آغا سراج کی گرفتاری اور سندھ کی سیاسی صورتِ حال
24 فروری 2019 2019-02-24

و طنِ عز یز کی مو جو دہ صو ر تِ حا ل انتہا ئی حسا سیت کی حا مل ہے۔لہذا ز یرِ نظر کا لم انتہا ئی احتیا ط کا متقا ضی ہے۔ تو صا حبو با ت کچھ یو ں ہے کہ سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری سندھ کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے لیے خطرے کی گھنٹی کا تا ثر دے رہی ہے۔ صا ف نظر آ رہا ہے کہ پی پی سمجھ چکی ہے کہ نیب مقدمات کا جو سلسلہ شروع ہونا تھا اس کا آغاز ہوگیا ہے۔ یہ سلسلہ اب آگے بڑھ رہا ہے۔ سپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری پر ایک سیاسی طوفان بنتا نظر آرہا ہے۔ آغا سراج درانی کو اسلام آباد کے سرینا ہوٹل سے گرفتار کرکے کراچی منتقل کردیا گیا ہے۔ انہیں تفتیش کے لیے نیب کراچی کے حوالے کیا جائے گا۔ خیا ل ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں زرداری، فریال تالپور، بلاول، مراد علی شاہ اور اومنی گروپ نیب کو جواب دیں گے۔ در اصل تحقیقات کا فوکس دبئی میں وہ معاملات ہیں جو اومنی گروپ چلاتی تھی۔ اومنی گروپ اور آصف علی زرداری کے یہ معاملات دبئی میں دراصل چار بھارتی باشندے سنبھالتے تھے۔ وہاں کا مرکزی نظام اشیش مہتہ نامی ایک بھارتی شخص چلاتا تھا۔ ایک اور بھارتی باشندے ڈیوڈ کوہلین کا بھی اس حوالے سے اہم کردار ہے۔ اس کے علاوہ جارج نامی بھارتی سے متعلق معلومات ملی ہیں کہ دبئی کے راستے دیگر جگہوں پر جانے والے کروڑوں اربوں کی رقو م کا وہ مرکزی کردار تھا۔لگ ر ہا ہے کہ تفتیش کا دائرہ آصف علی زرداری، فریال تالپور، بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ تک پھیلے گا۔ اس معاملے کو سیاسی رخ د ینے کی کو شش کی جا رہی ہے۔ آغا سراج درانی کی گرفتاری کو پی پی نے جمہوریت پر حملہ قرار دیا ۔ سندھ کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس بھی ہوا، اجلاس کے بعد کابینہ کے اراکین اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما قافلے کی صورت میں ڈیفنس سوسائٹی میں آغا سراج درانی کے گھر پہنچے اور وہاں دھرنا دیا۔ د ھر نا دینے وا لو ں میں اکثریت صوبائی وزراء کی تھی۔ان کے وفد کی قیادت سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے کی۔ تاہم وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نہیں آئے۔ نیب کی ٹیم شام 4 بجے سے گھر کے اندر ا یک لمبے و قت تک تلاشی لیتی رہی ۔ سیکورٹی کے لیے رینجرز بھی موجود رہے۔ اس وقت صوبائی اسمبلی کا اجلاس 27 فروری تک ملتوی ہے۔ 27 فروری کو اجلاس طلب کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ آغا سراج درانی کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جاسکیں۔ پیپلز پارٹی نے اس حوالے سے بھرپور احتجاج کی حکمت عملی بنائی ہے۔ اس سلسلے میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے میڈیا سے گفتگو کی ہے۔ بلاول نے لندن میں گفتگو کے دوران یہ نہیں بتایا کہ وہ کب پاکستان واپس آئیں گے یا نہیں۔ شاید وہ فوری طور پر واپس نہ آئیں۔ آصف زرداری کی میڈیا سے گفتگو میں کوشش تھی کہ یہ ظاہر ہو کہ وہ بالکل نارمل ہیں۔ وہ صحافیوں کے سوالوں کا جو ا ب مضحکہ خیز اند ا ز میں دیتے رہے۔ ان کی کوشش تھی کہ سنجیدہ سوالوں کا بھی مزاحیہ انداز میں جواب دیں۔ آصف زرداری کی اداؤں سے ظاہر تھا کہ وہ ماحول کو بھانپ رہے ہیں۔ بلاول کا نام بھی اس تحقیقات میں شامل ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ نیب ان سے بھی پوچھ گچھ کرنا چاہے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ بلاول بھٹو یورپ سے پاکستان کب واپس آتے ہیں؟

نیب راولپنڈی نے سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی گر فتا ری کے بعد احتساب عدالت سے 3 روزہ راہداری ریمانڈ کی منظوری حاصل کرلی۔ نیب کے ترجمان کے مطابق آغا سراج درانی کو آمدن سے زائد اثاثوں اور فنڈز میں خردبرد پر گرفتار کیا ہے۔ احتساب عدالت میں جج محمد بشیر کے روبرو نیب پراسیکوٹرز نے ملزم کے خلاف کراچی میں اثاثہ جات ریفرنس زیر سماعت ہونے کے حوالے سے دلائل دیئے کہ انہیں مجاز اتھارٹی کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر گرفتار کیا گیا۔سپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری بادی النظر میں ملک میں جاری احتساب کے عمل کا تسلسل ہے۔ مگر جس ڈرامائی طریقے سے سپیکر کو اسلام آباد کے ہوٹل سے گرفتار کرکے احتساب عدالت پیش کیا گیا اور بعد ازاں انہیں کراچی منتقل کیا اس پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ کیا ان کو کراچی میں تحویل میں نہیں لیا جاسکتا تھا۔ صوبہ کی احتساب عدالتیں کیس کی سماعت کرسکتی ہیں۔ غو ر کر نے کی با ت یہ ہے کہ سندھ اسمبلی کے کئی اجلاس گزشتہ دنوں سے جاری تھے۔ اس صو رتِ حا ل کے تحت پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے شدید اضطراب اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔ پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ حکومت کو مزید وقت نہیں دے سکتے۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے جو بیرونِ ملک ہیں، مطالبہ کیا ہے کہ نیب دوسروں کو بھی پکڑے۔ سندھ کی سیاست میں ہلچل ہے، جی ڈی اے نے ہنگامی اجلاس جبکہ ن لیگ اور جمعیت علمائے اسلام سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیز نے صوبے کی سیاسی صورتحال پر لائحہ عمل کی تیاری کا عندیہ دیا ہے۔ آغا سراج درانی کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی ارکان نے سپیکر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے صوبائی اسمبلی کا فوری اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈپٹی سپیکر سندھ اسمبلی نے آغا سراج درانی کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کردیئے ہیں۔ سندھ اسمبلی کے حوالہ سے چہ مگوئیاں بھی شروع ہوگئی ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ سپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری تک بات نہیں رکے گی۔ چنانچہ صائب استدلال یہی ہے کہ احتسابی عمل کی شفافیت کا تسلسل جاری رہے، احتساب پر کسی کو اختلاف نہیں۔ جمہوریت اور احتساب لازم و ملزوم ہیں۔ سوال بلا امتیاز کرپٹ عناصر پر بے عیب قانونی گرفت کا ہے اور وہ بھی ٹھوس شواہد، شفاف تحقیقات کے بعد۔ مناسب ہے کہ کسی بھی سیاستدان کی گرفتاری سے اوورپلے کا تاثر نہ جائے۔ جن کے خلاف ناقابل تردید، اظہر من الشمس شواہد اور ثبوت ہیں ان کا احتساب کسی کو ناگوار خاطر نہیں گزرے گا مگر گرفتاریوں کی حکمت عملی میں تعصب اور صوبائیت کا شائبہ تک نہیں ملنا چاہیے۔ نیب کئی ہائی پروفائل کیسز میں معروف سیاستدانوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ ملزمان کو گرفتار کرچکی ہے، پنجاب کے سابق سینئر وزیر علیم خان نیب کی تحویل میں ہیں۔ تاہم ملکی سیاسی صورتحال کی گرما گرم جدلیات بھی نظر سے اوجھل نہ ہو، سیاسی و جمہوری عمل کو کسی قسم کی زک نہیں پہنچنی چاہیے۔ جمہوریت کی قانونی حدود کا ہر کسی کو پاس و لحاظ رکھنا اولین شرط ہے۔ دنیا بھر میں کرپشن کے خلاف حکومتیں کارروائی کررہی ہیں۔ بدعنوانی کے خلاف لہر عالمی ہے۔ سپیکر کا عہدہ آئینی ہے جبکہ سپیکر آئینی طور پر رکن اسمبلی کو اسمبلی میں بھی طلب کرسکتا ہے۔ جبکہ مذکورہ گرفتاری کے طر یقہِ کا ر پر صائب قانونی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ بعض قانونی ماہرین کے مطابق گرفتاری کراچی میں بھی ہوسکتی تھی۔ سپیکرکے ملک سے اچانک باہر جانے یا تحقیقاتی عمل میں مزاحمت کا کوئی واقعہ بھی میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوا۔ سماعت کے بعد سپیکر سندھ اسمبلی نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ میں اسلام آباد دعوت پر آیا تھا۔ عدالت میں اپنا کیس لڑوں گا۔ نیب ملک بھر میں کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔ یہ استدلالی انداز نظر ہے مگر کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے والے کئی ملزمان کو شواہد اور الزامات میں عدم مطابقت کے باعث عدالتوں سے ریلیف ملا، ان کی ضمانتیں ہوئیں۔ بعض حساس ریفرنسز غیر موثر قرار پائے، جبکہ اہم کیسز میں بھی ملزمان کو ابھی تک سزا نہیں ہوئی۔ ا س طر ح کے کئی حوالے ہیں۔ اس لیے لازم ہے کہ تحقیقاتی ادارے احتساب کی شفافیت کا بھرم بھی قائم رکھیں تاکہ کوئی اس پر سیاست نہ کرسکے۔


ای پیپر