پی ایس ایل فرنچائز کے مسائل میں اضافہ درحقیقت کیوں ہوا؟ نجم سیٹھی نے بالآخر اصل وجہ بتا دی
سورس:   فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر
24 فروری 2021 (18:26) 2021-02-24

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ڈالر کی قدر میں اضافے کے باعث پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فرنچائزز پر بوجھ بڑھ گیا ہے جبکہ کرکٹ بورڈ کی چند کوتاہیوں نے بھی مسائل میں اضافہ کیا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق نجم سیٹھی نے نجی خبر رساں ادارے کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پی ایس ایل فرنچائزز کی ملکیت کاروباری شخصیات کے پاس ہے جنہوں نے یقینا دستخط سے قبل معاہدے پڑھے ہوں گے اور انہوں نے ہم سے سرمایہ کاری اور منافع سے متعلق پوچھا بھی تھا ، ہمارے دور میں فرنچائزز کے ساتھ کوئی مسائل نہیں رہے تاہم اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم ہو گئی جس کی وجہ سے فرنچائزز پر بھی مالی بوجھ بڑھ گیا، اس کے علاوہ پی سی بی کی چند کوتاہیوں کے سبب بھی مسائل میں اضافہ ہوا تاہم بورڈ کو سارے معاملات کا حل جلد تلاش کرلینا چاہیے اور ٹیموں کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے تھا، آئندہ ایک سے دو سال میں جب سٹیڈیم تماشائیوں سے بھر جائیں گے تو ان مشکلات کا حل بھی نکل آئے گا۔ 

سابق چیئرمین پی سی بی کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کے آغاز میں ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ ماضی میں ایسی کئی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اس لئے یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکے گا اور بھاری نقصان کا اندیشہ بھی موجود ہے جبکہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں لیگ کےانعقاد سے کوئی فائدہ بھی حاصل نہیں ہو گا، اس لئے لیگ شروع نہ کی جائے تو بہتر ہے۔  پی سی بی کے لوگوں کا موقف تھا کہ بورڈ اتنا بڑا ایونٹ کرانے کی سکت نہیں رکھتا لیکن کچھ عہدیدار ایسے بھی تھے جنہوں نے اس منصوبے کی حمایت کی تاہم ہمیں دبئی میں بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ٹورنامنٹ کے انعقاد کیلئے ہمیں ایک ٹائم فریم دیدیا گیا تھا اور اس کے بعد ونڈو خالی نہیں تھی،  لیگ کے ابتدائی ایڈیشن کے معاملات کو تکمیل تک پہچانے میں کافی وقت لگ گیا اور سپانسرزاور اشتہارات سمیت مختلف امور میں فیصلے بہت جلدی میں کرنا پڑے۔ 

انہوں نے کہا کہ کبھی تو ایسا بھی محسوس ہوتا تھا کہ کوئی بھی اس لیگ کا انعقاد نہیں چاہتا جبکہ ٹی وی رائٹس کے معاملے میں بھی مشکلات پیش آئیں، مجموعی طور پر یہ ایک مشکل سفر تھا مگر ہم نے تمام مسائل کو شکست دے کر قومی لیگ کا آغاز کیا جو اب ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر چکی ہے، ہم نے اس کو ایک انٹرنیشنل برانڈ بنایا اور مجھے ذاتی طور پر اس بات کی بہت خوشی ہے کہ اب پورا ایونٹ پاکستان منتقل ہو چکا ہے جس کا کریڈٹ بورڈ کو ضرور دینا چاہئے البتہ پروڈکشن کے معیار پر سوالیہ نشان لگایا جا سکتا ہے۔


ای پیپر