Zahid Munir Amir columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
24 فروری 2021 (12:17) 2021-02-24

(گزشتہ سے پیوستہ)فن کا مقصد زندگی کی نفی نہیں زندگی کا اثبات ہوناچاہیے ۔اس سے شخصیت کو استحکام ملتاہے اور جو شے شخصیت کو استحکام عطا کرے وہ اچھی ہے جو اسے کمزورکرے وہ بری ہے… رہبانیت انسان کی شخصیت کو نقصان پہنچاتی ہے اس لیے اسلام نے اسے پسندنہیں کیا ۔آپ کے ارادے اور فعّالیت کو پسندکیا ۔آپ نے چاہا کہ آپ اس وقت اکٹھے بیٹھ کرکھانا کھالیں تو آپ نے کھالیا۔ تو یہ حقیقت ہے، یہ ہمارا اختیار ہے۔ افلاطون صاحب کہتے ہیں کہ سب کچھ اوپر بھی اسی طرح چاہاگیاتھا۔ آپ سب کے originals اوپر تھے انھوں نے اوپر سب کچھ کیا تھا تو اس کے نیچے آپ نے وہ سب کچھ کرلیا ۔ تو اس لیے اقبال نے افلاطون کو تنقید کا نشانہ بنایاہے۔ اس کے اس تصور اعیان کی وجہ سے اپنی اوّلین کتاب میں کہا کہ

راہبِ دیرینہ افلاطون حکیم

ازگروہِ گوسفندانِ قدیم

رخشِ او در ظلمتِ معقول گم

در کہستانِ وجود افگندہ سم

یہ جو افلاطون حکیم ہے یہ پرانا راہب ہے۔ راہب وہ ہوتا ہے نا جودنیا کوچھوڑ کر غاروں میں جاکرچھپ کرعبادت کرتا ہے اور کہے کہ میں تو بس اللہ کوراضی کرنے کے لیے میں تو دنیا کے معرکے کوچھوڑ آیاہوں۔ تو یہ بظاہر راہبِ دیرینہ ہے۔یہ ’’ازگروہ گوسفندان قدیم‘‘ ہے۔ تو جس نے اس کے تصور کو مان لیا وہ زندگی کے گلے سے اُچک لیاگیا۔ وہ بکری پکڑی گئی، اس کوکھالیاگیا ، اس لیے اس کے تصور سے بچو ۔اس کا گھوڑا عقل کی وادی میں گم ہوگیا اورکوہستان وجودمیں اس کے سُم جھڑ گئے۔ اس لیے تنقید کی ہے افلاطون پراوریہ بھی کہاہے کہ اس کی دی ہوئی سکرکی تعلیم سے قوم سوگئی اور اس سے 

ذوقِ عمل جاتارہا۔ اس نے زیان کو سودیعنی نقصان کو فائدہ سمجھا اور جو نہیں تھا اسے، اس پر جوموجودتھا ، ترجیح دی۔ ’’فکر افلاطون زیان را سود گفت، حکمتِ او بود را نابود گفت‘‘ مسلم تاریخ نے اس سے گہرے اثرات قبول کیے۔ جس سے ان کی قوتِ عمل متاثر ہوئی اور وہ رفتہ رفتہ غیروں کے غلام بن گئے۔ حالانکہ اسلامی تہذیب فردکی نفی نہیں کرتی اسے اپنا اثبات سکھاتی ہے لیکن انھوںنے کائنات کے تخلیقی عمل میں فعال حصے داربننے کی بجائے رہبانیت کو پسندکرناشروع کردیا۔اسی طرح حافظ شیرازی جومسلمانوں کے معاشرے میں بڑاپاپولر شاعر ہے اورصوفیا کے ہاں بڑامقبول ہے، اس پر بھی اسی طرح تنقید کی ہے۔ اس کو بھی بہت سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ   ؎

ہوشیار از حافظ صہبا گسار

جامش از زہر اجل سرمایہ دار

کہ حافظ صہباگسار ، شراب پینے والے حافظ سے بچ کر رہو کہ اس کاجام موت سے بھرا ہوا ہے۔ حالانکہ وہ بڑا مقبول، بڑا پاپولر شاعر ہے ۔ لوگ ان شعروں پراقبال کے خلاف ہوگئے تھے۔ اقبال نے کہاکہ افلاطون پر میری تنقید محض افلاطون پر تنقیدنہیں ہے بلکہ ایسے تمام فلسفوں اور نظاموں پر تنقیدہے جو زندگی کے مقابلے میں فنا کو نصب العین قراردیتے ہیں ۔جب فنا ،نصب العین قرارپاجائے تو انسان زندگی کی کشاکش سے دوربلکہ محروم ہوجاتاہے جس کے نتیجے میں اس کی شخصیت کمزورہوجاتی ہے اور اقبال کے نزدیک ایک زندہ و تابندہ شخصیت ہی ادب کا مقصود ہونی چاہیے… 

افسردہ اگر اس کی نوا سے ہو گلستان

بہتر ہے کہ خاموش رہے مرغِ سحر خیز

تو حافظ پر تنقید میں بھی وجہ یہ ہے کہ اس کی شاعری سے یہ کیفیت پیداہوتی ہے کہ آپ سکون سے بیٹھیں ایک کونے میں …فراغتی و کتابی و گوشۂ چمنی…  ایک باغ ہو، اس کا پرسکون گوشہ ہواور کتاب ہو ،آپ بیٹھیں ،شراب پئیں، کتاب پڑھیں ،مزے سے زندگی گزاردیں۔ تو یہ تصور بھی زندگی کی جدوجہد سے، عمل سے، انسان کو دور کرتا ہے حالانکہ فنی اعتبارسے اقبال، حافظ کے بڑے مداح ہیں لیکن ان کی فکرسے اختلاف ہے ۔یہ اختلاف ہے تو اس لیے اقبال اس کوبھی مسترد کرتے ہیں۔ چاہے کوئی مسلمان ہو یاغیرمسلم جوبھی زندگی سے دور کرنے والا تصورپیش کرتاہے۔ اقبال اسے ناپسند کرتاہے اس پر تنقیدکرتاہے اس لیے اقبال نے افلاطون کو تنقید کا نشانہ بنایاہے۔


ای پیپر