وزیراعلیٰ کو حصہ جاتا ہے؟؟؟
24 فروری 2021 2021-02-24

میںنے بادامی باغ کی سبزی اور پھل منڈی میں قدم رکھا تو وہاں زمین پر لگی ہوئی عارضی دکانوں اور خریداروں کے رش کی وجہ سے تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔میں نے زمین پر سبزیوں کے ڈھیر لگائے دکانداروں میں سے ایک دو سے ہی پوچھا کہ آپ لوگ یہاں سبزی بیچنے کے کتنے پیسے ادا کر رہے ہیں تو میرے ارد گردوہ تمام بڑی تعداد میں جمع ہو گئے جنہیں عرف عا م میں پھڑئیے کہا جاتا ہے۔ یہ پھڑئیے آڑھتیوں سے بولی میں سبزیاں اور پھل خریدتے ہیں اور پھر دن بھر وہاں آنے والے گلی محلوں کے دکانداروں کو فروخت کرتے ہیں۔ ان کے منافعے کا مارجن کسان یا آڑھتی کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے۔ وہ سب چیخ چیخ کربتانے لگے کہ ان سے روزانہ دوسو روپوں سے سات، آٹھ سو روپوں تک وصول کئے جاتے ہیں۔ پیسے لینے کے لئے وہ افراد آتے ہیں جن کی کوئی سرکاری شناخت اور حیثیت نہیں ہوتی۔ وہ وصول کی گئی اس رقم کی کوئی پرچی یا رسید بھی جاری نہیں کرتے اور اگر پھڑیا اپنی کمائی کے ایک ،دو، تین ہزار روپوں میں سے یہ ٹیکس یا کرایہ ادا کرنے سے انکا رکرے تو بہت سارے لوگ آتے ہیں اوراس کی سبزی اور پھل اٹھا کے پھینک دئیے جاتے ہیں، جگہ خالی کروا لی جاتی ہے اور پھر وہاں وہی بیٹھتا ہے جو ان کو ادائیگی کرتا ہے۔

 میں نے اپنے قریب کھڑے ایک واقف حال سے پوچھا، یہاں کتنے لوگ اس طرح جگا ٹیکس ادا کر کے کاروبار کر رہے ہیں، جواب ملا تین ہزار کے لگ بھگ ۔ میں نے آگے دیکھا تو ٹرک لگے ہوئے تھے اور ایک ٹرک سے اڑھائی سے تین ہزار روپے وصول کئے جارہے تھے۔ بات روزانہ کئی لاکھ روپے کی تھی اور مجھے بتایا گیا کہ آج سے دو، تین برس پہلے ایک مرتبہ اس رقم کی گنتی سامنے آئی تو ایک روز میں جمع ہونے والاجگاٹیکس بارہ لاکھ تریسٹھ ہزار روپے تھا ۔مہنگائی کے تناسب سے اگر اس میں پچیس سے پچاس فیصد اضافہ بھی لگا لیا جائے تو اب پندرہ سے بیس لاکھ روپے روزانہ اکٹھے ہو رہے ہیں اور یہ صرف ایک سبزی منڈی ہے یعنی صرف بادامی باغ سے روزانہ کا اگر پندرہ،بیس لاکھ تومہینے کا پانچ سے چھ کروڑ روپیہ۔ میں نے پوچھا کہ اس وصولی کا جوازکیا ہے تو بتایا گیا کہ پھڑیا جس زمین پر بیٹھ کر کاروبار کرتا ہے یہ اس کا کرایہ ہے۔میں نے حیرانی سے پوچھا کہ کیا یہ جگہ سرکاری نہیں ہے تو جواب ملاکہ آڑھتیوں کو جگہیں الاٹ ہوئی ہیں اور وہ اپنی آڑھت کے سامنے سڑک اور کھلی جگہ کا بھی کرایہ لیتے ہیں حالانکہ یہ منڈی اس کے تمام پلاٹ اورسڑکیںسرکاری ملکیت ہیں، بھتے کے اس نظام کا بڑا حصہ آڑھت کا ایک سابق صدر چلاتا ہے جس کے بارے سب کو علم ہے۔

مہنگائی سے تنگ، حکومت کے ایک مخالف نے نعرہ لگایا کہ بات یہاں تک محدود نہیں، اس بھتے سے وزیراعلیٰ تک کو حصہ جاتا ہے تو میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہے۔وزیراعلیٰ کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے اور وہ لاہور کی بادامی باغ کی سبزی منڈی کے بارے میں جانتے بھی نہیں ہوں گے تو وہ ہنسا اور بولاکہ بات صرف بادامی باغ کی نہیں بلکہ ہر سبزی اورپھل منڈی کی ہے۔ بھتہ خوری ایک منظم کاروبار ہے اور وہ حکومتوں کی مرضی کے بغیر ہو ہی نہیںسکتا۔ میں نے اس سے پھراختلاف کیا اورکہاکہ اس سمیت دیگر سبزی منڈیوں کا انچارج ڈپٹی کمشنر ہے اوراگر الزام ہی لگانا ہے تو ڈی سی کی سطح پر لگایا جا سکتا ہے۔اس شخص نے مجھے لاعلم قرار دیا اور کہا کہ جب یہاں مارکیٹ کمیٹیوں کے چئیرمینوں کے عہدو ں کے لئے تین، تین اور پانچ ، پانچ کروڑ کی باتیں ہوں گی، جب مارکیٹ کمیٹیوں کے چئیرمین دیہاڑیاں لگانے میں اتنے بدنام ہوں گے کہ اپنے ساتھ ساتھ وہ اپنے والد،چچاو¿ں اور بھائیوں کے ساتھ ’ گراہیاں‘ کرتے ہوں گے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ معاملہ صرف ایک ڈپٹی کمشنر تک ہو، یہاں ڈپٹی کمشنر اوپر سے آنے والے احکام پر صرف مہریں لگاتے ہیں، جسے حکمران چاہتے ہیں کہ مارکیٹ کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا جائے ڈپٹی کمشنراس کے لئے ماحول اور قانون سازگار کرتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر ضلعے کا مالک ہوتا ہے بالخصوص چھوٹے شہروںمیں مگر بھتے کا ایک نظام ہے جو طاقتور حکمرانوں کی مرضی کے بغیر چل ہی نہیں سکتا۔میں نے پوچھا کہ اگر یہ نظام اتنا ہی مربوط اورمستحکم ہے تو پھر عثمان بزدارہی کیوں، اس سے پہلے شہباز شریف اورپرویز الٰہی کو بھی حصہ پہنچتا ہوگا۔ وہ شخص بولا مجھے ناموں اورپارٹیوں کا علم نہیںمگر اتنا علم ہے کہ حکمرانوںکی مرضی کے بغیر کوئی بھتے کا نظام نہیں چلاسکتا،وہ بولا،یہاں پولیس کی گاڑیاں بھی آتی ہیں اوروہ گاڑیاں بھی جو نیلی بتی لگائے ہوتی ہیں، یہاں سے سبزیاں اور پھل بھرتی ہیں اور بیوروکریٹوں کے گھروںمیں پہنچا دیتی ہیں،یہ بھتے سے الگ جگا ہے۔

میں نے کہا، بھتے کے اس نظام کا خاتمہ کیسے ممکن ہے، حکومت پامراکا قانون لا رہی ہے کیا اس سے تبدیلی نہیںآئے گی، اس سوال پر وہاں خریداری کے لئے آیا ہوا ایک پڑھا لکھا شخص بولا، کون سا نیا قانون، کیا آپ نے منٹو کاافسانہ نیا قانون نہیں پڑھ رکھا۔ یہ قانون وانون فراڈ ہیں، سب غریبوں کے لئے ہیں۔یہ قانون مکڑی کے وہ جالے ہیں جو کمزورکو پھنسالیتے ہیں اورطاقتورانہیں توڑکر نکل جاتاہے،مجھے توڈرہے کہ اس نئے قانون کے بعد بھتے میں اضافہ ہوجائے گا جیسے عمران خان کے آنے کے بعد رشوت کے ریٹ ڈبل ہو گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ توبڑی بات، ایک ڈپٹی کمشنر اورایک سی سی پی او بھی اس بھتے کے نظام کوختم کرنا چاہے تو اس کے لئے چوبیس گھنٹے بھی بہت ہیں، یہ نہ ہو کہ یہاں سے پھڑئیوں کومار بھگایاجائے بلکہ ان کی باقاعدہ رجسٹریشن کرتے ہوئے ان کو جگہیں مارک کر دی جائیں اور چاہے یہی تین سو سے تین ہزار روپے کی باقاعدہ بینک میں جمع ہو کر رسید جاری ہو تاکہ کاروبار کرنے والوں کوعلم ہوکہ وہ غنڈوںکو نہیں بلکہ ریاست کوٹیکس ادا کررہے ہیں۔تاجروںنے مجھے سبزی اور پھل منڈی دکھائی جہاں سے مہینے کے کروڑوں روپے جگا ٹیکس کے طور پر اکٹھے ہو رہے تھے مگر وہاں کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر تھے، مویشی یوں پھر رہے تھے گویا یہ سبزی منڈی نہ ہو بلکہ مویشی منڈی ہو، گٹر ابلے ہوئے تھے، بارش نہ ہونے کے باوجود وہاں کیچڑتھا، کھلے گٹروں میں گاڑیاں گر رہی تھیں، پھل منڈی میں کیلے کے کچرے سے کئی کئی فٹ اونچانیا فرش بن چکا تھا،وہا ں نہ پینے کا صاف پانی تھا اورنہ ہی رفع حاجت کے لئے کوئی مناسب جگہ۔میں نے ا ن سے کہاکہ آپ روزانہ کروڑوںاورماہانہ اربوں روپوں کاکاروبار کرتے ہیںتو آپ خود بھی یہ سب ٹھیک کرسکتے ہیں تو ان کا جواب تھا کہ ہم کروڑوں روپے ٹیکس بھی دیتے ہیں اورٹیکس دینے کے بعد یہ ہمار ا حق ہے کہ ہمیں امن و امان کے ساتھ ساتھ صاف ستھری جگہ ملے۔ 

ہم اس سے پہلے خبروںمیں یہی سنتے رہے کہ کراچی میں بھتہ مافیا ہے، وہاں تاجروںکوپرچیاں ملتی ہیں اور ان پرچیوں پر چند سو سے کئی کروڑ روپے تک ادا ہوتے ہیں مگر کسی کو علم نہیں کہ لاہور میں بھی برس ہا برس سے بھتے کا نظام کھلے عام اور دیدہ دلیری کے ساتھ چل رہا ہے۔میں ایک مرتبہ پھر اس خیال کا اظہار کرسکتا ہوںکہ لاہور کی سبزی اور پھل منڈیوں میں غریب پھڑئیوں سے جمع کئے ہوئے تین، تین اور پانچ، پانچ سوروپوں سے وزیراعلیٰ پنجاب کو حصہ نہیں جاتا ہوگامگر یہ امر بھی حقیقت ہے کہ بھتے کے اس نظام پر بدنام حکومت ہی ہوتی ہے۔ میرا یہ خیال یقین میں اس وقت بدلے گا جب صوبے کے منتطم اعلیٰ خود دیہی پس منظر رکھنے والے کسان کے طور پر اس بھتہ خوری کا نوٹس لیں گے اور مجھے علم ہوگاکہ ان کے احکامات پر یہ جگا ٹیکس سو فیصد ختم ہو گیا ہے اور منڈیوں کے تاجروں کے ٹیکس سے خود منڈیوںکی حالت بہتر بنانے کانظام لایا جا چکا ہے۔


ای پیپر