Azhar Waheed columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
24 فروری 2021 (12:16) 2021-02-24

ہر سوال کی ایک صورت ہوتی ہے اور ہر صورت کا ایک سوال ہوتا ہے۔ کوئی سوال بے چہرہ نہیں ہوتا، کوئی جواب الفاظ کا طورمار نہیں ہوتا۔ انسانی فکر سوالوں کی صورت میں متشکل ہوتی ہے اور اِس کی فکری الجھنوں کاجواب کسی چہرے کی صورت میں میسر آتا ہے۔ لفظ بمقابلہ لفظ کھیلا جائے تو لائبریریاں کتابوں سے بھری ہوئی ہے، لیکن لائبریری میں کتاب ملتی ہے، صاحبِ کتاب نہیں۔ بغیر صاحب کے کوئی کتاب مکمل نہیں ہوتی۔ قرآن الانسانؐ کے قلب پر نازل ہوا، اور اِس کی تفسیر بھی الانسانؐ سے نسبت رکھنے والا کوئی انسان ہی بیان کرتا ہے۔ رحمٰن پہلے قرآن کا علم عطا کرتا ہے، پھر اپنے عطایافتہ بندے کو انسان کہہ کر پکارتا ہے، یہی انسان پھر انسان سازی کے منصب پر فائز کر دیا جاتا ہے۔ قرآن بھی الکتابؐ کی صورت میں پڑھا جاتا ہے۔ چہرے کی تلاوت ہوتی ہے۔ قلندرِ لاہوری علامہ اقبالؒ کو یہ تلاوت میسر آئی تو وہ کہہ اْٹھے:

ع   لوح بھی تو، قلم بھی تو، تیرا وجود الکتاب

صاحبو! ہم نے اپنے مرشد کی محفل میں ’’سلونی سلونی‘‘ کی صدائے بازگشت سنی تو دیکھا کہ چہرے سوال لے کر آتے ہیں اور جواب کے منصب پر فائز صاحب اُنہیں جواب آشنا کرتے ہیں… اور آشنائی کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ سائل اپنے سوال کے جواب میں سائلین کی فہرست سے ترقی کرتا ہوا طالبین میں جا شامل ہوتا ہے۔ یہاں ہر سوال کا جواب ہوتا… اور لاجواب ہوتا۔ یوں سوال کو جواب سے آشنا کرنے کا ہنر، کہیں اور دیکھا نہ سنا… ہر سوال کا شافی جواب! شافی جواب ہی کافی جواب ہوتا ہے۔ شافی جواب سے مراد یہ ہے کہ جواب پانے والا اپنے سوال کے جملہ سائیڈ ایفیکٹ سے محفوظ و مامون ہو جاتا۔ یہاں سوال اپنی بنیاد سے ایڈریس ہوتا، یہ قال نہیں بلکہ حال کامعاملہ تھا۔ قال کی بنیاد پر دیا گیا جواب کبھی شافی نہیں ہوا کرتا۔ دلیل اگر کافی ہوتی تو کتاب کافی ہوتی… لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کتاب بمقابلہ کتاب کا نتیجہ مقابلہ اور مجادلہ ہے۔ شافی جواب تو وہ ہے جو سوال کے متعلقہ تمام امور کو خطاب کرے اور جس فکری اشکال کے نتیجے میں سوال پیدا ہو رہا ہے، اُس اشکال کر یکسر رفع کر دے۔ جب فکری اشکال رفع ہو گیا تو خیال اَز خود رفعت آشنا ہو گیا… جب تک اشکال حل نہ ہو، ایک ہی سوال مختلف الفاظ کی صورت میں شکلیں بدل بدل کر نمودار ہوتا رہے گا۔ جب بنیادی اشکال حل ہو گیا تو سائل اپنے سوال کا اَزخود جواب دینے کے قابل ہو گیا۔

سلطان العارفین حضرت سلطان باہوؒ مرید کی تربیت کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ مرشدِ کامل اپنے مرید کے حق میں بلائے جان ہوتا ہے۔ مراد یہ کہ وہ فکری تربیت کے حوالے سے اُس کسی الجھی ہوئی فکر کو ڈھیل نہیں دیتا، اصول اور نظریے کے معاملے میں وہ کسی مداہنت کا قائل نہیں ہوتا۔ یہ صورت ہم نے اپنے مرشد کے ہاں بدرجہ اتم دیکھی۔ کوئی شخص کسی فکری جھول کیساتھ آئے اور اِسی طرح اٹھ جائے، یہ ممکن نہ تھا۔ آپؒ براہ راست وہاں کلام کرنے لگتے، جہاں اور جس مقام پر سوال کرنے والا اپنے فکری بگاڑ پر پہرہ د ے رہا ہوتا۔ آپؒ اپنے مریدوں کو کبھی شاباش نہیں دیا کرتے تھے، بلکہ خوب سے خوب ترکا میدان مہیا کر دیا کرتے، انگریزی محاورے میں کہیں گے  He always raised the bar۔ سن پچاسی سے بانوے تک کے آٹھ سالہ تربیتی پروگرام میں مجھے نہیں یاد پڑتا کبھی شاباش کے الفاظ میں نے سنے ہوں، بجز ایک موقع پر… ایک بار میں نے عرض کیا، سر! اب اگر ذہن میں کوئی سوال پیدا ہوتا ہے تو فوراً یہ خیال آتا ہے کہ اس سوال کا جواب دینا بھی تو میری اپنی ذمہ داری ہے۔ ایک طالب علم کی یہ معصومانہ بات سن کر، آپؒ نے خفیف سے مسکراہٹ کے ساتھ ’شاباش‘ کے الفاظ کہے!! اس باب میں آپؒ فرمایا کرتے، اپنے علم کو بچانے کا علم بھی آنا چاہیے!!

فکر کا سفر شاید سوال و جواب کا سفر ہے۔ عقل کے سوالات کو دل کے پلیٹ فارم سے ایڈریس کیا جائے تو یہ سفر مادّے سے نکل روح کی دنیا میں داخل ہوجاتا ہے۔ فکر کا حاصل و ماحاصل تحیر ہے… اور تحیر‘ دلیلِ معرفت ہے۔ صفات سے ذات کی دنیا میں داخلے کا اذن صرف دل کے پاس ہے۔ عقل اپنے زعم میں سولو فلائیٹ کرنے کے موڈ ہوتی ہے… یہ سولو فلائیٹ بالآخر سلو فلائیٹ ہوجاتی ہے۔ ذوق کو شوق کی قوت قلب سے ملتی ہے۔ صرف دل کی دنیا میں عقل والوں کے سارے سوالوں کے حتمی اور شافی جواب موجود ہوتے ہیں۔ جب تک دل کی دنیا تک رسائی نہ ہو‘ سوال کا جواب بھی نارسائی کی غلام گردشوں میں چکر کاٹتا رہتا ہے۔دل ، نگاہ اور چہرہ …ایک ہی حقیقت کے تین پہلو ہیں۔ نگاہِ یار کرم کر دے تو سوال بھی چہرے کی صورت میں دکھائی دیتا ہے اور جواب بھی چہرے کے خدو خال میں میسر آنے لگتا ہے۔ دل کی دنیا میں کوئی صاحبِ دل ہی لے کر جاتا ہے۔ بے ترتیب سوچوں کو ایک سمت دینے کے لیے جس قطب نما کی ضرورت ہوتی ہے‘ وہ قطب ِ ارشاد کے ہاتھ میں ہے۔ قطبی ستارے کی طرح‘ قطب ِ ارشاد اپنے وقت کے آسمانِ خیال میں محو ِ سفر مسافروں کی راہنمائی کرنے پر مامور ہے۔ باالفاظِ دیگر اپنے وقت کے سب سوال اپنے وقت کے قطب ِ ارشاد کی طرف رجوع کرتے ہیں… وہاں قبلہ رُو ہوتے ہیں … اور یہاں واصل بہ جواب ہوتے ہیں۔ 

بارہ برس ہوتے ہیں کہ سہ ماہی’’واصف ؒ خیال‘‘ کا اَجرا کیا گیا۔ خیال یہی تھا کہ علم و حکمت کا یہ خزانہ عام ہو۔ ہر چھپے ہوئے خزانے کو بہرصورت دریافت تو ہونا ہوتا ہے۔ اسی اثنا’’واصفؒ ٰخیال‘‘ کے نام سے سوشل میڈیا پر ایک فیس بک پیج بھی بنایا گیا ۔ یہاں ادارتی مجلس کے معاونین باقاعدگی سے حضرت واصف علی واصفؒ کے اقوال و مضامین پوسٹ کرتے۔ رفتہ رفتہ اِس پلیٹ فارم پر قارئین کے ساتھ سوال و جواب کی ایک قلمی نشست برپا ہونے لگی۔ نئے پڑھنے والے‘ اقوال و اشعار ِ واصفؒ کے حوالے سے سوال کرتے ہیں اور یہ فقیر خیالِ واصفؒ کی روشنی میں اُن کی تشریح کرتا رہا۔ دھیرے دھیرے ایک ذخیرۂ ضخیم مرتب ہوتا چلا گیا۔ احباب کی مشاورت سے اسے ایک کتابی شکل دینے کی تدبیر ہوئی۔ وقت کی کمی کے باعث یہ کتاب برسوں التوا کا شکار بھی رہی۔ ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے‘ اور ہر وقت کا ایک کام ہوتا ہے۔ اَب وقت آن پہنچا کہ اِسے منظر ِ عام پر لایا جائے۔ وجہ تسمیہ ‘ اس کتاب کی یہ بنی کہ یہ سب سوال فیس بک پر پوسٹ کیے گئے، فیس بک کا آسان اْردو ترجمہ ’’کتاب چہرے‘‘ بنا، اور اس پر سند یہ ٹھہری کہ "شب چراغ" کی ایک غزل اِسی ردیف قافیے کے ساتھ پڑھنے کو ملی :

میں پڑھ رہا ہوں ُ کتاب چہرے

مرے جہاں کا نصاب چہرے

کہیں مجسم سوال ہیں یہ

کہاں سراپا جواب چہرے

چنانچہ ‘امسال 29 ویں سالانہ عرس کے موقع پر یہ کتاب طباعت سے آراستہ ہو کر قارئین کے ہاتھوں میں ہو گی۔ ان شاء اللہ ، بشرطِ توفیق ِ باری۔ بے شک ! سب توفیقات اْسی خدائے وحدہ‘ لاشریک کے ہاتھ میں ہیں ‘ جو اپنی مملکتِ وجود کا بلاشرکتِ غیرے مالک ہے۔ 


ای پیپر