اسکاٹ لینڈ کی سیر
24 جنوری 2019 2019-01-24

سردی شدید تھی۔ یخ بستہ ہوائیں گھومتی ہوئی لہر در لہر آتیں اور بدن کی گرم تہوں میں اتر جاتیں۔ ہم نے لانگ بوٹوں کے نیچے ڈبل موزے پہن رکھے تھے۔ جین کی پینٹ کے نیچے دو گرم پاجامے، ایک موٹی قمیض کے نیچے گرم بنیان ، قمیص کے اوپر اونی سویٹر، سویٹر کے اوپر ڈبل بریسٹ جیکٹ، جیکٹ کے اوپر لانگ اوور کوٹ ، گلے میں مفلر، سر پر کانوں کو ڈھانپتی بندر نما اونی ٹوپی ، اور آنکھوں پر عینک ، ان بے شمار گارمینٹس سے ہمارا جسم ایسے اکڑ ہوا تھا۔ جیسے کوئی حنوط شدہ ممی مصر کے بازار میں لنڈے کے کپڑے بیچ رہی ہو۔ لیکن یہ اسکاٹ لینڈ تھا۔ اور ہم نے اس ٹھنڈ آلود موسم میں اسکاٹ لینڈ کے اونچے پہاڑوں کی سیر کا پروگرم بنا لیا تھا۔ یعنی عقل بڑی کہ بھینس، لیکن ایک بات ہے۔ مزہ آ رہا تھا۔

لوکومنڈ جھیل کے کنارے پر موجود صدیوں پرانے قلعے میں ہمارا قیام تھا۔ پہلے دن پہنچ کر جب کھڑکی سے جھیل کو دیکھنا چاہا تو جھیل مکمل طور پر غائب تھی۔ دھند کی دبیز چادر میں لپٹی جھیل جیسے ہم اجنبی مسافروں سے شرما رہی تھی۔ اور سامنے آنے سے کترا رہی تھی۔ ہم بھی یہ سوچ کر پڑے رہے۔ ہم تیرا انتظار کریں گے قیامت تک۔ خدا کرے قیامت ہو اور تو آئے۔

دوسرے دن جھیل نے اپنے چہرے سے دھند کا نقاب الٹ دیا۔اور ہم اس کی خوبصورتی کے سحر میں کھو گئے۔ اس خوبصورتی کو ہم بالکونی سے دیکھ سکتے تھے۔ ہاتھ بڑھا کر چھو سکتے تھے۔ لیکن بس مبہوت ہو کر تکا کیے۔ جیسے کوءء دلہن حجلہ عروسی سے خوابناک انگڑائی لے کر بیدار ہو رہی ہو۔ اور اپنے ارد گرد سے ناواقف ہو۔

یہ جھیل 36 کلو میٹر طویل ، 8 کلو میٹر چوڑی اور 502 فٹ گہری ہے اور سکاٹ لینڈ کی سب سے بڑی

جھیل ہے۔ ایک روایت کے مطابق اس جھیل میں صدیوں پرانا ایک عفریت موجود ہے جو اس کی تہہ میں رہتا ہے۔ اسے کسی نے دیکھا نہیں لیکن اس کی موجودگی کی روایت بہت مضبوط ہے۔ ہمارا خیال تھا۔ اگر ہمارا اس سے آمنا سامنا ہو گیا تو اس عفریت کو لگ پتہ جائے گا لیکن اس کی خوش قسمتی اس کے کام آ گئی۔

تیسرے دن کا آغاز سورج نکلنے کے ساتھ کیا۔ چار سو کلو میٹر کا سفر تھا۔ سکاٹ لینڈ کے بلند پہاڑی سلسلوں ، خوبصورت جھیلوں ، انجان سوتے جاگتے قصبوں ، اونچے سر سبز چیڑ اور سفیدے کے درختوں اور گہری وادیوں اور بل کھاتی سڑکوں کے بیچوں بیچ یہ سفر جاری رہا۔ پہلا پڑاو تربت میں کیا۔ سکاٹش بلوچیوں کے بچھڑے بھائی لگتے ہیں اور یہاں جگہ جگہ بلوچی نام مل جاتے ہیں۔ ایک بلوچ نام کا قلعہ بھی دیکھ لیا ہے۔ بلوچولش نام کے ایک قصبے سے بھی گزر ہوا۔ تاریخ میں یہ پکی بات ہے۔ بلوچیوں اور اسکاٹش کی آپس میں کوئی رشتہ داری رہی ہے۔ بونی اینڈ بین کیفٹیریا سے ناشتہ کیا۔ اس کی مالکہ ایک اسکاٹش حسینہ تھی اور ہم خاصی دیر تک یہ فیصلہ نہ کر سکے۔ اس کی کافی زیادہ لذیذاور خوشبو دار تھی یا اس کی کھنکتی مسکراہٹ زیادہ خوش کن اور مزیدار تھی۔

دوسرا پڑاو فیلوک آبشار پر رہا۔ سفر کے دوران سرمئی اور سیاہ بادل، کبھی ہلکے کبھی گہرے، ہمارے ساتھ ساتھ اڑتے رہے۔ کبھی وہ آگے اور کبھی ہم ، مقابلہ خوب رہا۔ وہ شرارت کرتے۔ اور برسنا شروع کر دیتے۔ باریک پھوار، رم جھم، ہم ہاتھ گاڑی سے باہر کرتے اور مٹھی بھر موتی جمع کر لیتے۔ کوئی تو گوہر نایاب ہو گا۔ ساتھ چلتے اونچے پہاڑوں سے سرمئ دھند پھسلتی ہوئی نیچے اترتی ، ہمیں دیکھ کر مسکراتی ، جھیل کے نیلے پانیوں سے لپٹتی، بوس و کنار کرتی اور جھیل کی آغوش میں گم ہو جاتی۔

سرمئ بادل دائیں جانب سے آتے۔ سڑک پر آ کر کچھ دیر کو جیسے رکتے۔ ادھر ادھر دیکھتے، سڑک پار کرتے اور پھر پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ جاتے۔ لمحے بھر کو چوٹی سے لپٹتے ، پھر سرکتے ہوئے نیچے آتے۔ بھوری زمین سے پیار کرتے اور دوسری چوٹی پر چڑھ جاتے۔ زمین کی نسوانیت، سپردگی اور بادلوں کی مردانہ سرخوشی اور سرمستی ایک قابل دید منظر تھا۔

آخر فورٹ ولیم پہنچ گئے۔ فورٹ ولیم کالج کا نام اردو پڑھنے والے حضرات کے لیے نیا نہیں جس کا قیام برصغیر میں ہوا تھا۔ آتے ہی قلعے کے کھنڈرات سے سامنا ہو گیا۔ 1280 میں ایک سکاٹش لارڈ جون کومین نے یہ قلعہ بنایا تھا تاکہ اپنے ملک کا تحفظ کر سکے۔ فورٹ ولیم یو کے کی بلند ترین چوٹی بین نیوس کے قدموں میں ہے اور سکاٹش ہائی لینڈز کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ بندہ فورٹ ولیم آئے اور سموکڈ مچھلی نہ کھائے۔ یہ کیسے ممکن ہے۔ مچھلی ذائقہ دار تھی اور وافر مقدار میں تھی۔ فورٹ ولیم سے ہمارا آخری سٹاپ گلین فینن تھا۔ جہاں ہیری پورٹر کی ٹرین ہمارے انتظار میں کھڑی تھی۔ گوروں نے سیاحت میں کشش پیدا کرنے کے لیے ہر قسم کی قدرتی اور انسانی ساختہ اشیاء کو ترقی دے لی ہے اور سیاح امڈے چلے آتے ہیں۔ گلین فنن کی ٹک شاپ پر ایک انتہائی باتونی سیلزمین سے ملاقات ہوئی ۔ ہم اس سے علاقے کے متعلق پوچھ رہے تھے اور وہ ہمیں سوویئنیر بیچنے کے چکر میں تھا اور ہم بڑی خوشی سے یہ اعلان کر رہے ہیں کہ آخر میں وہ ہمیں کافی سارے اسکاٹش سوویئنیر بیچنے میں کامیاب ہو چکا تھا جو ہماری سکاٹ لینڈ کی اس سیر کی ایک مہنگی یاد بن کر ہمارے گھر میں ادھر ادھر پڑے نظر آ جاتے ہیں۔


ای پیپر