جنونی صدر، پاگل وزیر اعظم
24 فروری 2019 2019-02-24

تاریخ کا عجب مذاق ہے کہ دنیا کی واحد سپر پاور کا صدر جنونی اور بزعم خود دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا وزیر اعظم پاگل ہے، پتا نہیں دنیا کیسے چل رہی ہے،سچ پوچھیے تو چل کہاں رہی ہے، جوں توں تباہی کے دہانے پر پہنچ رہی ہے، جنونی صدر، پاگل وزیر اعظم دونوں ایک دوسرے کے یار، ایک دوسرے کے سہولت کار، ’’خوب گزری ہے جو مل بیٹھے ہیں دیوانے دو‘‘ جنونی صدر جیسا سربراہ مملکت سپر پاور نے اس سے قبل نہیں دیکھا، اسی طرح پاگل وزیر اعظم جیسا سربراہ حکومت ہندوستان کی تاریخ میں نہیں گزرا، جنونی صدر نے اقتدار میں آنے سے پہلے اتنے بلند بانگ دعوے کیے جو ٹوئن ٹاورز کی طرح آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے تھے۔ آسمان اول کے فرشتوں نے تو واہی تباہی سن کر رب ذوالجلال سے شکایت کی ہوگی کہ

ناز ہے طاقت گفتار پہ انسانوں کو

بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو

لیکن بلندیوں کو چھوتے سارے دعوے الیکشن کے ساتھ ہی ٹوئن ٹاورز کی طرح خاک کا ڈھیر بن گئے، مسلمانوں کے خلاف نفرت باقی رہی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اور ریاستی انتخابات میں شکست کے بعد صدر کے جنون میں کمی آئی، ملک چلانا ہے چیخم دھاڑ سے ملک نہیں چلتے، چنانچہ افغانستان، شام اور دیگر ممالک کے بارے میں پالیسی تبدیلی ہوتی نظر آرہی ہے، اس کے برعکس بھارت کا پاگل وزیر اعظم مودی، یقین کیجیے حرکات و سکنات میں سراپا پاگل، پوت کے پاؤں پالنے ہی میں نظر آنے لگے تھے، بچپن سے جوانی تک چائے بیچتا رہا، چائے ٹیبل پر رکھ کر اپنے جیسے انتہا پسند ہندوؤں کی باتیں سنتا جو گجرات کے مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بنتے تھے، سیاست میں آتے آتے خود بھی انتہا پسند بن گیا، وزیر اعلیٰ گجرات بنا تو سیکڑوں مسلمانوں کو زندہ جلانے پر قصاب کا بدنام زمانہ کردار بنا، لگتا ہے بھارتی جنتا پارٹی کے سارے سنجیدہ لیڈر سورگباش ہوگئے تھے، اس لیے قصاب کو ٹکٹ دے دیا گیا، شامت اعمال وزیر اعظم بھی بن گیا، مودی کے بارے میں ہی ایک شاعر نے کہا تھا کہ۔

بظاہر جو نظر آتا ہے اس چہرے کو مت دیکھو

ہزاروں قتل کر کے بھی بہت معصوم لگتا ہے

وزیر اعظم بننے کے بعد بھی فطرت نہ بدل سکی، پاگل پن میں اضافہ ہوگیا، اس کے دور میں انتہا پسند ہندوؤں کو شہ ملی، مسلمانوں کو نکالنے، قتل کرنے اور قاتلانہ حملوں کا نہ رکنے والا سلسلہ آج تک جاری ہے، پاکستان سے اللہ واسطے کا بیر، لیکن دلوں میں انجانا خوف جاگزیں کہ ایٹمی طاقت سے پنگا لیا تو دلی کی راجدھانی ہی نہیں، ممبئی اور کولکتہ تک کچھ باقی نہ بچے گا، سچ بتائے وزیر اعظم ایسے ہوتے ہیں خود کش حملہ ان کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر کے علاقہ پلوامہ میں ہوا، لائن آف کنٹرول کے انچ انچ پر فوجیوں کا گشت، میلوں تک باڑ، قدم قدم پر ناکے چوکیاں، ان سب کے باوجود حملہ کا الزام پاکستان پر، کہا کوئی ثبوت پیش کیجیے، منہ بگاڑ کر بولے’’ دہشت گردی وہیں سے ہوسکتی ہے۔ اب بات نہیں کارروائی ہوگی‘‘ ہے نا پاگل پن، پاگلوں کے سر پہ سینگ نہیں ہوتے، سینگوں کے بغیر ہی دیواروں کو ٹکریں مارتے پھرتے ہیں، نہلے پہ دہلا فوجی اور سویلین قیادت دونوں پاگل پن کی انتہاؤں کو چھو رہے ہیں، بڑے میاں بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ، ببن میاں خیر سے فوجی سربراہ بنا دیے گئے۔ سربراہ بنتے ہی ببن سے بپنبن بن گئے، بڑھکیں مارنے میں اپنی مثال آپ، ببن میاں دلی

کے کسی گلی محلے میں چھوٹے موٹے بدمعاش ہوا کرتے تھے۔ جنرل بپن راوت کا انداز گفتگو پنواڑیوں سے مشابہہ ہی رہا، ذرا سی عقل و فہم رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ ایک ایٹمی طاقت کو چھیڑنے کے کیا نتائج ہوسکتے ہیں، وزیر اعظم پاکستان نے سچ ہی تو کہا کہ’’ جنگ چھیڑنا آسان ختم کرنا اپنے بس میں نہیں ہوتا‘‘ جنگ تباہی لاتی، آبادیوں کو مسمار کرتی ہے، ایٹمی بموں کے مضر اثرات تین چار نسلوں تک باقی رہتے ہیں، بھارتی وزیر اعظم اور ان کے فوجی جنرل یقیناًجانتے ہوں گے کہ پاکستانی قوم ملکی سلامتی، استحکام، اور بھارت جیسے ازلی ابدلی دشمن سے مقابلہ میں متحد ہے حکومت، اپوزیشن جھگڑے، تنازعات، اختلافات صرف سیاست تک محدود، دفاع وطن کا مرحلہ آیا تو 22 کروڑ عوام اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ ہوں گے، دونوں پاگلوں کو یہ بھی پتا ہوگا کہ پاکستان کی افواج دنیا کی بہترین، منظم، تربیت یافتہ اور ناقابل تسخیر فوج شمار ہوتی ہے۔ ’’خدا سے ڈرنے والے موت سے ہر گز نہیں ڈرتے‘‘ اللہ کے سپاہیوں کو اپنی قوت ایمانی اور معبود حقیقی کی مدد و نصرت پر مکمل بھروسہ ہے۔ پتا نہیں ببن میاں معاف کیجیے بپن راوت کو 1965ء کی جنگ ستمبر یاد ہے یا نہیں، میں نے واہگہ بارڈر پر وہ درخت دیکھا ہے جس پر مورچہ بنا کر میجر عزیز بھٹی شہید نے بھارتی فوج کا حملہ روک دیا تھا۔ بی آر بی نہر کے کنارے اس چوکی کے شہید کو سلام کیا جس نے تین دن تک تن تنہا بھارتی فوج کا مقابلہ کیا تھا۔ میں نے بی آر بی نہر کے کنارے ایک چھوٹے سے مورچے کی چھت پر دو رکعت نفل ادا کر کے جنگ ستمبر کے تمام شہداء کے اعلیٰ درجات کے لیے دعا کی تھی کسی اور قوم یا فوج میں دفاع وطن کا ایسا جذبہ نظر نہیں آیا۔ جس دن بھارتی مسلمانوں کی یہ دعا قبول ہوگی کہ ’’الٰہی بھیج دے محمود کوئی، نظام کفر چھایا جا رہا ہے۔‘‘ اس دن بھارتی سینا کو پتا چل جائے گا کہ واقعی’’ جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی‘‘ ایسی ہی ایک زنانی مائیک ہاتھ میں لیے بھارتی معتصب میڈیا کے کیمرہ مینوں کے ساتھ فاروق عبداللہ کے پاس پہنچ گئی تھی، بار بار ایک ہی سوال کیا پلوامہ حملہ میں پاکستان ملوث ہے؟ وہ دن گئے جب فاروق عبداللہ بھارتی نیتاؤں کی زبان بولا کرتے تھے، بلا شبہ ان کے والد شیخ عبداللہ نے کشمیری قوم کا سودا کیا تھا، قومے فروختندچہ ارزاں فروختند، اسی غلطی کا خمیازہ کشمیری قوم اب تک بھگت رہی ہے، لاکھوں کشمیری شہید ہو کر بھی کفارہ ادا نہیں کرسکے، فاروق عبداللہ کا لہجہ بدلا ہے پچھتاوا رگ و پے میں سمایا دکھائی دیا، زنانی کے سوال پر غضبناک ہوگئے کہا تم غلط سوال کر رہی ہو، پاکستان کیوں ملوث ہوگا بھارتی حکومت کشمیریوں پر جو انسانیت سوز مظالم ڈھا رہی ہے پلوامہ حملہ اس کا ری ایکشن ہے سنو لڑکی، ہر ایکشن کا ایک ری ایکشن ہوتا ہے بھارتی نیتاؤں نے جو بویا ہے وہی کاٹ رہے ہیں، پتھراؤ کے جواب میں گولیاں برساتے ہو، پیلٹ گنوں سے سیکڑوں نوجوانوں کی بینائی چھین چکے ہو، ہتھیاروں کے استعمال سے تم نے کشمیری نسلیں تباہ کردی ہیں، دوش پاکستان کو کیوں دیتے ہو، کشمیری حق خود ارادیت ہی تو مانگ رہے ہیں، زنانی مائیک سمیت بھاگ گئی، ایک فاروق عبداللہ ہی گہری نیند سے بیدار نہیں ہوئے، بھارت کے فوجی جنرل، افسر حتیٰ کہ سپاہی بھی مودی کے پاگل پن سے نالاں ہیں، مایوسی میں خود کشیاں کر رہے ہیں، بھارتی سپریم کورٹ کے ایک سابق جسٹس مرکنڈے اپنی حکومت پر برس پڑے بولے’’ بدلہ لینے کی بات کرتے ہو، بے وقوفی کی بات کرتے ہو کیسے بدلہ لو گے پاکستان ایٹمی قوت ہے کوئی مذاق نہیں، پاکستانی فوج تیار ہے کوئی سر پرائز نہیں دیا جاسکتا، ایل او سی کراس کر کے دیکھو، جم کر رد عمل سامنے آئے گا۔ سرجیکل اسرائیک کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں، بالفاظ دگر جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے سرجیکل اسرائیک کی بجائے مودی کو دماغ کی سرجری کا مشورہ دے دیا۔ ایک اور بھارتی دانشور پر تاب بھانو مہتاب نے مودی کو یہ کہہ کر آئینہ دکھایا کہ بھارت شدید گھٹن کا شکار ہے پلوامہ حملہ کے ڈرامے میں پاکستان جیت گیا بھارت ہار گیا، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم ہی تباہی کا باعث بن رہے ہیں ،کشمیر کی بگڑتی صورتحال کے ہم خود ذمہ دار ہیں‘‘ سب یہی کہہ رہے ہیں، لیکن پاگل وزیر اعظم کی عقل پر پتھر پڑے ہیں، مودی رے مودی تیری کون سی کل سیدھی، ایک بھی نہیں، پاگل وزیر اعظم پاکستان کے خلاف سعودی عرب کی حمایت حاصل نہیں کرسکا، ترکی کو اپنی زبان میں نہیں سمجھا سکا، حتیٰ کہ امریکا کے جنونی صدر نے بھی پاکستان کے خلاف الزامات پر یقین نہیں کیا، مودی کے پاگل پن سے قطع نظر ہمارے جو ان اللہ کے سپاہی تیار ہیں، آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس پی آر اور سویلین قیادت وزیر اعظم عمران خان، اپوزیشن کے تمام قائدین اور 22 کروڑ عوام ملکی دفاع کے لیے یک زبان ہو کر کہہ چکے ہیں کہ امن پسند ملک ضرور ہیں لیکن بھارت کی ننگی جارحیت کا بھر پور جواب دیں گے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی فوج کو بھارتی جارحیت پر فیصلہ کن جواب کا اختیار دے دیا ہے مودی کے پاگل پن میں کمی نہ ہوئی تو یہ بھارت کے سوا ارب عوام کی بد قسمتی ہوگی مودی جان لے جنگ روایتی ہو یا نیم روایتی بھارت پاکستان کو شکست نہیں دے سکتا۔


ای پیپر