کوئی مذاق نہیں
24 فروری 2019 2019-02-24

بھارت کی جانب سے کسی احمقانہ مہم جوئی کا اندیشہ کسی حد تک کم ہوا ہے۔ لیکن مکمل طور پر ٹلا نہیں۔ مودی جی تلملاے اور چوٹ کھائے ہوئے سانپ کی مانند ہیں۔ جیسے اچانک دم پرپاؤں آجائے۔ لہٰذا فی الحال خبردار رہنا ہوگا۔ وہ تو خیر دفاع وطن کے ذمہ دار، چوکس کھڑے ہیں۔ اور قوم ان کو پشت پر سیسہ پلائی دیوار کی مانند۔ بھارتی پردھان منتری جی نے اپنی جلد بازی کے باعث ٹینشن کو نکتہ کھولا و تک پہنچا دیا۔ لیکن بہر حال ابال جلدی اتر گیا۔ کیونکہ سات براعظموں میں حساس مقامات پر خطرے کے سگنل فوراً پہنچے۔ جس کے بعد سیفٹی والو کھل گئے۔ مودی جی کی بڑھکیں بھاپ کی طرح خارج ہوتی چلی جاتی ہیں۔ایسا نہیں کہ مودی جی خالی بڑھکیں مار رہے تھے۔ ارادہ تو ان کا تھا کہ کوئی محدود مہم جوئی کرے، کوئی ڈرامہ رچاکر ذرا ہیرو بن کر اکثریتی آبادی سے ووٹ بٹورے جائیں۔کیونکہ گزشتہ چند ماہ میں پے در پے سیاسی ناکامیوں نے ان کو حواس باختہ کردیا ہے۔ ان کا یہ خیال تھا کہ ایک تو پاکستان کا ڈراوا دکھا کر غربت کے مارے ووٹروں سے عام چناؤ میں پرچی حاصل کر لی جائے گی۔ دوسرے دہشت گردی کا لیبل پاکستان پر لگا کر وہ بین الاقوامی برادری کی ہمدردیاں سمیٹیں گے۔ اور پاکستان کو کسی اہم فورم پر دہشت گردی کا لیبل لگوا کر اپنی پرانی خواہش پوری کر لی جائے۔ بھارت کے اپنے رچائے ہوئے اس ڈرامہ کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ بین الاقوامی سطح پرایک نہیں کئی ایونٹ جاری ہیں۔ گویا ایک تیر سے کئی شکار کرنے کا سنہرا موقع۔ ایف اے ٹی ایف کا اجلاس چل رہا تھا۔ بھارت کا خیال تھا کہ اس دہشت گردی کے واقعہ کو استعمال کرکے فیٹف کے فیصلہ سازوں پر اثر انداز ہوا جاسکتا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ یہ واقعہ جلتی پر تیل کا کام کرے گا۔اور پاکستان کو گرے سے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔ لیکن پاکستان گزشتہ ڈیڑھ سال سے کئی اہم اور حساس نوعیت کے اقدامات اٹھا چکا ہے۔ اگرچہ ابھی پاکستان گرے لسٹ میں موجود ہے۔ اگلے اجلاس تک مزید اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ لیکن بھارت کی سازش بہر حال ناکام رہی۔ دوسری کوشش بھارت کی یہ تھی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کسی تنظیم کا نام ڈلوایا جائے۔ اس حوالے سے بھارتی کوششیں ابھی جاری ہیں۔ تیسرا بھارت کی یہ کوشش تھی کہ امریکہ پر دباؤ ڈال کرصدر ٹرمپ سے مزید مراعات حاصل کی جاسکیں۔ لیکن مودی جی کو یہ نہیں معلوم کہ ان کا پانچ سالہ دورا قتدار خاتمے کے قریب ہے۔ اب وہ آوٹ گوئنگ پردھان منتری ہیں۔ اس عبوری دور میں کوئی بڑا سفارتی فیصلہ نہیں ہوگا۔ بین الاقوامی طاقتیں انتظار کریں گے کہ تخت دلی پرکون بیٹھتا ہے۔ نئی حکومت کی نئی ترجیحات ہونگی۔ اقوام عالم بھی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات بنائیں گی۔ فی الحال تو مودی جی عضو معطل اور نمائشی سربراہ حکومت ہیں۔ پلوامہ کا واقعہ ہوا تو مودی جی کی خواہش تھی کہ پاکستان کو تنہا کردیا جائے۔ مودی جی کو اقتصادیات کی ذرا برابر سمجھ ہوتی،ان کو تھوڑی سی سفارتی شدھ بدھ ہوتی تو وہ ایسی کوشش نہ کرتے۔ جس ملک میں چین نے باون بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہو۔ جہاں پر سعودی عرب جو عالم اسلام کا روحانی مرکز بھی ہے۔ بیس بلین ڈالر سرمایہ کاری کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر چکا ہو۔ جس ملک میں صرف چند ماہ میں متحدہ عرب امارات کی لیڈر شپ بار بار دورہ کرچکی ہے۔ جہاں مارچ کے مہینے میں مہاتیر محمد اور طیب اردوان دورہ کرنے والے ہوں۔ جس ملک میں ابھی دو ہفتے پہلے پچاس ملکوں کی بحری افواج نے مشقوں میں حصہ لیا ہو۔ جس ملک کی شرکت کے بغیر افغان عمل مکمل ہو سکے نہ کامیاب۔ اس ملک کو سفارتی طور پر تنہا نہیں کیا جاسکتا لہٰذا سب سے پہلے چینی وزارت خارجہ نے سفارتی انداز میں بھارت کو پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا مشورہ دیا۔ سعودی عرب نہ صرف کسی چال میں نہیں آیا بلکہ جامع مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔جس کے بعد بھارتی میڈیا سعودی قیادت کے پیچھے پنجے جھاڑکر پڑ گیا۔ یہ سب کوششیں جاری تھیں کہ امریکی صدر نے ہفتہ کی شام اپنے پالیسی بیان سے تھر تھلی مچا دی۔ صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے پاک بھارت صورتحال کو نازک قرار دیا۔ اور دونوں ملکوں پر مذاکرات کیلئے بیٹھنے کو کہا۔ اس سے بڑا سگنل اور کیا ہوگا۔ اس کا مطلب ہے نو مور بڑھک بازی۔ اور جو بھی مدعا ہے۔ اس پر بات چیت۔ چند گھنٹوں بعد مودی جی کا لہجہ بدل گیا اور لگے وزیر اعظم کو ان کے وعدے یاد دلانے۔

گزشتہ اٹھارہ سال میں یہ پانچواں موقع ہے کہ بھارت جنگ پر آمادہ نظر آیا۔ رواں صدی کے آغاز میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کے بہانے، پھر ممبئی حملوں کی آڑ میں، کبھی سمجھوتہ ایکسپریس کو جواز بنا کر۔ کبھی پٹھان کوٹ کا ڈرامہ رچا کر اور کبھی اوڑی کا ناٹک۔ بھارت مرتبہ جنگ کا ماحول بناتا ہے اور ناقابل تسخیر دفاع کو دیکھ اس بھاری پتھر کو چوم کر واپس لوٹ جاتا ہے۔ ذولفقار علی بھٹو سے لیکر نوا ز شریف تک ایک تسلسل تھا۔ جس کے نتیجہ میں مادر وطن کا دفاع ناقابل تسخیر ہوچکا۔ وزیراعظم عمران خان نے جس طرح بھارت کو دو ٹوک جواب دیا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی اور تمام سیاسی جماعتوں نے بھارت کو اس کی اوقات یاد دلائی ہے اس کے بعد جارح کو سو مرتبہ سوچنا پڑے گا کہ پاکستان ایٹمی ملک ہے کوئی مذاق نہیں۔


ای پیپر