جماعۃالدعوۃ کی عدالتی جنگ
24 فروری 2019 2019-02-24

وفاقی وزارت داخلہ نے جماعۃالدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی کا حکم نامہ جاری کیا اور ہدایت کی ہے کہ دونوں تنظیموں کے بینک اکاؤنٹس منجمند کر دیے جائیں۔ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق یہ فیصلہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا ہے جس کی صدارت وزیر اعظم عمران خان نے کی۔ وزارت داخلہ کی طرف سے کشمیریوں کی سب سے مضبوط آواز جماعۃالدعوۃ اور اس کے رفاہی ادارے پر پابندی لگائے جانے کے اعلان پر مودی سرکار اور متعصب ہندو میڈیا نے خوشی کے شادیانے بجائے ہیں۔ نریندر مودی حکومت جو پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دے رہی تھی اورہندوستانی فوجیوں کی ہلاکت کا بدلہ لینے کیلئے سرجیکل سٹرائیک کی باتیں کی جارہی تھیں اسے بھی اپنی عوام کو مطمئن کرنے کا موقع ہاتھ آ گیا ہے اورہمسایہ ملک میں بھارتی عوام کو یہی تاثر دیا جارہا ہے کہ پلوامہ حملہ کے بعد انڈیا کے احتجاج پر جماعۃالدعوۃ اور ایف آئی ایف پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ پاکستانی حکومت اس صورتحال پر خواہ کچھ بھی کہے لیکن جس حساس موقع پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا گیا ہے اس سے عام تاثر یہی ملتا ہے۔ یہ وقت تھا کہ قوم کو متحد اور ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جاتا لیکن افسوس کہ ایسا نہیں کیاگیااور محب وطن جماعتوں پر پابندیوں کے متنازعہ فیصلے کئے جارہے ہیں جس پر پوری قوم میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔چند سال قبل ممبئی حملوں کے بعد بھی انڈیا نے یہی کھیل کھیلا اور جماعۃالدعوۃ پر پابندیاں لگوانے کیلئے بے سروپا الزامات لگائے ۔ اس دوران بھارتی مطالبہ پر حافظ محمد سعید ودیگر رہنماؤں کو نظربند کیا گیااور ان کی جماعت پر پابندیاں لگائی گئیں جس سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو نقصان پہنچا اور ان کا اعتمادمجروح ہوا۔ مقبوضہ کشمیر سے حریت قائدین نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو خط لکھ کر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیاتھا۔ پلوامہ حملہ کے بعد بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔ جس نوجوان نے حملہ کیا وہ کشمیرکا مقامی رہائشی تھا‘ کار میں نصب کیا گیا بارود انڈیا سے برآمد ہوا اور گاڑی وہاں کی استعمال کی گئی۔ بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق عادل احمد نامی حملہ کرنے والا یہ نوجوان بہت ذہین اور ڈاکٹر بننا چاہتا تھا لیکن بھارتی فوج کے ظلم و دہشت گردی نے اسے کشمیری مجاہدین کی صفوں میں شامل کر دیا۔ جب اس واقعہ سے متعلق ہر بات واضح ہے توپھر حکومت کو صاف طور پر بھارت سے کہنا چاہیے کہ وہ اپنے فوجیوں کی ہلاکت روکنا چاہتا ہے تو مظلوم کشمیریوں کواقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق خودارادیت دے اور بلاوجہ کی دہشت گردی اور قتل عام بند کرے ۔ جب تک کشمیریوں کی عزتیں ، حقوق اور ان کے مال و جان محفوظ نہیں ہوں گے یہ سلسلہ کیسے رک سکتا ہے؟۔ حکومت پاکستان کو کسی طور پلوامہ حملہ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر دباؤ کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

فلاح انسانیت فاؤنڈیشن نے تھرپارکر سندھ، بلوچستان اور دیگر دور دراز علاقوں میں صرف مسلمانوں ہی نہیں ہندوؤں اور دیگر اقلیتوں کی بھی بلا تفریق رنگ، نسل و مذہب خدمت کی ہے جس سے ریلیف کی آڑ میں غیر ملکی این جی اوز کی سرگرمیوں کو سخت دھچکا لگاجبکہ قوم پرست لوگ بھی قومی دھارے میں شامل ہو کر ایف آئی ایف کے پلیٹ فارم سے خدمت خلق کی سرگرمیوں میں تعاون کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ جماعۃ الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کا یہ کردار بیرونی قوتوں کو کسی طور برداشت نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ آئے دن دباؤ ڈال کر جماعۃالدعوۃ پر پابندیاں لگوانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔نائن الیون کے بعد بار بار یہ کھیلا کھیلاجاتا رہا ہے۔ کئی مرتبہ حافظ محمد سعید اور ان کے ساتھی رہنماؤں مرحوم شیخ الحدیث مفتی عبدالرحمن رحمانی، پروفیسر ظفر اقبال،مولانا امیر حمزہ، حاجی نذیر احمد، مفتی عبدالرحمن عابد،مولانا عبداللہ عبیداور قاضی کاشف نیازجیسے اہم رہنماؤں کو بلا وجہ نظربند کیا گیااور جماعۃالدعوۃ کی رفاہی، فلاحی اور دعوتی سرگرمیوں پر پابندیاں لگائی گئیں جس پر جماعۃالدعوۃ کی قیادت نے ہمیشہ قانون کا راستہ اختیار کیا اور بھرپور عدالتی جنگ لڑی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اعلیٰ عدلیہ نے ہمیشہ حافظ محمد سعید اور انکی جماعت کے حق میں فیصلے دیے۔ سب سے پہلے 2002ء میں پرویز مشرف دور میں پابندی لگائی گئی جس پر جسٹس چوہدری اعجاز احمد کی عدالت میں کیس دائر ہواجو کئی ماہ تک جاری رہا اور پھر عدالت نے اپنے فیصلہ میں بھارتی پروپیگنڈا پر مبنی رپورٹوں کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ کشمیری جہادی تنظیم لشکر طیبہ اور جماعۃالدعوۃ دونوں الگ الگ تنظیمیں ہیں۔ حافظ محمد سعید نے 24دسمبر 2001ء کو لاہورمیں پریس کانفرنس کے ذریعہ لشکر طیبہ کو بارہ رکنی کشمیری کونسل کے سپرد کر دیا تھا لہٰذا جب وہ اس تنظیم کا حصہ نہیں رہے تو پھر انہیں الزام کی بنیاد پر کیسے نظربند کیا جاسکتا ہے؟۔2006ء میں امیر جماعۃالدعوۃ کو نظربند کیا گیاتو 28اگست 2006میں جسٹس محمد اختر شبیر نے کیس کی سماعت کے بعدان کی رہائی کا فیصلہ سناتے ہوئے ان پر لگائے گئے تمام الزامات کو رد کر دیا۔ 2008ء میں ممبئی حملے ہوئے تو بھارتی حکومت اور میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا اور پاکستان کی طرح جماعۃالدعوۃ کے ملوث ہونے کا گمراہ کن پروپیگنڈا شروع کر دیا۔ بھارت سرکار نے امریکہ کو ساتھ ملا کر پاکستان پر دباؤ بڑھا یا تو بغیر کسی ثبوت کے حافظ محمد سعیداور دیگر کئی رہنماؤں کونظربند اور راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ڈال دیا گیا۔ یہ افسوسناک مرحلہ تھا تاہم جماعۃالدعوۃ کی قیادت نے اس موقع پر بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور لاہور ہائی کورٹ میں کیس دائر کیا جس پر جسٹس اعجاز احمد چوہدری کی قیادت میں فل بنچ کے روبرو طویل سماعتیں ہوئیں۔ معروف قانون دان اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ نے بھرپور انداز میں کیس لڑا اور جسٹس اعجاز احمد چوہدری کی سربراہی میں فل بنچ نے اپنے تاریخی فیصلہ میں واضح طور پر قرار دیا کہ جماعۃالدعوۃ کیخلاف ممبئی حملوں، القاعدہ یا کسی دہشت گردتنظیم سے تعلق کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور یہ کہ جماعۃالدعوۃ ملک میں کسی قسم کی دہشت گردی یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہے۔ پاکستان ایک آزاد و خودمختار ملک ہے‘ محض اقوام متحدہ کی قرارداد کی بنیاد پرکسی شخص کی آزادی سلب نہیں کی جاسکتی لہٰذا ان کی نظربندی ختم کی جاتی ہے۔عدالت کے اس فیصلہ سے جماعۃالدعوۃ کو ملک میں دوبارہ اپنی رفاہی، فلاحی اور دعوتی سرگرمیاں جاری رکھنے کی آزادی حاصل ہوئی تو پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کیخلاف سپریم کورٹ میں کیس دائر کر دیاجس پر سپریم کورٹ میں بھی فل بنچ بنا اور جسٹس ناصرالملک کی قیادت میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس رحمت حسین جعفری پر مشتمل بنچ نے پنجاب حکومت کی اس رٹ پٹیشن کو مسترد کر دیا اور لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھا گیا۔اعلیٰ عدلیہ کے ان فیصلوں کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر انڈیا کی پاکستان کیخلاف سفارتی مہم کا جواب دیتی اورعدالتوں کے فیصلوں کو دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا مگر افسوس کہ اس کے بعد بھی کئی مواقع پر جماعۃالدعوۃ کیخلاف اقدامات اٹھائے جاتے رہے۔ 2017ء میں بھی جب حافظ محمد سعید نے پانچ فروری کے موقع پر عشرہ کشمیر منانے کا اعلان کیا تو بھارتی شور شرابہ پر انہیں دوبارہ نظربند کر دیا گیا جس پر دس ماہ تک وہ نظربند رہے اور پھرلاہورہائی کورٹ کے فیصلہ پر انہیں رہا کیا گیا۔پچھلے اٹھارہ برس سے پابندیوں اور نظربندیوں کا یہ کھیل جاری ہے اور جماعۃالدعوۃ بھی خم ٹھونک کر اپنے موقف پر قائم ہے۔ ان کے کسی رکن پر پورے ملک میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہے اور عدالتیں بھی کھل کر اس بات کا اظہار کر چکی ہیں کہ یہ جماعت ملک میں کسی قسم کی منفی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہے تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ جماعۃالدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر ایک بار پھر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔مرد مجاہد حافظ محمد سعید نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کارکنا ن کو صبر و استقامت کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جماعۃالدعوۃ نے ایسے مشکل حالات میں پہلے بھی قانون کا سہار ا لیاہے ، اب بھی ان شاء اللہ قانون سے ہی اپنا حق لیں گے اور بھرپور عدالتی جنگ لڑی جائے گی۔


ای پیپر