وزیراعظم عمران خان ملک کی ضرورت ہیں؟
24 دسمبر 2019 (17:00) 2019-12-24

کیاوزیراعظم عمران خان ملک کی ضرورت ہیں؟اپنی رائے سے آگاہ کریں

جبکہ اُن کی اپنی ضرورت مخلص، لائق، وفادار اور قابل مشیر ہیں !

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح اور ذوالفقار علی بھٹو کے بعد مدتوں بعد پاکستانی قوم کو ایک ایسا سچا، مخلص لیڈر ملا ہے جو غریبوں کا درد رکھتا ہے، جو محروم معیشت طبقات کے معیار زندگی کو بلند کرنے اورانہیں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے مخلصانہ کاوشیں کر رہا ہے، قوم کو وزیراعظم عمران خان کی قیادت پر پورا اعتماد ہے اور قوی امید ہے کہ عمران خان ہی ایسا لیڈر ہے جو غریب طبقات کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا حوصلہ، عزم اور ہمت رکھتا ہے۔ امید ہے کہ وہ اپنے اخلاص اور محنت سے پاکستان کی تقدیر بدل دیں گے۔ کیونکہ ان کی عادت میں شامل ہے کہ وہ جس بات کی ٹھان لیں اسے پورا کرکے ہی دم لیتے ہیں، شوکت خانم میموریل ہسپتال کے پراجیکٹ ہوں یا نمل ایجوکیشن سٹی یہ پراجیکٹ عمران خان کے اٹل ارادوں اور جدوجہد کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

مگر دوسری طرف دیکھا جائے تو ہر طرف ہر کوئی جلدی میں دکھائی دیتا ہے، عام آدمی سے لے کر خواص تک ”تبدیلی“ کا مذاق بنا رہے ہےں،کئی ”مافیا“ موجودہ حکومت کو ناکام بنانے کے لیے سوشل میڈیائی ٹیموں کے ذریعے مارکیٹ میں خوب پیسے پھینک رہے ہےں، حکومت کی ہر چھوٹی سے چھوٹی غلطی کو بھی بڑا” بلنڈر“ ظاہر کیا جا رہا ہے، سابقہ حکمرانوں کے پھیلائے غبار کو صاف کرنا بھی موجودہ حکمرانوں کو مہنگا پڑ رہا ہے، اب تو معیشت کی خرابی کا تمام تر ذمہ داربھی موجودہ حکومت کو ہی کہا جا رہا ہے، اورتو اوروکلاءاور ڈاکٹرز کی لڑائی کو بھی ”تبدیلی“ کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے، ملک میں کسی اچھے کام کی تشہیر کرنا بھی حکومت کے لیے جان جوکھوں کا کام ثابت ہو رہا ہے۔ یہاں تک کہ کھربوں روپے کے گردشی قرضوں ، ورلڈ بینک، ایشین بنک اور آئی ایم ایف کی قسطوں کی اربوں ڈالر میں ادائیگی کو بھی نہیں کسی خاطر میں لایا جا رہا ۔ اور عوام عمران خان سے سوا سال بعد ہی گزشتہ 72سالوں کا حساب مانگ رہے ہیں۔ مزید پریشانی یہ ہے کہ بے صبری عوام فوج کو بھی ”مداخلت“ کرنے کی دعوت دیتے نظر آرہے ہیں۔

حیرانی ہے ایسی سوچ پر، ایسی بے صبری پراور ایسی گھبراہٹ پر کہ ہمارا مجموعی رویہ ہی عجیب تر ہو گیا ہے۔ ورنہ 1949ءمیں”بھنگی و چرسیوں“ کے ملک چین میں انقلاب آیا تھا، ماﺅزے تنگ کو چین کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے 40سال لگ گئے اس دوران انہوں نے بہت سے سخت فیصلے کیے، عوام کے نزدیک وہ فیصلے انتہائی تکلیف دہ تھے۔ آج چین عالمی معیشت پر تیزی سے چھا یا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس میں چین کی مصنوعات استعمال نہ ہورہی ہوں۔ ماﺅزے تنگ نے تاریخ کے سب سے بڑے لانگ مارچ کے دوران اپنی قوم کو ہدایت کی تھی کہ وہ لانگ مارچ کے دوران چنے اور گرم پانی ساتھ رکھیں اور صبر وتحمل سے کام لیں، ایک دن انہیں ضرور کامیابی نصیب ہوگی۔ ماﺅزے تنگ نے اپنی قوم کی ایسی عادت بنا ڈالی کہ چینی لوگ بشمول افسران، مزدور جب کسی بھی ملک جاتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ چینی مصنوعات بھی لے جاتے ہیں تاکہ دنیا کو چین کی مصنوعات سے متعارف کروایا جاسکے۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد تباہ حال ترکی کو اتاترک نے عزت بخشی، انہوں نے ترک قوم کو جس طرح ولولہ تازہ دیتے ہوئے اپنے پاﺅں پر کھڑا کیاایک ماڈریٹ پروگریسو ترکی کی بنیاد رکھی ان کا یہ کارنامہ امر ہے اور امر رہے گا، شاخ نازک پر جو آشیانے بنتے ہیں وہ وقت کے طوفان کا ایک تھپیڑا نہیں سہہ پاتے کمزور انقلابات جس طرح آتے ہیں اسی طرح رخصت ہوجاتے ہیں اتاترک کا انقلاب ایسی ٹھوس بنیادوں پر استوار ہو کر اُٹھا کہ پوری صدی گزرنے کو ہے مگر اس کے استقلال میں کمزوری نہیں آئی، اقوام کی زندگیوں میں چھوٹی موٹی باتوں پر تبدیلیاں بھی آتی ہیں، آنی بھی چاہئیں، زندہ اقوام ہر لمحہ اپنے افعال و اقدار کا جائزہ لیتی رہتی ہیں، جہاں تبدیلیوں کی ضرورت ہو وہ ضرور کرتی ہیں جس طرح انسان وقت سے سیکھتا ہے، اقوام بھی سیکھتی ہیں لیکن سیکولر اپروچ کے ساتھ جس طرح اتاترک نے آئینی، جمہوری اور لبرل ترکی کی بنیادیں استوار کیں اس کی وجہ سے ماڈرن ترکی اپنی بنیادوں پر قائم رہتے ہوئے ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہے بلکہ جمہوریت پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ ترکی کو یہ انقلاب آسانی سے نصیب ہوا، یقینا اس کے لیے بنیاد پرست قوتوں سے لڑتے ہوئے اتاترک کو اندرونی و بیرونی سازشوں نے گھیرے رکھا۔ ایک موقع پر تو اتاترک تنہائی کا شکار ہوکر چند دنوں کے لیے گوشہ نشیں ہو گئے مگر ہمت نہ ہاری اور آخر کا انہیں کامیابی نصیب ہوئی۔

مہاتیر محمد کا نام تو آپ نے سنا ہو گا، ایک وقت تھاجب ملائشیاپاکستان کی طرح کرپٹ ممالک میں شمار ہوتا تھا، اسی کی دہائی میں ملائشیا کی ترقی منفی عشاریے پر کھڑی تھی ۔ پھر ملائیشیا کو مہاتیر محمد کی شکل میں وطن پرست اور ایماندار قیادت نصیب ہوئی۔ 1981ءمیں جب مہاتیر وزیر اعظم بنے تو اگلے ہی سال مافیا کی جانب سے اُن پر بالکل ایسے ہی الزام لگائے گئے جیسے آجکل پاکستان کی موجودہ حکومت پر لگائے جا رہے ہیں۔اُن کی عوام پسندی بھی گرتی رہی اور حتیٰ کہ ملایشیاکے صرف 20فیصد عوام انہیں پسند اور80فیصد ان سے نفرت کرنے لگے۔ لیکن اگلے 10سالوں میں مہاتیر محمد نے انڈسٹری کا ملک میں ایسا طوفان برپا کیا کہ اُن کے مخالفین کو ملک میں کسی نے جگہ نہ دی اور 2003ءتک وہ اقتدار میں رہنے کے بعد ملائیشیا کی ترقی کی شرح کو دس فیصد پر لے آئے۔ آج اگر کسی نے جنوبی ایشیاءکے تمام ملکوں کی ثقافت کو ایک ساتھ دیکھنا ہو تو وہ ملائیشیا آکر یہ حسین اتفاق دیکھ سکتا ہے، دارالحکومت کوالالمپور میں آپ کو لٹل انڈیا مارکیٹ مل جائے گی، جہاں آپ کو بھارت سے جڑی ہر شئے آسانی سے مل سکتی ہے، اسی طرح پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش کی بھی مارکیٹیں اور ان ملکوں کے پکوان تک دستیاب ہیں۔صنعتوں کے انڈسٹریل ایریاز سینکڑوں کلومیٹرز پر محیط ہیں، جو دنیا میں اس کی پہچان ہیں۔

آپ دوسری جنگ عظیم کے بعدشکست خوردہ جرمنی کو دیکھ لیں، جس نے کئی ایک ملکوں کی تباہی کا نقصان بھی پورا کیا تھا۔ اُس کی معیشت کا حال تاریخ دان یوں بیان کرتے ہیں کہ” آج کے بعدرہتی دنیا تک جرمنی کبھی اپنے پاﺅں پر کھڑا نہیں ہوسکے گا“ لیکن تاریخ غلط ثابت ہوئی۔ رشارڈ فان وائتسیکر کی صورت میں جرمنی کو ایسی قیادت نصیب ہوئی جس نے بچی کھچی جرمن قوم کو حوصلہ عطا کیا اور کہا کہ آٹھ مئی وہ دن تھا، جب جرمنی کو شکست ہوئی۔ لیکن معروضی طور پر دیکھا جائے تو یہ یومِ نجات تھا۔ جرمن باشندے نازی سوشلسٹ آمریت کے چ±نگل سے آزاد ہو گئے، خواہ وہ ایسا چاہتے تھے یا نہیں۔ انہیں اڈولف ہٹلر سے اوراس کی جماعت NSDAP سے نجات مل گئی۔ انہیں یہودیوں کے قتلِ عام کی ہولناکی سے م±کتی مل گئی اور وہ ہر طرح کے خوف سے بھی آزاد ہو گئے۔اور اب ہمیں آگے کا سوچنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنوں کے کھونے کے غم میں ہی اُلجھے رہے تو ہم کچھ نہ کر سکیں گے!پھر دیکھتے ہی دیکھتے جرمن قوم نے محنت کی اور اُس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔

قصہ مختصرروس کے صدر ولادی میر پیوٹن ہوں، ایرانی رہنماءالخمینی ہوں، برازیلی صدر ڈلما رﺅسف ہوں، جاپانی وزیر اعظم شنزو ابی ہوں، فرانسیسی صدر فرانکو ہولیڈہوں، جرمن چانسلر انجیلا مرکل ہوں اور ونسن چرچل سبھی رہنماﺅں نے محنت کی، عوام نے اُن کا ساتھ دیا اور نتیجہ انقلاب کی صورت میں نکلا۔ لہٰذا آج عمران خان کی اصل لڑائی پیپلزپارٹی یا ن لیگ سے نہیں بلکہ ایک ”مافیا“ سے ہے جو راتوںرات امیر ہوتے رہے، کرپشن کے پیسوں پر عیاشیاں کرتے رہے، عوام کے خون پسینے کی کائی کو ہر لمحہ اُڑاتے رہے ، ان کی دیہاڑیاں بند ہوگئیں۔ لیکن اس کے برعکس آج میں گارنٹی سے کہتا ہوں کہ اب کوئی بھی منصوبہ کسی کی ذاتی خواہش پر نہیں بن رہا بلکہ پاکستان کے لیے بن رہا ہے،لوگ نیب، ایف بی آر، سمیت ملک کے کئی اداروں سے ڈررہے ہیں ۔ لیکن ضرورت اس وقت کسی اور چیز کی نہیں بلکہ تحمل کی ہے۔

چلیںاگر مان بھی لیا جائے کہ عمران خان کواس وقت دیگر مسائل کے ساتھ اپنے اتحادیوں کے مسائل کا بھی سامنا ہے اور اُن کے سر پر بھاری قانون سازی آن پڑی ہے، سپہ سالار پاکستان کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ ہے، الیکشن کمیشن کی تکمیل کے مراحل ہیں اور اس سے بڑھ کر اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی اتحادیوں کی مرحلہ بہ مرحلہ کچھ لو اور کچھ دو کی بازی بھی چل رہی ہے۔لیکن یہ وہ مسائل ہیں جن سے کرپٹ سے کرپٹ حکومت بھی آسانی سے نکلتی رہی ہیں۔جان بچانے کی آڑ میں باہر جانے والے اور سودے باز سیاست دان یاد رکھیں یہ روز روز کا آنا جانا، سودے بازی اب نہیں چلے گی۔مصلحتوں کے شکار حکمران اور سیاستدان ہمارا مستقبل نہیں ہو سکتے۔ اس لیے عمران خان عوام کی آخری اُمید ہیںاور انہیں کچھ وقت دیا جائے ۔ کیوں کہ عمران ایک تجربہ ہے ، اسے کامیاب ہونا چاہیے۔ عمران خان محض ایک حکمران نہیں کہ ناکام ہو گیا تو اس کی جگہ کوئی اور لے لے گا۔ عمران خان سماجی شعور کی حدت کا نام بھی ہے۔ لوگوں نے محض ایک حکمران نہیں چنا ، خلق خدا کی پلکوں سے جانے کتنے سپنے لپٹے تھے جن کی تعبیر کی آرزو لیے وہ عمران کے ساتھ آ کھڑی ہوئی۔آرزوﺅں اور امنگوں کی آنچ پر سلگ کر لوگ عمران کے لیے نکلے کہ ایک بار ، بس ایک بار ، ہم بھی ووٹ ڈالنے جائیں گے۔کتنے ہی لوگوں نے زندگی میں پہلی بار پولنگ سٹیشن کا رخ کیا۔ قطاروں میں کھڑے لوگ پسینے میں شرابور تھے لیکن ان کی آنکھوں میں چراغ جل رہے تھے۔

تاہم اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ عمران خان کو جو مسئلہ وہ یہ کہ اسے مخلص اور قابل مشیر میسر نہیں ہیں۔ ایک سے زائد مرتبہ ایسا ہوچکا ہے کہ وزیر اعظم نے اپنی تقاریر یا انٹرویوز میں جلد بازی سے کیے گئے فیصلوں کا اعلان کیا مگر بعد میں اسے واپس لینا پڑا۔ عمران خان کے مشیروں میں بلا شبہ چند انتہائی قابل پیشہ ور افراد ہیں تاہم ان کے قریبی حلقوں میں کچھ ناتجربے کار بھی ہیں۔ کوئی بھی سربراہِ مملکت صرف اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر حکومت نہیں چلا سکتا۔ حکومت چلانا ایک ٹیم ورک ہے، سیاست داں چاہے کتنا ہی تعلیم یافتہ اور صاحب فہم ہو ہر شعبے کا ماہر نہیں ہوتا۔

پیشہ ورانہ مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل مشیر حکومت کے ساتھ ساتھ اب کاروباری، اقتصادی، تعلیمی، قانونی اور انشورنس اداروں کا بھی لازمی حصہ بن چکے ہیں۔ مختلف وزارتوں میں فیصلہ سازی کے عمل میں بھی ان کی مشاورت شامل ہوتی ہے۔ وزیر اعظم ، صدر یا کسی بھی صاحب اختیار کو درست فیصلوں کے لیے ایسی معلومات درکار ہوتی ہے، احتیاط کے ساتھ جن سے نتائج اخذ کیے گئے ہوں، جامع فہم اور تجزیے کے بعد لیڈر کے سامنے مختلف اراءآجاتی ہیں جن پر انھیں عمل درآمد کے لیے درست انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے ایک طریقہ تو امریکا کا ہے جہاں غیر رسمی طور پر ”قومی سلامتی کونسل“ موجود ہیں لیکن اسے پاکستان میں اختیار کرتے ہوئے انتظامی اختیارات نہیں دیے گئے۔

انتہائی محتاط انداز میں جانچ پرکھ کے بعد ایسے سوچنے سمجھنے والے ماہرین کا انتخاب کیا جاتا ہے جو ملکی مفادات کو ترجیح اول سمجھتے ہوں اور اس کے لیے پ±رعزم بھی ہوں، اپنے لیڈر کا مفاد بھی اور سب سے بڑھ کر ملک کا مفاد انھیں عزیزہوں، کیونکہ کسی مشیر کے دل و دماغ میں اگر ذاتی مفادات کے شائبہ بھی پایا جاتا ہوں تو وہ حکمرانوں کی تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔

چونکہ ملک کو اس وقت عمران خان جیسے مخلص لیڈر کی ضرورت ہے اور اس سے بھی زیادہ ان کے گرد ایسے لوگ ہونے چاہیں جو کسی بھی ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر مشورہ دیں، اور ایسی ناپختہ پالیسیاں نہ بنائیں جن کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ردعمل نہ صرف عمران خان بلکہ ملک کو بھی نقصان پہنچانے کا باعث بنے۔


ای پیپر