانوی عدالت میں ہو چکی ہے تبھی ثالثی عدالت نے کہا ، براڈ شیٹ کا بیس فیصد ادا کریں کہ انہوں نے اپنا کام کر دیا ہے۔

2000 میں نواز شریف کے کل اثاثوں کی مالیت ، کاروبار کی 288 ملین ڈالرز ، کل اثاثوں کی 805 ملین ڈالرز ، پاکستان میں موجود اس وقت کے اثاثوں کی مالیت 622 ملین ڈالرز ، سعودیہ میں 54 ملین ڈالر ، یو اے ای میں 24 ملین ڈالر ، دیگر 105 ملین ڈالر تھے۔ ثبوت موجود ہیں ، 2001 تا 2002 شہباز شریف کی جانب سے نیب کو 44 کروڑ کی ادائیگی کی گئی ، جلا وطنی سے واپسی پر سرینڈر کئے گئے دیگر اثاثوں کے ساتھ ساتھ یہ رقم بھی اس خاندان کو واپس ادا کر دی گئی۔ 

یہاں خیال رہے یہ مکمل دولت نہیں ، صرف ایک کمپنی براڈ شیٹ نے نواز شریف کی دولت کا پتا لگایا ہے۔ 

براڈ شیٹ اور نیب کے مابین مشرف دور میں 20جون 2000 کو یہ معاہدہ ہوا۔ براڈ شیٹ نے اثاثے نکال کر ثبوتوں کیساتھ پیش کئے تو این آر او ہو گیا ، سعودیہ کے دباؤ پر۔ براڈ شیٹ نے کہا ، این آر او آپکا ہوا ہے ، ہمارا حصہ ہمیں دیں۔ نیب نے کہا مک مکا ہو گیا ہے جس پربراڈ شیٹ نے برطانوی عدالت میں کیس دائرکر دیا۔ شوکت عزیز ، آصف زرداری ، نواز شریف ادوار کی حکومتیں معاملہ لٹکاتی رہیں ، جولائی میں فیصلہ آیا ، اسوقت کیئر ٹیکر سیٹ اپ تھا ، 31 دسمبر 2020 کو ادائیگی کر دی گئی۔ 

 اپنے مفاد کیلئے پاکستانی سیاستدانوں کو استعمال کرنے والے ممالک کے نام نہ لو ، ناراض ہو جائیں گے ، کبھی کسی اور ملک نے بھی سوچا ہے ، 

ایسا نہ کرو پاکستان ناراض ہو جائے گا۔ مجرموں کیساتھ ڈیل چھپا لو ، بہت سے اوروں کے نام سامنے آ جائیں گے۔

پاکستان ہر دو نمبر سیاست دان ، جج ، جرنیل ، بیورو کریٹ ، مجرم کو پالتا رہا ہے ، آج رزلٹ سامنے ہے۔ 

آج بھی سزا یافتہ مجرم دندناتے پھر رہے ہیں ، کوئی پوچھنے والا نہیں ؟ کسی کو کورٹ بلا رہی ہے ، وہ کہتا ہے میں 25 ہزار مدارس کے بچوں کیساتھ جاؤنگا۔۔۔ جس نے جرم کیا ہے ، کتنا ہی طاقتور کیوں نا ہو ، انجام ہونا چاہئے۔۔۔ کمزور پر ہر قانون لاگو ہوتا ہے ، طاقتور مجرم کیلئے قانون ہی رکھوالا بن جاتا ہے۔ ان سب کو سیاست نہیں کرنے دینی چاہئے ، جیلوں میں ہونا چاہئے ، مگر یہ پاکستان ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے باہر احتجاج میں پی پی ، پی ڈی ایم سے دور رہی اندرخانے اختلافات کے نتیجے میں ٹوٹ پھوٹ ہوئی اور پی پی علیحدہ ہو چکی ہے جبکہ فضل الرحمن کو اداروں کی جانب سے پیغام دیا جا چکا تھا ، آئین و قانون کی حد میں رہیں۔مدرسوں کے طالب علموں کو دعوت نامے نہ دیں ، انتشار ، فساد کی صورت میں قانون سختی سے حرکت میں آئے گا۔جب انڈر ٹیکنگ ہو چکی تب احتجاج کی اجازت ملی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ن لیگ اورپی پی کو 18جنوری کوفارن فنڈنگ کیس میں طلب کیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا ، یہ کچھ بھی جواب دے دیں ، غلط یا صحیح ، جمع کرواتے ہی پکڑے جائیں گے ، عمران خان تسلیم کر چکے ہیں۔ ، الیکشن کمیشن آف پاکستان کا قانون فارن فنڈنگ پر سیاسی جماعت کو کالعدم کر سکتا ہے ، یہ تینوں بڑی جماعتیں جانتی ہیں۔

 جے یو آئی کا اسرائیل ریلی نکال کر معصوم لوگوں کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے۔ کوئی پوچھے کہ ریلی کیوں نکالی جا رہی ہے۔جبکہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کئی دفعہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا کیونکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ بھی نہیں مانتے تھے۔کیا اس دور حکومت میں کوئی بندہ اسرائیل گیا۔ جواب ہے نہیں۔۔ پھر مولانا فضل الرحمان آپ یہ بتائیں کہ اجمل قادری کون تھا۔ دنیا جانتی ہے اس کا تعلق آپکی جماعت سے تھا وہ ن لیگ کے دور میں اسرائیل کا دورہ کرنے کیوں گیا۔۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کوئی ایسا فیصلہ فی الحال نہیں دے گی ، جس سے پاکستان غیر مستحکم ہو جائے ، یہ معاملہ مارچ ، سینیٹ الیکشن کے بعد تک چلے گا۔۔۔ بہرحال احتجاج کے بعد پی ڈی ایم کے پلے جو تھوڑی بہت عزت رہ گئی تھی ، وہ بھی گئی۔۔۔ براڈ شیٹ معاملہ جیسے جیسے آگے بڑھے گا ، بہت سے پردہ نشینوں کے نام سامنے آنے والے ہیں۔ یہ بہت بڑا اور برا سکینڈل ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ بہت اچھا اقدام ہے کہ انہوں نے براڈ شیٹ انکوائری کمیٹی کی منظوری دی جس کے سربراہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس عظمت سعید ہونگے۔۔۔انکو منتخب کرنے کی بڑی وجہ ایمانداری ہے انہوں نے ماضی میں پانامہ کیس میں بہت اچھی کارکردگی دکھائی تھی۔ اب یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ کیس مستقبل کا پانامہ ٹو ثابت ہونے والا ہے۔۔۔

اس انکوائری کمیٹی بنانے کا مقصد کسی پہلو یا شخص کو نظر انداز نہ کرنا ، ملک کو نقصان پہنچانے والوں کو بے نقاب کرنا اور براڈ شیٹ کے ساتھ معاہدہ ہونے سے لے کر آج تک یعنی 2000 سے 2020 تک کے تمام معاملات کی تحقیقات شامل ہے۔

شروع میں براڈ شیٹ کا معاہدہ کرنے کا ارادہ تو اچھا تھا مگر بعد میں نیت بدل گئی اور اسکو این آر او کے لیے استعمال کیا گیا۔۔

میرے خیال میں براڈ شیٹ کی رقم کی ادائیگی کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں لیا گیا۔ پاکستان کے ذمہ واجب الااد رقم پر روزانہ کی بنیاد 5000 ڈالرز جرمانہ لگ رہا تھا اور یہ رقم روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی تھی۔اس لیے پاکستان کی جانب سے رقم کی ادائیگی کے فیصلہ کو جلدبازی کا فیصلہ کہنا بالکل درست نہیں ہے۔۔

ایک بات یاد رکھنے والی ہے اب کوئی احتساب سے نہیں بچ سکتا چاہے ریٹائرڈ جنرل ہوں یا ریٹائرڈ جسٹس یا بیوروکریٹ اس کا دورانیہ 20 سال ہے اس کے بعد اس کا کچا چٹھادنیا کے سامنے ضرور آئے گا۔۔اب دنیا ڈیجیٹل ہوچکی ہے۔ بیس سال کا دورانیہ کم ہو سکتا ہے۔ جو مرضی ہو پاکستان کے غریب عوام کی غربت میں اضافہ کرنے والوں کو عبرت کا نشان بنانا چاہیے۔۔


ای پیپر