Senate Election 2021
24 فروری 2021 (22:08) 2021-02-24

رضا مغل:

سینیٹ پاکستان کی پارلیمان کا ایوان بالا ہے ،یہ دو ایوانی مقننہ کا اعلیٰ حصہ ہے، اس کے انتخابات ہر تین سال بعد آدھی تعداد کی نشستوں کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں اور ارکان کی مدت 6 سال ہوتی ہے، سینیٹ کا سربراہ ملک کے صدر کا قائم مقام ہوتا ہے، موجودہ امیر ایوان بالا صادق سنجرانی ہیں جو 12 مارچ 2018 سے اس عہدے پر ہیں ، ایوان کے قیام کی بنیادی وجہ تمام وفاقی اکائیوں اور طاقتوں کو ایک جگہ پر نمائندگی دینا ہوتاہے، ایوان زیریں یا قومی اسمبلی میں موجود ہر صوبے کی طرف سے برابر تعداد میں ہر ایک کی نمائندگی کا موقع اس ایوان بالا میں دیا جاتا ہے، اس وقت اس ایوان بالا میں 104 نشستیں ہیں جن میں سے 18 خواتین کی ہیں 1971 میں جب پاکستان ٹوٹا تو اس کی ٹوٹنے کے وجوہات میں ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ حکومتیں چھوٹے صوبوں کو توجہ نہیں دیتی تھیں، جب ملک ٹوٹا تو 1971 کے بعد ایوان بالا یعنی سینیٹ بنایا گیا تاکہ تمام چھوٹے صوبوں کو بڑے صوبوں کی طرح نمائندگی مل جائے، کیونکہ قومی اسمبلی میں تو ہر صوبے سے ارکان اکثریت کے بنیاد پہ منتخب ہوتے ہیں یعنی جس صوبے کی زیادہ آبادی ہوتی ہے، وہیں سے زیادہ نشستیں منتخب ہوتی ہیں، لیکن سینیٹ میں تمام صوبوں سے ارکان برابر تعداد میں منتخب ہوتے ہیں،ایک ایسی صورتحال میں کہ جب ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کی ایک نشست کے حصول کے لیے بھی، متعلقہ صوبے میں، مطلوبہ ارکان اسمبلی کی تعداد پوری نہ ہونے کے باوجود، سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے ٹکٹ ہولڈرز سینیٹ انتخابات کے میدان  میں اُترتے ہوں، وہاں عوام کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آخر سینیٹ کی نشست کے یہ امیدوار، اپنوں اور غیروں سے جیت کے لیے مطلوبہ ووٹ کیسے اور کیونکر حاصل کریں گے؟

اس اہم ترین اور دیگر کئی اہم سوالوں کے جواب حاصل کرنے کے لیے یقیناً سینیٹ انتخابات میں ووٹنگ کے طریقہئِ کار اور نشستوں کے حصول کے عمل کو سمجھنا لازم قرار پاتا ہے، ترجیحی انتخاب کہلانے والے سینیٹ الیکشن کے اس عمل کو آئینی، قانونی، سیاسی اور انتخابی ماہرین اس لیے بھی قدرے پیچیدہ گردانتے ہیں کہ خفیہ رائے شماری کے ذریعے طے پانے والا یہ عمل ماضی میں کئی مرتبہ حیران کن انتخابی نتائج کی وجہ سے بہت کچھ سوچنے اور سمجھنے پر مجبور کرتا رہا ہے،ایوانِ بالا کے اجزائے ترکیبی کچھ یوں ہیں کہ 104 سینیٹرز کے اِس ایوان میں چاروں صوبوں سے کُل 23 ارکان ہیں جن میں سے 14 عمومی ارکان، 4 خواتین، 4 ٹیکنوکریٹ اور 1 اقلیتی رکن ہے فاٹا سے 8 عمومی ارکان سینیٹ کا حصہ ہیں۔ اسلام آباد سے کُل 4 ارکان ہیں جن میں سے 2 عمومی جبکہ ایک خاتون اور ایک ہی ٹیکنوکریٹ رکن ہے،سینیٹرز کی آئینی مدت 6 برس ہے اور ہر 3 برس بعد سینیٹ کے آدھے ارکان اپنی مدت پوری کرکے ریٹائر ہوجاتے ہیں اور آدھے ارکان نئے منتخب ہوکر آتے ہیں،قانون کے مطابق سینیٹ  انتخابات خفیہ رائے شماری اور ترجیحی ووٹ کی بنیاد پر منعقد کیے جاتے ہیں، جس کی گنتی کا طریقہئِ کار مشکل اور توجہ طلب ہے،سمجھنے کی بات کچھ یوں ہے کہ چاروں صوبائی اسمبلیاں تو سینیٹ کے انتخابات کا الیکٹورل کالج ہیں چاروں صوبوں کے صوبائی کوٹے سے آنے والے سینیٹرز اپنے اپنے صوبے کی اسمبلی کے ارکان کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ فاٹا کے سینیٹرز کا انتخاب، قومی اسمبلی میں موجود فاٹا کے 12 ارکان کریں گے، جبکہ اسلام آباد کے سینیٹرز کا انتخاب بشمول فاٹا اراکین پوری قومی اسمبلی کے ارکان کریں گے،ایوانِ بالا کی 52 نشستوں پر انتخاب کے لیے پولنگ 3 مارچ کو ہوگی۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے سینیٹرز کے انتخاب کے لیے پولنگ چاروں متعلقہ صوبائی اسمبلیوں میں جبکہ اسلام آباد اور فاٹا کی نشستوں کے لیے پولنگ قومی اسمبلی میں ہوگی۔ الیکشن قوانین میں طے شدہ فارمولے کے مطابق ایک نشست کے حصول کے لیے لازم قرار پانے والے ووٹوں کی تعداد کے گولڈن فگر کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کے ارکان کی کُل تعداد کو مذکورہ صوبے کے حصے میں آنے والی سینیٹ کی موجود خالی نشستوں سے تقسیم کیا جائے گا،پنجاب اسمبلی کے ارکان کی کُل تعداد 371 ہے، پنجاب سے سینیٹ کی 7 خالی جنرل نشستوں پر انتخابات ہورہے ہیں، ارکان کی کل تعداد 371 کو خالی نشستوں کی تعداد 7 سے تقسیم کیا جائے تو ہر امیدوار کے لیے مطلوبہ ووٹوں کی تعداد یعنی گولڈن فگر 53 بنتی ہے۔ یعنی پنجاب سے ایک جنرل نشست حاصل کرنے کے لیے امیدوار کو 53 ووٹ حاصل کرنے ہوں گے،ٹیکنوکریٹ، خواتین اور اقلیتی نشستیں، جن پر متعلقہ صوبے میں انتخابات ہونے جارہے ہیں ان کو 371 نشستوں پر تقسیم کرنے سے ہر نشست کے لیے گولڈن فگر یا مطلوبہ ووٹوں کی تعداد معلوم کی جاسکتی ہے، مثلاً پنجاب میں خواتین کی 2 نشستوں کو کل ارکان 371 پر تقسیم کیا جائے تو مطلوبہ ووٹوں کی تعداد یعنی گولڈن فگر 186 بنتی ہے۔ یعنی پنجاب سے خواتین کی ایک نشست حاصل کرنے کے لیے امیدوار کو 186 ووٹ حاصل کرنے ہوں گے،یہاں اہم بات یہ ہے کہ گولڈن فگر حاصل نہ کرنے کی صورت میں کسی بھی نشست پر انتخاب لڑنے والا امیدوار، اس نشست کے تمام امیدواروں میں سب سے زیادہ ترجیحی ووٹ حاصل کرنے کی صورت میں بھی کامیاب قرار پائے گا، دوسری صورت میں گولڈن فگر سے زائد حاصل کیے گئے ووٹ اس سے اگلے ترجیحی امیدوار کو منتقل ہوجائیں گے اور ایسے ہی یہ سلسلہ آگے بڑھتا جائے گا، ووٹوں کے اس انتقال کے باعث سینیٹ انتخابات کو منتقل شدہ ووٹوں کا انتخاب بھی کہا جاتا ہے،مثال کے طور پر پنجاب سے سینیٹ کی 7 جنرل نشستوں پر اگر 20 امیدوار حصہ لے رہے ہیں تو پنجاب اسمبلی کے تمام ارکان کو ایک ایسا بیلٹ پیپر دیا جائے گا جس پر تمام 20 امیدواروں کے نام بغیر انتخابی نشان کے درج ہوں گے۔ ووٹ دینے والے ارکانِ پنجاب اسمبلی بیلٹ پیپر پر تمام امیدواروں کے نام کے آگے ایک سے 20 تک کا ترجیحی ہندسہ درج کریں گے، اس طرح سب سے زیادہ ترجیحی ووٹ یعنی ایک کا ہندسہ حاصل کرنے والا امیدوار سینیٹر منتخب ہوجائے گا،اگر وہ امیدوار مقررہ گولڈ فگر یعنی 53 سے زائد مرتبہ ایک کا ہندسہ حاصل کرتا ہے، تو تمام اضافی ایک یعنی اضافی ووٹ دوسری ترجیح حاصل کرنے والے امیدوار کو منتقل ہوجائیں گے اور یوں یہ عمل 7 سینیٹرز کے انتخاب تک دُہرایا جائے گا، اس میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی ووٹر یعنی رُکن صوبائی اسمبلی 1 سے 20 تک ترجیحی ہندسہ درج کرتے ہوئے کوئی ایک ہندسہ بھول جائے یعنی 9 کے بعد 10 کی ترجیح لگانے کے بجائے کسی امیدوار کے سامنے 11 کی ترجیح لگادے تو اس کے 9 ووٹ گنے جائیں گے جبکہ 9 کے بعد 20 تک کے سارے ترجیحی ووٹ کینسل یا منسوخ شمار ہوں گے،سینیٹ انتخابات کے اسی طے شدہ فارمولے کے تحت، جنرل نشستوں کے انتخابات میں، سندھ اسمبلی سے 24 ووٹ لینے والے امیدوار کو کامیاب تصور کیا جائے گا،خیبر پختونخوا اسمبلی سے سینیٹ کی جنرل نشستوں کے لیے 18 ووٹ اور بلوچستان اسمبلی سے سینیٹ کی جنرل نشستوں پر امیدوار کو کامیابی کے لیے 9 ووٹ حاصل کرنے ہوں گے،فاٹا سے سینیٹ کی 4 نشستوں کے انتخابی عمل میں فاٹا کے 11 ارکانِ قومی اسمبلی ووٹ دیں گے، فاٹا سے سینیٹ کے ایک کامیاب امیدوار کے لیے 3 ووٹ حاصل کرنے ضروری ہیں۔ اسلام آبا کی 2 نشستوں پر ہونے والے سینیٹ انتخابات میں پوری قومی اسمبلی ووٹ دے گی۔ اسلام آباد کی جنرل اور ٹیکنوکریٹ کی نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بھی اکثریتی ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار کامیاب تصور کیا جائے گا،پنجاب اسمبلی کی کُل نشستیں 371 ہیں جبکہ موجودہ ارکان کی تعداد 367 ہے۔ سینیٹ انتخابات کے وضح کردہ فارمولے کے مطابق پنجاب اسمبلی سے سینیٹ کی ایک جنرل نشست کے حصول کے لیے امیدوار کو 53 ووٹ لینے ہوں گے،سینٹ الیکشن 3 مارچ سجیں گے جس کیلئے حکومت اور اپوزیشن نے گھوڑے دوڑانے شروع کردئیے ہیں جبکہ ویڈیو سکینڈل کی گونج سپریم جورٹ تک جا پہنچی ہے اب دیکھے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے دوسری طرف جوڑتوڑبھی عروج پر ہے حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے جیت کا دعوی کیا رہا ہے لیکن تمام دعوے تین مارچ کو ہی پورے ہونگے کہ  ہما کس کے سر بیٹھے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 تحریک انصاف کے پارلیمانی بورڈ نے سینٹ کے الیکشن کیلئے پنجاب سے پارٹی امیدواروں سیف اللہ خان نیازی، ڈاکٹر زرقا تیمور سہروردی، بیرسٹر علی ظفر، اسلام آباد سے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور فوزیہ ارشد، خیبر پی کے سے شبلی فراز، محسن عزیز، ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور فرزانہ، سندھ سے فیصل واوڈا اور ٹیکنوکریٹ کی نشست پر سیف اللہ ابڑو، بلوچستان سے عبدالقادر کے ناموں کی منظوری دے دی جبکہ پنجاب اور خیبر پی کے کی دیگر نشستوں پر اعلان بعد میں ہوگا، پی ٹی آئی کے امیدواروں کے چنائو کیلئے قائم پارلیمانی بورڈ کا اجلاس چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں بورڈ کے اراکین عمران اسمعٰیل، چوہدری محمد سرور ، اسد عمر ، پرویز خٹک ، شاہ محمود قریشی ، عثمان بزدار ، محمود خان ، عامر محمودکیانی ،فواد چوہدری اجلاس میں شریک تھے بورڈ نے چاروں صوبوں اور اسلام آباد میں تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے پارٹی ووٹ مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ایک ایک امیدوار کا جائزہ لیا جن میں سے مذکورہ بالا نام فائنل کرنے ان کے ناموں کا اعلان کردیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) نے اگلے ماہ سینٹ کے الیکشن کیلئے اپنے امیدواروں کی فہرست تیار کر لی ہے ۔ پارٹی ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق سینٹ کی جنرل نشستوں کیلئے پرویز رشید، مشاہداللہ اور اعظم نذیر تارڑ کے ناموں کو حتمی شکل دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارلیمانی بورڈ نے صوبہ پنجاب سے پارٹی کے پانچ رہنماؤں کے ناموں کی منظوری دے دی ہے جس کے مطابق  ٹیکنو کریٹ کی سیٹ پر اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ پارٹی کے امیدوار ہوں گے۔ جنرل سیٹ پر پرویز رشید، مشاہداللہ خان اور پروفیسر ساجد میر کے ناموں کی منظوری دی گئی ہے جبکہ خواتین کی نشست پر بیرسٹر سعدیہ عباسی کو پارٹی ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ خواتین کی نشست پر سائرہ افضل تارڑ کو مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا تھا۔ دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی بورڈ نے سینٹ کے انتخابات کیلئے پارٹی امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ پی پی پی کے اعلان کے مطابق سندھ سے جن امیدواروں کو ٹکٹ جاری کیا جا رہا ہے ان میں جام مہتاب ڈاہر سلیم مانڈوی والا شیری رحمان شہادت اعوان جبکہ ٹینکو کریٹ کے طور پر فاروق نائیک شہادت اعوان اور کریم خواجہ کو نامزد کیا گیا ہے۔ خواتین کی نشستوں پر پلوشہ خان خیر النساء مغل اور رخسانہ بنگش کو کورنگ امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا۔ پنجاب سے جنرل نشست پر عظیم الحق منہاس امیدوار ہوں گے۔ کے پی کے سے فرحت اللہ بابر کو پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا۔جمعیت علماء اسلام نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان اسمبلی سے سینٹ کے لئے امیدوار فائنل کرلئے ہیں۔ مولانا محمد امجد کے مطابق خیبرپی کے سے جنرل نشست کیلئے مولانا عطاء الرحمن اور طارق خٹک۔ ٹیکنوکریٹ کی سیٹ پر زبیرعلی، خواتین کی سیٹ پر نعیمہ کشور اور اقلیتی نشست پر رنجیت سنگھ کو پارٹی ٹکٹ جاری کیاگیا ہے۔ بلوچستان سے جنرل نشستوں پر مولانا عبدالغفور حیدری اور خلیل احمد بلیدی کو، ٹیکنوکریٹ کی سیٹ پر کامران مرتضیٰ، خواتین کی نشست پر آسیہ ناصر اور اقلیتی نشست پر ہی من داس کو پارٹی ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی جانب سے تاحال سینٹ انتخابات میں ٹکٹ دینے کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سینٹ انتخابات میں ایم کیو ایم پاکستان 10 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل نشست پر فیصل سبزواری، عامر خان، رف صدیقی، کاعذات جمع کروائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالقادر خانزادہ اور ظفر جمالی کے کاغذات بھی جنرل نشست پر جمع کروائے جائیں گے۔خواتین کی مخصوص نشست پر نسریٖن جلیل اور خالدہ طیب کے فارم جمع کروائے جائیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لئے شہاب امام، اقبال قادری اور رف صدیقی کے فارم جمع کروائے جائیں گے۔کاغذات نامزدگی جمع کروانے کا فیصلہ متحدہ رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، سندھ اسمبلی میں متحدہ اراکین کی تعداد 21 ہے۔پشاور عوامی نیشنل پارٹی خیبر پی کے نے سینٹ نشستوں کیلئے امیدواروں کا اعلان کر دیا پارٹی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنرل نشست پر حاجی ہدایت اللہ پارٹی کے امیدوار ہوں گے ٹیکنو کریٹ کی نشست پر ڈاکٹر شوکت جمال امیر زادہ کو امیدوار نامزد کیا گیا ہے خواتین کی نشست پر ڈاکٹر تسلیم بیگم اور اقلیتی نشست پر آصف بھٹی کو نامزد کیا گیا ہے۔ 


ای پیپر