افغان مسئلے کا حل افغانیوں کے پاس ہے
24 دسمبر 2020 2020-12-24

 تاریخ گواہ ہے، کہ بادشاہوں، حکمرانوں، حتیٰ کہ آمروں اور شہنشاﺅں کے نظریات بیانات، اور عقائد کا رعایا پہ اس قدر اثر ہوتا ہے، کہ پوری قوم حکمران کے رنگ میں رنگی جاتی ہے۔ اور حق وسچ کا ساتھ دینے والے چند صاحب یمسن، اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے صراط مستقیم پہ رہ جاتے ہیں، اور یہ سلسلہ آج سے نہیں بلکہ وقت ہابیل وقابیل سے جاری اور ساری ہے، اور تاقیامت یہ تعداد ایسی ہی رہے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے ہمسائے، افغانستان میں بادشاہ ظاہر شاہ سے لہوولعب، کے رنگ اور راگ وترنگ اور شراب وکباب کی مجلسیں اپنے دوسرے پڑوسی شہنشاہ ایران کے جشن نوروز کو بھی شرماتے نظرآتے تھے ۔ظاہر شاہ اپنے پڑوسی ممالک سے بھی گلوکاراﺅں اور رقاصاﺅں کو آئے دن کابل و تہران بلواتے رہتے تھے، افغانستان کے دارالحکومت کابل اور ایران کے تہران میں ہر شام بھیگی شام ہوتی تھی، اور راتیں چراغاں کے باوجود تاریک اور ان کی شاہراہوں پہ سکرٹ، نیم عریاں ملبوسات، پیرس اور بیروت کا منہ چڑاتے نظرآتے تھے، لبنان بھی مسلمان ملک کے طورپر اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے، اور کابل وتہران کے شہر بھی تو مسلمان شہر سمجھے جاتے تھے، مگراللہ تعالیٰ سبحانہ وتعالیٰ معاف فرمائے، موجود ہانگ کانگ کی طرح پوری دنیا کے لوگ بغرض عیاشی ان ممالک میں جاتے تھے، جیسے آج کل خدا دوبئی والے حکمران کو عقل دے، اس کے ملک میں دادوعیش وکوش کے لیے جمع ہوتے ہیں، لیکن ہمیں اس حقیقت کو بالکل فراموش نہیں کرنا چاہیے، کہ دین اسلام اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے، اور اللہ تعالیٰ کبھی نہیں چاہے گا، کہ اس کا حشر افغانیوں ولبنان والا کرے وہ مہلت پہ مہلت دیئے جاتا ہے، مگر ایک ہم مسلمان ہیں کہ سمجھانے اور سمجھنے کا نام ہی نہیں لیتے نظرآتے 

حالانکہ مفکر اسلام مسلمانوں کو تلقین کرتے نظرآتے ہیں کہ 

 جس روز، دل کی رمز مغنی سمجھ گیا

 سمجھو تمام مرحلہ ہائے ہنر ہیں طے

قارئین، دراصل میں آپ کو سمجھانے، اور خود بھی سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں، کہ آخر کیا وجہ ہے، کہ افغانستان میں اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی نجانے کیوں ابھی تک امن وامان قائم نہیں ہوسکا، دراصل افغانستان کی اپنی ایک اسلامی روایات ہیں جس سے وہ سرموانحراف نہیں کرنا چاہتا، قارئین آپ کو یاد ہوگا، کہ افغانستان میں ملا عمر کا دورحکومت، گوانتہائی مختصر ترین تھا، مگر وہ دور مکمل طورپر دورفارقی کا عکاس تھا، سونے کے زیورات سے لدی دلہنوں کا کابل سے قندھار تک بلاخوف وخطرگزر ممکن ہوگیا تھا، کیونکہ وہاں اسلامی شرعی سزاﺅں کا بھی نفاذ ہوگیا تھا۔ گو افغانستان میں مختلف طالبان، جن کی زبان پشتون، پختون ،فارسی، ازبک، وغیرہ وغیرہ ہے، اس کے مختلف دھڑے ہیں مگر ایک ایسا نقطہ جس پر وہ تمام متحدومتفق ہیں، وہ ہے، اسلامی نظام حکومت، اس حوالے سے پاکستان کے طالبان خان خواہ کچھ بھی کہیں مگر زلمے خلیل زادہ سمیت تمام امریکہ کے حواری اس بات کا ادراک نجانے کیوں نہیں کرتے کہ برطانوی جبرواستبداد بھی ”علاقہ غیر“ پہ برطانوی حکومت جس کی حکومت کا دنیا میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، یعنی دنیا کے مختلف ممالک جس میں امریکہ بھی شامل تھا زیرتسلط ہے، مگر وہ نہ تو افغانستان کو زیر نگیں کرسکا، اور نہ ہی وہ مالاکنڈ، مہمند ایجنسیزپہ اپنا قبضہ قائم رکھ سکا، یہی وجہ ہے، روزانہ کی بنیاد پر کبھی بارودی سرنگیں بچھا کر، اور کبھی پہاڑوں کی اونچائی سے فائرنگ کرکے ہمارے جانبازوں کو شہید کردیتے ہیں، رہی سہی کسر ایل او سی پہ فائرنگ کرکے ہمارا ازلی اور مستند دشمن بھارت، عسکری، اور شہری آبادی پہ حملہ کرکے کسی شہری، یاعسکری جوان کو شہید کردیتے ہیں، افغانستانیوں میں سفاکی کی انتہا دیکھیں کہ شہدا کی لاشیں کپڑے اتارکردرختوں پہ لٹکا دیتے ہیں، صوبہ تخار میں ایک شدید زخمی کو زندہ حالت میں گرفتار کرکے دوران حراست زبان، اور کان کاٹ کر اس کی آنکھیں نکال کر چہرہ مسخ کردیا اور زابل، ارغنداب، پکتیار، خراد اور دوسرے صوبوں میں بھی زخمیوں اور لاشوں کو فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں سے باندھ کر بیدردی سے گھسیٹا جاتا رہا ہے، جنگی قوانین کی دھجیاں بکھیرنے والے ظالم دشمن پہ نجانے اقوام متحدہ کیوں مسلسل خاموش ہے، امریکیوں کے ساتھ افغان فورسز مل کر مظالم کی جوتصاویر رقم کررہے ہیں ،وہ ناقابل یقین ہے کیونکہ نوجوان افغانیوں کا قتل ، گھروں پہ چھاپے، قیدیوں پہ بہیمانہ ظلم وتشدد، مساجد، مدارس ، تعلیمی اداروں، اور صحت کے مراکز بازاروں، پبلک مقامات پر فضائی حملے، باراتوں پہ بھی بم گرانے اور نہ ٹوٹنے والا سلسلہ ہے، دشمن نہایت بے رحمی اور بیدردی معصوم بچوں اور خواتین پر ظلم وستم کررہا ہے، اور ملک کا چپہ چپہ اس طرح ان گنت داستانوں کا رونا رو رہا ہے، بستیوں کی بستیوں کو ملیا میٹ کردینا، شہروں کو تاراخ کردینا نہتے شہریوں کا قتل عام کردینا قابضین افواج کے ناقابل معافی جرائم ہیں، اور حداورقابل افسوس بات تو یہ ہے، ظلم وستم کو دشمن کی تربیت یافتہ افغان فوج کے برقرار رکھا ہوا ہے، قارئین یہ داستان ظلم وجبر میں نے خود آپ کو نہیں سنوائی، بلکہ یہ سیف العادل اصرار نے مجھے بتائی ہے، قارئین ان مظالم کے باوجود یہ بات تو طے ہے، کہ پوری دنیا پہ حکومت کرنے والا برطانوی سامراج بالآخر ڈوب گیا تھا، اب امریکی سامراج ان شاءاللہ جلد ڈوب جائے گا۔ 


ای پیپر