Religion, intellect, Muhammad Irfan Nadeem, columns
24 دسمبر 2020 (11:56) 2020-12-24

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا  انگریزی کا سب سے قدیم انسائیکلوپیڈیا ہے ،یہ پہلی بار ایڈنبرااسکاٹ لینڈ سے 1771ء میں شائع ہوا،اس کی پہلی اشاعت تین جلدوں پر مشتمل تھی اور اب تک اس کے بیسیوں جلدوں پر مشتمل سیکڑوں ایڈیشن نکل چکے ہیں۔ اس کی تیاری میں اب تک4000 اہل علم حصہ لے چکے ہیں جن میں101 نوبل انعام یافتہ شخصیات اور پانچ امریکی صدور شامل ہیں۔ یہ آج بھی پوری دنیا میں اہم مصدر اور مرجع کی حیثیت رکھتا ہے اور ریسرچ پیپرز میں اس کا حوالہ دیے بغیر ریسرچ مکمل نہیں ہوتی۔اس انسائیکلوپیڈیا میں ایٹم بم پر بھی ایک مقالہ موجود ہے ،اس میں لکھا گیا ہے کہ انسانی تاریخ میں آج تک ایٹم بم دوجگہوں پر استعمال کیا گیا ، ایک ہیروشیما اور دوسرا ناگاساکی، ان دونوں مقامات پر ایٹم بم سے جو تباہی ہوئی اس کا ذکر بعد میں کیاگیا ہے لیکن اس سے پہلے مقالے کے شروع میں لکھا گیا ہے کہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر برسائے گئے ایٹم بم کے ذریعے ایک کروڑ انسانوں کی جانیں محفوظ کی گئیں تھیں۔اس کا جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ اگر ہیروشیما اور ناگاساکی پر بم نہ برسائے جاتے تو جنگ مسلسل جاری رہتی اور اس سے مزیدایک کروڑ انسان مرجاتے، گویا عقل ودانش کے نزدیک ایٹم بم وہ ہتھیارہے جس سے ایک کروڑ انسانوں کی جانیں بچائی گئیں تھیں۔ برٹانیکا جیسی مصدقہ دستاویز میں ایٹم بم کے استعمال کا یہ  جواز عقل کی بنیاد پر پیش کیا گیا ہے لہٰذا اس سے آپ عقل کی رسائی کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ عقل کے نزدیک کوئی بْری شے اور کوئی قبیح فعل ایسا نہیں جس کے لیے عقل کوئی دلیل اورجواز فراہم نہ کر سکے۔ آج دنیا فاشزم سے نفرت کرتی ہے اور سیاست کی دنیا میں ہٹلر اور مسولینی کا نام گالی سمجھا جاتا ہے لیکن آپ ذرا ان کا فلسفہ پڑھیں کہ انہوں نے فاشزم کو کس طرح فلسفیانہ انداز میں پیش کیا ہے، ایک معمولی سمجھ کا آدمی اگر فاشزم کے فلسفے کو پڑھے گا تو اسے اعتراف کرنا پڑے گا کہ بات تو یہ ٹھیک اور معقول ہے، ایسا کیوں ہے؟ اس لیے کہ یہ انسانی عقل کی محدودیت اور نارسائی ہے۔علامہ ابنِ خلدونؒ لکھتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو عقل دی ہے یہ اسی وقت تک کام کی چیز ہے جب اس کو اس کے دائرے میں استعمال کیا جائے،اگر اس کو اس کے دائرے سے باہر استعمال کیا جائے گا تو یہ کام نہیں دے گی۔عقل کی مثال ایسی ہے جیسے سونا تولنے کا کانٹا کہ 

وہ کانٹا صرف چند گرام سونا تول سکتاہے،لیکن اگر کوئی شخص اس کانٹے میں پہاڑ کو تولنا چاہے گا تو وہ کانٹا ٹوٹ جائے گا ،اب اگر وہ شخص کہے کہ یہ کانٹا تو بیکار چیز ہے کہ اس سے پہاڑ تو تلتا نہیں تو اسے ساری دنیا احمق کہے گی کہ اس نے کانٹے کو غلط جگہ پر استعمال کیا اور غلط کام میں استعمال کیا اس لیے وہ کانٹا ٹوٹ گیا۔

صحابہ کرام کے عہد تک دین بالکل سادہ اور فطرت کے مطابق تھا، اصولی و اعتقادی مسائل میں کبھی کوئی شخص عقلی شک و شبہ ظاہر کرتا بھی تو قرآن و حدیث کے احکام و نصوص بتا کر اس کی تشفی کردی جاتی تھی، نہ کسی کا عقیدہ بدلتا تھااور نہ کسی کے زہد و تقویٰ میں فرق آتا تھا۔ عہد صحابہ کے بعد نبوت کا اثر جس قدر کمزور ہوتاگیا اسی قدر قیل و قال اور دین میں شبہات پیدا ہوتے گئے، واصل بن عطا ، ، عمرو بن عبید جیسے عقل پرست سامنے آئے،یہ لوگ معتزلہ کے نام سے مشہور ہوئے۔جب ہارون الرشید ا ور مامون الرشیدکے عہد میں فلسفہ یونان کی کتابیں بہ کثرت ترجمہ ہوئیں تو معتزلہ کو اپنے خیالات و شبہات کے لیے فلسفیانہ دلائل مل گئے اور انہوں نے ایک نیا عقلی فن ایجاد کیا جسے ’’علم الکلام‘‘ کا نام دیا گیا۔ معتزلہ نے دینی عقائد واحکام میں عقل کو معیار بنایا اور مبہمات میں اپنی عقل لڑا کر تشریحات اور تاویلیں شروع کردیں،عقلیت پسندی کے اس رجحان سے قرآنی ہدایت کے نتیجہ خیز ہونے کااعتمادزائل ہونے لگا، جن مسائل کا حل صرف وحی سے میسر آسکتا تھاان کا حل انسانی شعور اور عقل سے تلاش کرنے سے یہ امت  وحی کی روحانیت سے دورہوگئی اورمسلمانوں میں ایک خام عقلیت مقبول ہونے لگی۔ یہ صورت حال دینی وقار کے لیے پریشان کن تھی، جب معتزلہ کی عقلی دلیلوں اور وساوس نے عوام کے ساتھ حکمران طبقہ کو بھی متاثر کیااور مامون الرشید، معتصم بااللہ، متوکل علی اللہ اور واثق بااللہ جیسے حکمران بھی معتزلہ کے مسلک کو اختیار کرنے لگے تو علما نے معتزلہ کا رد شروع کیا اور ان کے ساتھ عقلی مباحثے اور مناظرے شروع ہوئے۔ امام احمد بن حنبل، امام ابوالحسن اشعری، ابو منصور ماتریدی رحمھم اللہ جیسے لوگ سامنے آئے اور معتزلہ کا رد کیا ،بعد میں معتزلہ مختلف فرقوں اور ناموں سے مشہور ہوئے۔اکیسویں صدی کی اسلامی روایت میں عقلیت پرستی کی شدت پہلے سے کئی گنا زیادہ ہے، بظاہر یہ ایک خوبصورت اصطلاح ہے مگر اس کے نتائج بہت خطرناک ہیں،بے دینی، الحاد اور روشن خیالی اسی عقلیت پرستی کا شاخسانہ ہیں۔ آج کے روشن خیال اور عقلیت پرست سارا زور اس پر صرف کررہے ہیں کہ دینی عقائد واعمال کو بہر صورت عقل کے ترازو میں پیش کیا جائے۔ عقلیت پرستی کی اس دوڑمیں کوئی اس پر غور نہیں کرتا کہ بجائے خود عقل کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے۔ کیا عقل کے پاس کوئی ایسا لگا بندھا ضابطہ یااصول ہے جس کی بنیاد پر ہم کہہ سکیں کہ عقل حرف آخر ہے اور یونیورسل ٹروتھ اسی کے پاس ہے۔عقل و سائنس کی حقیقت تو یہ ہے کہ یہ کبھی اپنی کاملیت اور قطعیت کا دعویٰ نہیں کر سکتی، انیسویں صدی کے اختتام پر ماہرین طبیعات کی عمومی رائے یہ تھی کہ بیسویں صدی کے طبیعات دانوں کے پاس دریافت کرنے کیلئے کچھ نہیں ہوگا کیونکہ طبیعات مکمل ہوچکی ہیں مگرآج وقت نے ثابت کر دیاکہ یہ ان کی کم علمی اور کوتاہ نظری تھی۔ اس لیے ہم عقل و سائنس کی بنیاد پر مادّی کائنات اور مظاہرِ قدرت کو بہتر انداز میں سمجھنے کا دعویٰ تو کرسکتے ہیں مگر یہ ہرگز نہیں کہہ سکتے کہ یہ حرف آخرہے۔ سٹیفن ہاکنگ کہتا ہے کہ وقت کے ساتھ ہمارے سائنسی نظریات بہتر ہوتے رہیں گے جن کی روشنی میں ہم کائنات کی واضح تر تصویر دیکھ سکیں گے ، یہی وجہ ہے کہ سائنسی ترقی کی بدولت آج ہم پر قرآنی آیات کے وہ مطالب اور مفاہیم کھل رہے ہیں جن سے دو سو سال پہلے ہمارے بزرگ واقف نہیں تھے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ اگر مزید نئی دریافتوں اور تحقیقات کے بعد کوئی نیا نظریہ سامنے آتا ہے جس کی وجہ سے کسی قرآنی آیت کی سابقہ سائنسی تشریح غلط ثابت ہوجاتی ہے تو اس سے قرآن کی صداقت پر کوئی حرف نہیں آئے گا۔لہٰذا ہمیں اسلام کے وقار کو سلامت رکھنے کے لئے عقل و سائنس کی مخالفت کی ضرورت ہے نہ اسلام کو بدلنے کی، اس لئے کہ سائنس جس قدر ترقی کرے گی اور انسان کی سائنسی معلومات میں جتنا اضافہ ہوگا اسلام کی حقانیت اتنی ہی زیادہ واضح ہوتی چلی جائے گی بشرطیکہ انسان کا نقطہ نظر صحیح معنی میں سائنٹفک ہو اور وہ قیاس و تخمین کو یقین اور مشاہدے کا درجہ نہ دے بیٹھے۔یہ ہے وہ اصل اصول جو جس کو آج اپنانے کی ضرورت ہے ، اگراس عقلیت پرستی کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو اس سے بے دینی اور الحاد کا ہی صدور ہو گا ، جو عقل کروڑوں انسانوں کو ایٹم بم کے ذریعے تباہ کرنے کا جواز فراہم کر سکتی ہے اس سے کچھ بھی صادر ہو سکتا ہے ، اس لیے لازم ہے ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پررکھا جائے اور اپنی روایت سے وابستگی کے ساتھ جدید یت کا سامنا کیا جائے۔


ای پیپر