24 فروری 2019 2019-02-24

مجھے اکثر بیرون ملک جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی مجھ سے میری اوقات سے بڑھ کر جو محبت فرماتے ہیں، میں اُس پر اللہ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے، اور اِس وجہ سے چند لوگ جو نفرت فرماتے ہیں، اور اللہ مجھے اُن کے شر سے محفوظ رکھتا ہے، اُس پر بھی میں اللہ کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے، بدقسمتی سے ہم اُس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کِسی سے نفرت کرنے کے لیے، یا حسد وغیرہ کرنے کے لیے کِسی خاص وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی، ابھی کل ایک صاحب مجھ سے کہہ رہے تھے”فلاں شخص مجھے زہر لگتا ہے“ .... میں نے پوچھا ”کیوں زہر لگتا ہے؟ کیا اُس نے کبھی آپ پر کوئی احسان کیا ہے؟“۔ وہ بولے ”نہیں.... بس ایسے ہی زہر لگتا ہے“۔.... خیر یہ ایک الگ موضوع ہے۔ فی الحال میں بیرون ملک مقیم کچھ پاکستانیوں کے مسائل پر بات کرنا چاہتا ہوں، ابھی پچھلے دِنوں میں کویت میں تھا، وہاں جِس روز وزیراعظم کویت جابر المبارک الحمدالصباح کے صاحبزادے شیخ مبارک جابر نے وزیراعظم ہاﺅس میں میرے اعزاز میں شاندار ضیافت کا اہتمام کیا اُس روز پاکستان کی دواہم سیاسی شخصیات جو وزیراعظم عمران خان کی رات دِن قربت کی دعویدار ہیں، اور اکثر اوقات اِس کا ناجائز فائدہ اُٹھاتی ہیں جس کا نقصان بالآخر وزیراعظم عمران خان کو ہی ہوتا ہے، کویت میں تھیں اور کوشش کررہی تھیں کویت کے وزیرداخلہ یا کسی اور اہم سرکاری عہدیدار سے اُن کی ملاقات ہوجائے جِس کے بعد وہ اپنے اِس ذاتی دورے کو ”کامیاب سرکاری دورہ“ قراردے سکیں۔ افسوس کویت کے کِسی اہم سرکاری عہدیدار سے اُن کی ملاقات نہ ہوسکی ، ممکن ہے کویتی حکمرانوں کو اُن کی ”اصلیت“ کا کچھ اندازہ ہو، اِس لیے اُنہوں نے اُن سے ملنے سے گریز کیا ہو، اِن میں ایک اعظم سواتی تھے جنہیں چند روز پہلے سپریم کورٹ پاکستان نے ایک غریب خاندان پر ظلم ڈھانے پر وزارت سے مستعفی ہونے پر مجبور کردیا تھا، وہ دنیا میں پہلے صرف مالی بدعنوانیوں کی وجہ سے بدنام تھے اِس واقعے کے بعد انسان دُشمنی کے حوالے سے بھی ہوگئے۔ اُمید ہے جلد ہی وہ پی ٹی آئی سے بھی فارغ ہو جائیں گے، کیونکہ پی ٹی آئی کو اب اِن ”تجوریوں“ یا ” اے ٹی ایم مشینوں“ کی اتنی ضرورت نہیں رہی، یا پھر وہ مجبوراً پی ٹی آئی میں رہیں گے کیونکہ کوئی اور سیاسی جماعت ان کو قبول کرنے کے لیے شاید ہی اب تیار ہو .... کویت کا دورہ کرنے والے دوسرے شخص نعیم الحق تھے، وہاں اُن کے ساتھ وہی کچھ ہوا جو پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی قربت کی آڑ میں منتخب نمائندوں کے ساتھ وہ کرتے ہیں،یعنی کویت کے کِسی سرکاری عہدیدار نے اُنہیں منہ ہی نہیں لگایا۔ ظاہر ہے اُن کے منہ سے کوئی عطر کی خوشبو تو آنی نہیں تھی، وہ کویت میں مقیم پاکستانیوں کے ساتھ بہت سے وعدے کرکے آئے ہیں۔ اُن سے گزارش ہے یہ وعدے اب پورے بھی کریں، خصوصاً کویت میں پی آئی اے کی منافع بخش فلائیٹ جو گزشتہ ایک برس سے بند کردی گئی ہے اُسے بحال کروانے کا فوری اہتمام کریں، جو بڑی آسانی سے وہ اِس لیے کرسکتے ہیں کہ اُنہیں ہروقت وزیراعظم کے اِردگرد رہنے کا موقع مِلتا ہے۔ یہ الگ بات ہے اُن کے ہروقت وزیراعظم کے اردگرد رہنے سے وزیراعظم کے کچھ اچھے معاملات میں بھی برکت نہیں رہتی، وزیراعظم اِن ” بدعتوں“ کوکچھ عرصے کے لیے خود سے پرے کردیں میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں ملک وقوم کی بھلائی کا اُن کاہروہ سہانا خواب ضرور پورا ہو جائے گا جو انتخابات سے قبل اُنہوں نے دیکھا تھا اور ہمیں بھی دکھایا تھا ،....سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے حوالے سے اپنے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کویتی حکمرانوں کے ساتھ اپنی کچھ ملاقاتوں میں مجھے یہ احساس ہوا ہماری طرح وہ بھی اس یقین میں مبتلا ہیں وزیراعظم عمران خان کو اپنے اقتدار کی مدت پوری کرنے کا پورا موقع فراہم کیا گیا وہ پاکستان کو ترقی اور عزت آبرو کی ایسی منزل کے قریب ترلے جائیں گے جس کی تمنا ہرمحب وطن پاکستانی اور دنیا بھر میں پاکستان سے محبت رکھنے والے ہر مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگوں کے دِلوں میں مچلتی رہتی ہے، ان جذبوں کا اظہار وزیراعظم کویت شیخ جابر مبارک الحمد الصباح نے بھی اپنے ذاتی سٹاف میں موجود کچھ پاکستانیوں کے سامنے کیا، اُن کے الفاظ یہ تھے ”پاکستان کو اب ایسا وزیراعظم مِلا ہے جو پاکستان کو ہرحوالے سے بہت آگے لے جائے گا“۔....

وزیراعظم عمران خان سے میری گزارش ہے جہاں دوسرے عرب ممالک کے ساتھ رابطے اور تعلقات مضبوط کیے جارہے ہیں وہاں کویتی حکمرانوں کے ساتھ رابطے اور تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے اِس کا بھی پاکستان کو فائدہ ہی ہوگا، کویت میں مقیم پاکستانیوں نے اپنے وطن پر آنے والی ہرمشکل میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر بھرپور ساتھ دیا۔ ابھی ڈیم فنڈ کے حوالے سے بھی کویت میں پاکستانی سفارتخانے میں جوتقریب ہوئی اُس میں بھی دِل کھول کر فنڈز دیئے گئے، اگر اعظم سواتی اور نعیم الحق کے بجائے پی ٹی آئی کے کچھ باکردار رہنماﺅں کو اس مقصد کے لیے کویت بھیجا جاتا تو ڈیم فنڈکے لیے جتنی رقم اکٹھی ہوئی اُس سے ہزار گنا زیادہ ہوسکتی تھی، .... مجھے اِس کی بے حد خوشی ہے وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد کے ساتھ اپنی ملاقات میں قیدیوں اور مزدوروں کی بات کی، اُن کے اِس رویے نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں مقیم پاکستانیوں کے دِل جیت لیے۔ کچھ حوالوں سے اُن کی حکومت کا گراف بہت دنوں سے نیچے جارہا تھا، اُن کے اِس عمل سے یہ گراف یکدم اتنا اُوپر چلا گیا ہے کہ اب وہ خود بھی کوشش کرلیں اتنی جلدی شاید نیچے نہ آئے، سعودی عرب میں معمولی جرائم میں قید جن پاکستانیوں کو رہائی ملی اُن کی خوشی دیدنی ہے، اِس کے علاوہ وہاں مقیم پاکستانیوں کو مستقبل میں جو سہولیات ملیں گی اُس کا کریڈٹ بھی یقیناً وزیراعظم عمران خان کو ہی جائے گا۔ بادشاہوں کی محفل میں مزدوروں کی بات شاید پہلی بار ہوئی۔ یہ کارنامہ تاریخ میں یادرکھا جانے والا ہے، اِسی طرح کویت میں مقیم پاکستانی بھی بہت مشکلات کا شکار ہیں، سب سے بڑی مشکل یہ ہے گزشتہ دس برسوں سے پاکستانیوں کے لیے کویتی ویزے کی بندش ہے، اِس ضمن میں کویت میں پاکستانی سفارتخانے کی کوششیں قابلِ قدر ہیں، لیکن یہ مسئلہ صرف اُسی صورت میں حل ہوسکتا ہے جب وزیراعظم عمران خان ذاتی طورپر اِس میں دلچسپی لیں، میری اِس ضمن میں جلد اُن سے ملاقات متوقع ہے، .... مجھے یقین ہے یہ مسئلہ بھی وہ ضرور حل کریں گے۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں پاکستانی رہتے ہیں سعودی ولی عہد کے ساتھ وزیراعظم عمران خان کی ملاقات میں ہونے والی گفتگو اور نتائج کے بعد وہ مکمل طورپر اس یقین اور ایمان میں مبتلا ہو چکے ہیں اُن کا ہر مسئلہ وزیراعظم عمران خان ہی حل کرسکتا ہے۔ اُن سے قبل تقریباً سارے حکمران صرف اور صرف اپنے ذاتی ومالی مسئلے ہی حل کرتے رہے۔ اِسی وجہ سے ”پاکستان“ آج ”مسائلستان“ بنا ہواہے !!


ای پیپر