وزیراعظم حج کے لیے پاکستانی عوام کی استطاعت بڑھائیں
24 فروری 2019 2019-02-24

مملکت پاکستان کی اس سے زیادہ بدقسمتی کیا ہو گی کہ متوسط طبقے کے لیے حج کی ادائیگی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ سن 2018 میں سرکاری حج کے اخراجات شمالی ریجن کے لیے293050 اور جنوبی ریجن کے لیے 283050 روپے (قربانی کی رقم کے علاوہ)تھے جو کہ 2019 میں بڑھ کر بتدریج 436975 اور 426975 روپے (قربانی کے علاوہ) ہو گئے ہیں۔ اگر قربانی اور تھوڑا بہت زاد راہ بھی شامل کر لیا جائے تو یہ رقم تقریباً پانچ لاکھ روپے بن جاتی ہے۔ جو کہ متوسط طبقے کے لیے خرچ کرنا بہت مشکل ہے۔ اس اضافے نے متوسط طبقے کو شش و پنج میں ڈال دیا ہے کہ کیا وہ کبھی حج ادا کر سکیں گے یا نہیں؟یا وہ حج کی خواہش دل میں لیے ہی دنیا سے رخصت ہو جائیں گے؟ ان حالات میں عوام ریاست کی طرف دیکھ رہی ہے اور مجھے یقین ہے کہ حکومت پاکستان بھی اس مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔ جہاں اس مسئلے کے بہت سے حل موجود ہیں وہاں ملائشیا کا'' تابونگ حاجی'' منصوبہ بھی پاکستانی عوام کے حج مسائل حل کرنے کے لیے بہترین ماڈل ہے۔آئیے ''تابونگ حاجی'' منصوبے کے بارے میں جانتے ہیں۔

سن 1963 سے پہلے ملائشیا میں سرکاری سطح پر حلال منصوبوں میں سرمایہ کاری کر کے حج کی ادائیگی کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں تھا۔ اس وقت بھی ملائشیا میں کنونشنل بینک کام کر رہے تھے لیکن ملائشیا کی عوام سود کے کاروبار سے پیسہ کما کر حج نہیں کرنا چاہتے تھے۔ کیونکہ حج ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کی آمدنی سود سے پاک ہو۔ معاملے کی سنجیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشیات کے پروفیسر جناب اُنگکو عبدالعزیز بن اُنگکو عبدالحامد نے 1959 میں ملائشیا کی وفاقی حکومت کی توجہ حلال سرمایہ کاری کے ذریعے عوام کو حج کی سہولت فراہم کرنے کی طرف دلوائی۔ اس سرمایہ کاری کا نام پراسپکٹیو حج پلگرمز سیونگز کارپوریشن تجویز کیا گیا اور 30 ستمبر 1963 کو پورے ملک میں پہلی مرتبہ حج کی خواہش رکھنے والوں سے رقم کی وصولی کے لیے کاؤنٹر کھولے گئے۔پورے ملائشیا سے 1281 لوگوں نے حج سرمایہ کاری کے لیے کھاتے کھلوائے اور46610 رنگٹ جمع ہوئے۔ کھاتا داروں کو یقین دلایا گیا تھا کہ ان کی رقم سود سے پاک ہو گی اور وہ مکمل حلال کمائی سے اسلام کے پانچویں ستون حج کی ادائیگی کر سکیں گے۔اس منصوبے کو بعدازاں تابونگ حاجی(ٹی ایچ) کا نام دیا گیا۔

تابونگ حاجی پراجیکٹ کو 1995 کے تابونگ حاجی ایکٹ کے تحت چلایا جاتا ہے۔ جدید دنیا میں اس ایکٹ کو سرکاری سطح پر اسلامی حلال سرمایہ کاری کے ذریعے حج کی سہولت فراہم کرنے والا پہلا مکمل قانون سمجھا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت سرمایہ کاری کے لیے شرعی اصول وضع ہیں۔ تمام سرمایہ کاری المشارکہ، المضاربہ، المرابحہ، القردالحسن، الاجارہ، بے المعجل کے تحت ہوتی ہے۔ ٹی ایچ کی آمدنی ایکوئٹی منافع، عمارتوں کے کرائے،کنسٹرکشن، فارن ایسکچینج ریٹ منافع، شئیرز کی فروخت، سکیورٹی مارکیٹ سے حاصل شدہ منافع اور بونس کی صورت میں آتا ہے۔ کھاتا داروں کو منافع زکوٰۃ کی کٹوتی کے بعد ادا کیا جاتا ہے۔ تابونگ حاجی بینک اسلامی ملائشیا کی مذہبی کونسل اور نیشنل فتوی کمیٹی کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے معاشی ماہرین، کامیاب کاروباری حضرات اور بیوروکریٹس پر مشتمل فنانس اسلامی کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ حلال آمدنی کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی ایسے کاروبار جیسا کہ کنونشنل بینکنگ، کنونشنل انشورنس اور ہوٹلوں میں سرمایہ کاری نہیں کی جاتی۔اس قانون سے متاثر ہو کر دنیا کے دیگر اسلامی ممالک نے بھی اسے اپنا لیا ہے۔ جن میں انڈونیشیا اور مالدیپ سرفہرست ہیں۔تابونگ حاجی کا ممبر بننا بالکل مفت ہے۔ ممبر بننے کے لیے آپ کا مسلمان اور ملائشین شہری ہونا بنیادی شرطیں ہیں۔ مسلمان ملائشین شہری تابونگ حاجی کی سو سے زائد برانچوں کے ذریعے، ڈاکخانوں کے ذریعے، ماہانہ تنخواہ میں سے مستقل کٹوتی کے ذریعے، ہیڈ آفس میں براہ راست اپنے پیسے جمع کروانے کے ذریعے حج کے لیے رقم تابونگ حاجی میں جمع کروا سکتے ہیں۔تابونگ حاجی کی 120 سے زائد شاخوں کے علاوہ حکومت نے بارہ بینکوں کے ساتھ الحاق کر رکھا ہے۔ ٹی ایچ اکاونٹ رکھنے والا شہری ان بینکوں اور اے ٹی ایمز پر جا کر بھی ٹرانزیکشن کر سکتا ہے۔ جہاں ٹی ایچ سنٹرز قائم نہیں ہیں وہاں یہ بینک ٹی ایچ کے نمائندہ کی حیثیت سے بھی کام کرتے ہیں۔ جس سے کھاتا داروں کو کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

تابونگ حاجی میں حج کرنے والوں کا انتخاب کھاتے کی رقم کم یا زیادہ ہونے سے نہیں کیا جاتا بلکہ اس کا انتخاب خالص پہلے آؤ پہلے پاؤ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ ملائشین حکومت کی دلچسپی اور تابونگ حاجی کو عین اسلامی قوانین کے مطابق چلانے کے باعث 1281 کھاتہ داروں اور 46610 رنگٹ سے شروع ہونے والے پروجیکٹ میں اب تک 9ملین سے زیادہ اکاونٹ کھل چکے ہیں جن میں 73ارب رنگٹ جمع ہو چکے ہیں۔ جن کی مالیت پاکستانی روپوں میں تقریباً 25کھرب روپے بنتی ہے۔ اس پراجیکٹ کی مالیت کا اندازہ آپ صرف اس بات سے لگا لیں کہ ملک پاکستان کا سالانہ بجٹ تقریباً پچاس کھرب روپے ہوتا ہے۔ تابونگ حاجی میں جمع رقم پاکستانی بجٹ کا تقریباً 50فیصد بنتا ہے۔اس منصوبے کی بدولت ملائشین عوام حج کے لیے صاحب استطاعت بن چکے ہیں۔ وہ بآسانی اپنے حج کے اخراجات اپنی ہی جیب سے ادا کر سکتے ہیں۔اس منصوبے میں حج کی ادائیگی کے اخراجات نکالنے کے بعد بھی منافع بچ جاتا ہے۔ تابونگ حاجی وہ منافع کھاتہ داروں کو بونس کی شکل میں ادا کرتا ہے۔ پوری دنیا میں حج ادا کرنے کے لیے عوام کو صاحب استطاعت بنانے کا یہ بہترین حلال فارمولا ہے۔

(جاری ہے)


ای پیپر