لاہور کچراگھر کیوں بنا؟
24 جنوری 2021 2021-01-24

میں نے صحت اور تعلیم کے ساتھ ساتھ برس ہابرس لاہور کے تین بڑے مسائل پر بات کی، ایک پبلک ٹرانسپورٹ دوسراٹریفک اور تیسرا صفائی۔ ہم بہت ہی بددیانتی اورتعصب سے کام لیں گے اگر ملک کے دوسرے بڑے اور تاریخی اہمیت کے شہر میں ان مسائل کے حل میں سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کوکریڈٹ نہیں دیں گے۔ انہیں جلاوطنی ختم ہونے کے بعدحکمرانی کے دس برس ملے جومیگا پراجیکٹس کی تکمیل میںمعاون ثابت ہوئے ۔ میں نے ان جلسوںکی کوریج کی ہے جن میں وہ لاہور کو پیرس اور استنبول بنانے کے وعدے کئے کیا کرتے تھے اورہم اگر آج کے لاہور کو دیکھتے ہیں تو ہمیں بہت کچھ وہ ملتا ہے جو پیرس اور استنبول میں ہے۔ سیاحت کو دیکھا جائے تو گریٹر اقبال پارک میںبادشاہی مسجد، شاہی قلعے اورمینار پاکستان کو یکجا کیا جا چکا ہے۔ لاہور کی سڑکوں پر ٹورسٹ بس چلتی ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ میں میٹرو بس اور الیکٹرک ٹرین کے ساتھ ساتھ شہر بھر کی آبادیوں کو ان سے جوڑنے کے لئے سپیڈو بس موجود ہے۔ میں اس تقریب میں بھی موجود تھا جب لاہور میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لئے محمود بوٹی کے مقام پر ایک بڑے منصوبے میں شجرکاری کی جا رہی تھی۔دلچسپ امر یہ ہے کہ میں نے وہاں جو پودا لگایا اس کی ویڈیو بعد ازاں حکومت سندھ کے ایک اشتہار میں استعمال کی گئی۔

ایک طویل عرصے کے بعد لاہور میں کچرے کے ڈھیر نظر آ رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ لاہور میں روزانہ پانچ ہزارٹن کوڑا اٹھانے والی ترک کمپنیوں کوفارغ کیا جا چکا ہے۔ ان ترک کمپنیوں کے ساتھ پی ٹی آئی کے وزیروں، مشیروں کا بغض کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ وہ ان ترک کمپنیوںکو شہباز شریف کی ذاتی کمپنیاں سمجھتے ہیں اور ان کا ذکر اسی نفرت اور حقارت کے ساتھ کرتے ہیں جیسے چوہدری شوگرملز کا کیا جا سکتا ہے۔ ان کے خلاف ویسا ہی پروپیگنڈہ ہوتا ہے جیسا کہا جاتا ہے کہ اس شوگر ملز میں بھارتی کام کرتے تھے ، اسی طرح البیراک اور اوُزپاک نے بھی لوٹ مار کی۔ مجھے یاد ہے کہ جب ان ترک کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا تو ہمیں بتایاگیا تھا کہ انہوں نے عالمی سطح پر دیگر ممالک میں کئے گئے معاہدوں کے مقابلے میں ہم لاہوریوں کے ساتھ ففٹی پرسنٹ رعایت پر معاہدہ کیا۔ میں اگر چند لمحوں کے لئے یہ مان بھی لوں کہ البیراک اور اوزپاک زائد پیسے لے رہی تھیں تو اس امر کو بھی نفی نہیں کرسکوںگا کہ وہ لاہور کو صاف ستھرا رکھ رہی تھیں۔کوڑاکرکٹ اٹھایا جا رہا تھا اورسڑکیں اسی طرح دھوئی جا رہی تھیں جیسے میں نے استنبول کے سیاحتی مقامات پر دھلتی ہوئی دیکھی تھیں۔

پی ٹی آئی نے اقتدار سنبھالنے کے چند ماہ کے بعد ہی البیراک اور اوز پاک کی پیمنٹس کم کر دی تھیں جس سے یہ کمپنیاں مالی مشکلات کا شکار ہو گئیں ۔ان اداروںمیں تنخواہیں لیٹ اور کام سست ہونے لگا۔یہ امرواضح ہوچکا تھا کہ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی جس کی کمانڈ اب پی ٹی آئی والوں کے ہاتھ میں تھی ابھی رخصت ہونے والے برس کے آخری مہینے دسمبر کے بعد انہیں مزید کام نہیں دے گی۔ اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کم از کم تین سے چھ ماہ پہلے لاہورکی صفائی کے متبادل نظام پرکام شروع کر دیا جاتا مگر ہماری حکمران جماعت گفتارکی غازی ہے کردارکی نہیں۔ وقت گزرتارہا اور اکتیس دسمبرآنے سے پہلے دس دسمبر کو ہی ان کمپنیوں کی بس ہو گئی۔ ایک موقف یہ ہے کہ اڑھائی ارب کی رقم واجب الادا ہونے کے بعد اب گاڑیوںمیں پٹرول کے پیسے بھی نہیں رہ گئے تھے جبکہ دوسری طرف دعویٰ تھا کہ ان کمپنیوں کو چھ سے سات ارب روپے اضافی ادا کئے جا چکے ہیں۔دس سے بیس دسمبر تک خاموشی رہی اور بیس دسمبر کومبینہ طورپر ان کمپنیوںکی ورکشاپوںا ورترک آفیشئلز کی رہائش گاہوںپر پولیس چڑھا دی گئی۔ ہماری پنجاب پولیس نے روایتی طریقے سے آپریشن کیا اور ترکوں کے رات کو دو بجے گھروں سے نکلنے تک کے راستے مسدود کر دئیے۔ ورکشاپوں میںکھڑی صفائی کی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی استعمال کی گاڑیاں بھی قبضے میں لے لی گئیں اور حالت یہ ہو گئی کہ ان کے پاس ہوٹل تک جانے کے لئے ٹرانسپورٹ نہیں تھی۔ سرکاری کمپنی کاکہنا ہے کہ ترک کمپنیاں معاہدہ پورا ہونے پر یہ مشینری حکومت پنجاب کے حوالے کرنے کی پابند تھیں اور انہیںاطلاع ملی تھی کہ ترک یہ بھاری مشینری غائب کرنے والے تھے۔ یہ بہت بری صورتحال تھی جس کا تفصیلی نوٹ ترک کمپنیوں نے اپنے سفارتخانے کے ذریعے اپنی حکومت کو بھیج دیا ہے۔

اب لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی جوکہ ایک پبلک لمیٹڈکمپنی یعنی ایک سرکاری ادارہ ہے اپنے وسائل سے لاہور کا کوڑاٹھانے کی کوشش کر رہی ہے مگر اس کے وسائل بہرحال محدود ہیں۔ایل ڈبلیو ایم سی نے کلین لاہور مہم کا نعرہ لگایا ہے۔پہلے یہ کہا گیا کہ کرسمس تک لاہور کا تمام کوڑا اٹھا لیا جائے گامگرنہ اس ڈیڈ لائن پر عمل ہو سکااورنہ ہی اس کے بعد اکتیس دسمبر کی ڈیڈ لائن پر۔ جنوری میں لاہور سے متحرک وزیرمیاں اسلم اقبال نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اورواساسمیت مختلف محکموں کے درمیان کوارڈی نیشن بڑھاتے ہوئے مشینری کی فراہمی بھی یقینی بنائی مگر اس کے باوجود لاہور کا ایک حصہ صاف ہوتا ہے تو دوسرے میں کوڑا جمع ہوجاتا ہے۔ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو ٹرکوں اور دیگر سامان کی دستیابی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ کوڑااٹھانے والے ٹرکوںکی عمر دوسرے ٹرکوں کے مقابلے میں ایک چوتھائی رہ جاتی ہے لہٰذاآہستہ آہستہ سرکار کو سمجھ آتی جا رہی ہے کہ اگر انہوں نے لاہور کو شہباز شریف کے دور جیسا دھلا دھلایا رکھنا ہے تو انہیں شہباز شریف کے دور جتنا ہی خرچ کرنا پڑے گا یا شائد اس سے بھی اب کچھ زیادہ کیونکہ سرکار نے اپنی ساکھ کھو دی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک پرائیویٹ کمپنی سے آف دی ریکارڈ معاملات طے کئے جا رہے ہیںاور کچھ لوگوں کو بدگمانی ہے کہ البیراک اور اوزپاک جو کمیشن نہیں دیتی تھیں، وہ کمیشن وہاں طے کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ ترک کمپنیاں ارکان اسمبلی اور بیوروکریٹوں کو اپنے ملازمین گفٹ نہیں کرتی تھیںمگر سرکاری کمپنی انکار نہیں کرسکے گی۔ 

لاہور کی صفائی اور خوبصورتی کو برقرار رکھنا پی ٹی آئی کی حکومت کے لئے ایک بڑا اورمشکل چیلنج ثابت ہو رہا ہے۔صفائی کے معاملے پر حکومت ابھی تک کوئی فول پروف نظام بنانے میں ناکام نظرآتی ہے جبکہ دوسری طرف لاہور کی خوبصورتی ہے جس کا بیڑا پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی نے اٹھا رکھا ہے۔میں یہ فیصلہ دینے کی پوزیشن میں ہوں کہ پی ٹی آئی دور میں اگر کوئی ادارہ کام کررہا ہے تو وہ صرف پی ایچ اے ہے جس نے پہلے سے بڑھ کرمحنت کی اور لاہور کوپھولوں اور روشنیوں سے بھرا ہے مگرپی ایچ اے کو بھی نئے بلدیاتی نظام کی چادر میں لپیٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اتھارٹی کی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ وہ ٹیکس ہے جو یہ آو¿ٹ ڈور ایڈورٹائزرز سے جمع کرتی ہے۔اس ٹیکس کو بھی بلدیہ کے کرپٹ نظام کے حوالے کیا جار ہا ہے اور عین ممکن ہے کچھ عرصے بعدیہاں سے گرین بیلٹیں بھی گرین نہ رہیں، یہاں سے خوشبو دیتے پھول اورروشنیاں بکھیرتے آرائشی بلب بھی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے غائب ہوجائیں تاہم اس پر بات کسی دوسرے کالم میں کریں گے۔ ابھی لاہورئیے حکمرانوںکی آنیاں جانیاں دیکھیں کہ وہ مسائل حل کرنے کے لئے جنگل کے اس نئے پھرتیلے بادشاہ کی طرح خود کو بہت مصروف ظاہر کر رہے ہیں جسے شیر کی جگہ منتخب کرلیا گیا تھا۔


ای پیپر