امریکی سی آئی اے اور انتخابات میں مداخلت کا الزام
24 فروری 2019 2019-02-24

جب سے ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر بنے ہیں اس وقت سے سابق صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن، ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت، لبرل امریکی میڈیا اور CIA کی طرف سے تواتر کے ساتھ یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ روس نے امریکہ کے 2016 ء کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کی اور ہیلری کلنٹن کو ہروانے اور ڈونلڈ ٹرمپ کو جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہیلری کلنٹن کی طرف سے یہ الزام مسلسل عائد کیا جا رہا ہے کہ روسی ہیکرز نے صدارتی مہم کی ای میلز ہیک کر کے انہیں میڈیا کو جاری کیا جس سے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا اور وہ انتخابات ہار گئیں۔ لبرل امریکی میڈیا تسلسل کے ساتھ اس الزام کے متعلق خبریں اور تبصرے شائع کرتا ہے۔ ان خبروں اور تجزیوں کے بنیادی ذرائع CIA کے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ یہ عمل 2016ء سے جاری ہے مگر اس میں اچانک اس وقت شدت آ گئی جب جمہوری سوشلزم کے نظریات رکھنے والے سینئر برنی سینڈرز نے ایک بار پھر صدارتی انتخابات 2020 میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ جیسے ہی ان کا اعلان سامنے آیا اسی وقت ہیلری کلنٹن نے یہ الزام عائد کر دیا کہ سینیٹر برنی سینڈرز دراصل روسی حکمت عملی اور ایجنڈے کے تحت انتخابات میں حصہ لینا چاہیے ہیں اور یہ امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کا تسلسل ہے۔ دراصل ہیلری کلنٹن امریکی حکمران طبقے کے اس حصے کی نمائندہ امیدوار تھیں جو کہ عالمگیریت (گلو بلائزیشن) کا حامی ہے اور براہ راست امریکی فوجی مداخلت کو دنیا میں امریکی بالادستی اور غلبے کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ یہی صورت حال لبرل امریکی میڈیا کی ہے جو کہ گلوبلائزیشن کا حامی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ روس نے صدر ٹرمپ کی مدد اس لیے کی تاکہ وہ گلوبلائزیشن کے عمل اور امریکی بالادستی کو نقصان پہنچایا جائے اور وہ دلیل کے طو رپر صدر ٹرمپ کی معاشی اور تجارتی پالیسیوں کو پیش کرتے ہیں۔ اس موضوع پر پھر کسی اور کالم میں ذکر ہو گا اس کالم کا مقصد دراصل اس تاثر پر بات کرنا ہے جو کہ امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے حوالے سے پیدا کیا گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے روس جہاں چاہے اور جسے چاہے جتوا دے یا شکست دلوا دے اور امریکہ خاموشی سے یہ سب کچھ برداشت کر رہا ہے جبکہ ہر طرف روس دندناتا پھر رہا ہے۔ حالانکہ تاریخ اور حقائق تو ہمیں کچھ اور ہی بتاتے ہیں۔ امریکی سامراجی مفادات کو پورا کرنے کے لیے 1946ء سے اب تک امریکی CIA نے 61 ملکوں میں جمہوری اور غیر جمہوری حکومتوں کے خاتمے اور اپنے مرضی کی حکومت لانے کے لیے مداخلت کی۔ اسی طرح 1946ء سے 2000 ء تک 81 ملکوں کے انتخابات میں امریکہ نے مداخلت کی اور بائیں بازو کی جماعتوں کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے اور دائیں بازو کی امریکی حامی جماعتوں کو جتوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی CIA نے افریقہ، لاطینی امریکہ اور ایشیاء میں امریکی سامراجی مفادات کے تحفظ اور حصول کے لیے جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹا۔ ان میں ایران میں ڈاکٹر مقدس اور چلی میں الدندے کی حکومتیں نمایاں ہیں۔ امریکی مفادات کے تحت بے شمار ملکوں میں جمہوریت کا خاتمہ کر کے قومی آمرمتوں کو مسلط کیا گیا۔ انڈونیشا میں صدر سونیکا رنو کی حکومت کا فوجی بغاوت کے ذریعے خاتمہ کیا گیا اور پھر فوجی آمریت کے ذریعے کمیونسٹ پارٹی اور ان کے حامیوں کا قتل عام کیا گیا۔

اس کام کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈا استعمال کیاگیا۔ پاکستان میں 1977 ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف چلنے والی تحریک اس سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی آمریت مسلط کی گئی جس نے پاکستانی سماج کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا۔ دنیا بھر میں حکومتوں کا تختہ الٹنے، اپنی مرضی کی حکومتوں کو اقتدار میں لانے اور انتخابات میں مداخلت کا جتنا تجربہ CIA کو ہے اس کا دوسر ا کوئی مقابل نہیں۔ CIA سے زیادہ انتخابات میں مداخلت شاید دنیا کے کسی اور ادارے نے کی ہو۔ کارنیگی میلن یونیورسٹی کے پولٹیکل سائنس کے شعبے سے وابستہ محقق ڈوولیون نے اس حوالے سے بہتر گہری ریسرچ کی ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق امریکہ نے 1946ء سے 2000ء تک 81 ملکوں کے مختلف انتخابات میں مداخلت کی جبکہ حکومتوں کے تبدیل کرنے اور ان کے تختے الٹنے کی کوششیں ان کے علاوہ ہیں۔ انتخابات میں مداخلت کے حوالے سے لاطینی امریکہ، ایشیا اور یورپ امریکی توجہ کا مرکز رہے۔ یہ دور دنیا میں سرد جنگ کے عروج کا دور تھا۔ امریکہ کو پوری کوشش تھی کہ مختلف ممالک میں بائیں بازو کی حکومتیں برسراقتدار نہ آ سکیں۔ کمیونسٹ پارٹیوں اور امریکہ مخالف جماعتوں کو انتخابات جیتنے سے روکنے کے لیے امریکہ کی طرف سے ان جماعتوں کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا۔ ان جماعتوں کے مخالفین میں پیسے تقسیم کیے گئے۔ اور ہر وہ کام کیا گیا جس سے انہیں نقصان پنچانا تھا اور ان کے مخالفین کو فائدہ ۔ لیون کی تحقیقات کے مطابق CIA نے دو تہائی اقدامات خفیہ طریقے سے کیے اور ان میں مختلف طریقے، حکمت عملی اور منصوبے شامل کیے گئے۔ مختلف جماعتوں کو انتخابی مہم کے لیے پیسے دیئے گئے۔ مختلف جماعتوں اور قیادتوں کے خلاف منفی اور زہریلا پروپیگنڈا کیا گیا۔ انتخابی مہم منظم کرنے میں مدد فراہم کی گئی۔ غیر ملکی امداد اور قرضوں کو بھی استعمال کیا گیا۔ یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ اگر عوام نے ایک مخصوص جماعت کو ووٹ دے کر اقتدار میں لانے کی کوشش کی تو اس کے نتیجے میں غیر ملکی امداد اور عالمی مالیاتی اداروں کے قرضے رک جائیں گے۔ CIA کی 60 فیصد کے قریب کارروائیاں اور مداخلتیں کامیاب رہیں اور امریکہ اپنی مرضی کی حکومتوں کو برسراقتدار لانے میں کامیاب ہوا۔ خاص طور پر ان ممالک میں CIA کو زیادہ کامیابی ملی جہاں مقابلہ بہت سخت تھا اور جیتنے اور ہارنے والوں کے درمیان فرق بہت معمولی تھا۔ لیون نے بہت تفصیل سے مختلف ممالک میں امریکی مداخلت کے ذریعے انتخابات کے نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش کا ذکر کیا ہے جس پر اگلے کالم میں بات ہو گی اور مختصراً مختلف قسم کے تجربات بیان کروں گا تا کہ اندازہ لگایا جا سکے کہ جس جمہوریت کا امریکہ چیمپئن بنتا ہے اسی کو نیست و نبود کرنے میں اس نے کیا کردار ادا کیا مگر لیون اور جان پلگر کی تحقیق نے بہت سے پہلو اور معاملات کو بے نقاب کیا ہے۔ خاص طور پر یہ حقیقت سامنے آئی کہ امریکہ کی جانب سے کس قدر بڑے پیمانے پر مختلف ممالک کے انتخابات میں مداخلت کی گئی اور نتائج پر اثر انداز ہوا گیامگر لبرل امریکی میڈیا اور ہیلری کلنٹن کی طرف سے امریکی مداخلت پر ایک لفظ بھی نہیں بولا گیا۔ اگر امریکی انتخابات میں روسی مداخلت غلط تو دنیا بھر میں امریکی مداخلت کیسے درست ہو سکتی ہے۔ باقی اگلے کالم میں ۔

(جاری ہے)


ای پیپر