حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہیؒ
24 دسمبر 2019 (16:51) 2019-12-24

آپ محبوبِ الٰہی، سلطان المشائخ، سلطان الاولیائ، سلطان السلاطین کے القابات سے پہچانے جاتے ہیں

غلام یٰسین

حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہی رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت شہر بدایوں میں 27 صفر 636 ہجری میں ہوئی۔ آپ کا اسم مبارک حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم مبارک کی مناسبت سے ''محمد'' رکھا گیا-مگر دنیا میں آپ نے اپنے القابات سے شہرت پائی، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الہی رحمتہ اللہ علیہ کے مشہور القابات میں نظام الدین اولیائ، محبوب الٰہی، سلطان المشائخ، سلطان الاولیائ، سلطان السلاطین اور زری زر بخش وغیرہ ہیں۔

حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہی رحمتہ اللہ علیہ نجیب الطرفین سادات میں سے ہیں- حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہی رحمتہ اللہ علیہ کا سلسلہ نسب پندرہ واسطوں سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور خاتون جنت حضرت بی بی فاطمة الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہا سے جا ملتا ہے- حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہی رحمتہ اللہ علیہ کے دادا ''سید علی بخاری رحمتہ اللہ علیہ'' اور ان کے چچا زاد بھائی '' حضرت سید عرب رحمتہ اللہ علیہ (آپکے نانا)'' دونوں بزرگ اپنے اپنے اہل و عیال کے ہمراہ بخارا سے ہجرت کر کے بدایوں میں آباد ہوے تھے-آپکے نانا سید عرب کی صاحبزادی ''سیدہ زلیخا رحمتہ اللہ علیہا (آپکی والدہ ماجدہ)'' جو زھد و تقوی میں کمال درجہ رکھتی تھیں-عبادت گزار اور شب بیدار تھیں-اپنے وقت کی ولیہ کاملہ تھیں-ان کو اپنے وقت کی ''رابعہ عصری'' کہا جاتا تھا-آپکے دادا حضرت سید علی بخاری کے صاحبزادے ''سید احمد (آپکے والد ماجد)'' جو نیک سیرت اور صاحب فضل و کمال تھے-آپکے دادا '' حضرت سید علی بخاری رحمتہ اللہ علیہ'' اور آپکے نانا ''سیدعرب بخاری رحمتہ اللہ علیہ'' دونوں بزرگ اللہ کے برگزیدہ بندے تھے-دونوں بزرگوں نے باہمی مشورے سےاپنے خاندانی رشتے کو مضبوط کرتے ہوئے '' حضرت سید احمد علی رحمتہ اللہ علیہ'' کی شادی '' حضرت سیدہ زلیخا رحمتہ اللہ علیہا'' سے کردی۔

ابھی حضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ بمشکل پانچ برس کے ہوئے کہ والد کا انتقال ہو گیا-لیکن آپ کی نیک دل، پاک سیرت اور بلند ہمت والدہ حضرت بی بی زلیخا رحمتہ اللہ علیہا نے سوت کات کات کر اپنے یتیم بچے کی عمدہ پرورش کی۔ حضرت نظام الدین اولیاءرحتمہ اللہ علیہ کی مادر گرامی حضرت بی بی زلیخا رحمتہ اللہ علیہا ایک امیر و کبیر بزرگ حضرت خواجہ عرب علیہ الرحمہ کی صاحبزادی تھیں - لیکن آپ نے اپنے والد کی دولت کے ذخائر کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔انتہا یہ ہے کہ بیوگی کا لباس پہننے کے بعد اس دروازے کی جانب نگاہ نہ کی۔ جہاں آپ کا پورا بچپن اور جوانی کے ابتدائی چند سال گزرے تھے۔آپ دن رات سوت کاتتیں اور پھر اسے ملازمہ کے ہاتھ بازار میں فروخت کرادیتیں۔اس طرح جو کچھ رقم حاصل ہوتی، اس سے گزر اوقات کرتیں۔ یہ آمدنی اتنی قلیل ہوتی کہ معمولی غذا کے سوا کچھ ہاتھ نہ آتا۔

تنگ دستی کا یہ حال تھا کہ شدید محنت کے باوجود ہفتے میں ایک فاقہ ضرور ہوجاتا-جس روز فاقہ ہوتا اور حضرت نظام الدین اولیاءعلیہ الرحمہ مادر گرامی سے کھانا مانگتے تو حضرت بی بی زلیخا رحمتہ اللہ علیہا بڑے خوشگوار انداز میں فرماتیں۔ ”بابا نظام! آج ہم سب اللہ کے مہمان ہیں“ حضرت بی بی زلیخا رحمتہ اللہ علیہا کا بیان ہے کہ میں جس روز ''سید محمد'' سے یہ کہتی کہ آج ہم لوگ اللہ کے مہمان ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے۔سارا دن فاقے کی حالت میں گزر جاتا مگر وہ ایک بار بھی کھانے کی کوئی چیز طلب نہ کرتے اور اس طرح مطمئن رہتے کہ اللہ کی مہمانی کا ذکر سن کر انہیں دنیا کی ہر نعمت میسر آگئی ہو۔پھر جب دوسرے روز کھانے کا انتظام ہوجاتا تو حضرت نظام الدین اولیاءعلیہ الرحمہ اپنی محترم ماں کے حضور عرض کرتے”مادر گرامی! اب ہم کس روز اللہ کے مہمان بنیں گے؟“والدہ محترمہ جواب دیتیں”بابا نظام! یہ تو اللہ کی مرضی پر منحصر ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں۔ دنیا کی ہر شے اس کی دست نگر ہے۔ وہ جب بھی چاہے گا تمہیں اپنا مہمان بنالے گا“ حضرت نظام الدین اولیاءعلیہ الرحمہ مادر گرامی کی زبان سے یہ وضاحت سن کر چند لمحوں کے لئے خاموش ہوجاتے اور پھر نہایت سرشاری کے عالم میں یہ دعا مانگتے۔”اے اللہ! تو اپنے بندوں کو روزانہ اپنا مہمان بنا“اللہ کی مہمانی کا واضح مطلب یہی تھا کہ اس روز فاقہ کشی کی حالت سے دوچار ہونا پڑے گا۔پانچ سال کی عمر میں یہ دعا، یہ خواہش اور یہ آرزو! اہل دنیا کو یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوگی ،مگر وہ جنہیں اس کائنات کا حقیقی شعور بخشا گیا اور جن کے دل و دماغ کو کشادہ کردیا گیا۔ وہ اس راز سے باخبر ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا تھا۔ اور حضرت نظام الدین اولیاءعلیہ الرحمہ انتہائی کم سنی کے عالم میں اللہ کا مہمان بننے کی آرزو کیوں کرتے تھے۔

دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ کے قرب میں ہی حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے بھائی حضرت شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اللہ علیہ کی رہائش گاہ تھی- حضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ اکثر حضرت شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اللہ علیہ'' سے ملاقات فرماتے تھے- حضرت شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی فضیلت و مرتبہ کے بارے میں پتہ چلتا رہتا تھا- حضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ غائبانہ طور پر شیخ شیوخ العالم حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے معتقد ہو گئے اور حضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ کے دل میں یہ خواہش غلبہ پانے لگی کہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات کی جائے، چنانچہ حضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ اپنے دل کی خواہش سے مغلوب ہو کر پاک پتن شریف روانہ ہو گئے، جب حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں پہنچے تو آپ کو دیکھ کر حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے یہ شعر پڑھا:

اے آتش فراغت دل ہا کباب کردہ

سیلاب اشتیاقت جا نہا خراب کردہ

ترجمہ:تیری فرقت کی آگ نے قلوب کو کباب کردیا اور تیرے شوق کے سیلاب نے جانوں کو برباد کر دیا۔

حضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ نے حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے دست مبارک پر بیعت کی اور حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے حلقہ ارادت میں شامل ہو گے- حضرت محبوب الٰہی نے شیخ فرید الدین مسعود کی بارگاہ سے علمی و روحانی فیض حاصل کیا۔ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ کو گاہے بگاہے ظاہری و باطنی علوم سے نوازا اور حضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ پر خصوصی شفقت فرمائی۔ مرشد حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کے زیر سایہ حضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ نے قرآن پاک کے چھ پارے تجوید و قرآت کے ساتھ پڑھے-مرشد پاک حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ ہی کے حلقہ درس میں حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی ''تصنیف عوارف المعارف'' کے چھ باب پڑھے-اس کے علاوہ مرشد پاک مرشد حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ کو ابو شکور سالمی کی ''تمہید'' بھی شروع سے آخر تک پڑھائی۔ ایک مدت کے بعد شیخ نظام الدین اولیاءخدمت گزاری اور اطاعت شعاری سے مرتب کمال کو پہنچے تو شیخ العالم مرشد پاک حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ کو خلقِ خدا کی ہدایت و تکمیل کی اجازت دے کر659 ہجری کو دہلی میں روانہ فرمایا۔

پیر و مرشد کے حکم پر ہی دہلی آکر محلہ غیاث پورہ میں مستقل سکونت اختیار کی۔سلوک و معرفت کی تمام منزلیں حاصل کرنے کے باوجود آپ نے تیس سال تک نہایت ہی سخت مجاہدہ کیا۔محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاءرحمتہ اللہ علیہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں محبوب اور مقرب تھے۔

جب غیاث الدین تغلق ہندوستان کا بادشاہ بنا تو اس نے سماع کے جواز اور عدم جواز پر ایک مذہبی مجلس منعقد کی-تاکہ اس میں حضرت محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاءکے مخالف درباری علماءکے ذریعے حضرت محبوبِ الٰہی کو نیچا دکھایا جا سکے۔ حضرت محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاءاس مجلس میں تشریف لے گئے اور مباحثے میں علماءکے الزامات کا ایسا مدلل جواب دیا کہ وہ جید علماءجو اپنے علم و فضل پر نازاں تھے لاجواب ہو کر رہ گئے۔بادشاہ غیاث الدین تغلق کو بےحد شرمندگی ہوئی-چونکہ اسی دن اسے ایک مہم میں بنگال روانہ ہونا تھا اس لیے اس نے جاتے جاتے حکم جاری کیا۔ حضرت محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاءاس کے دہلی واپس آنے سے پہلے شہر چھوڑ کر کہیں اورنہ چلے جائیں-آپ کے عقیدت مندوں کو اس شاہی حکم نے رنجیدہ و فکر مند کر دیا-لیکن آپ نے اس کو کوئی اہمیت نہ دی اور بدستور اپنے معمولات میں مشغول رہے-لیکن اس وقت آپ کے مریدوں اور حلقہ بگوشوں کی پریشانی حد سے بڑھ گئی جب بادشاہ دہلی کے قریب پہنچ کر ایک عارضی محل میں مقیم ہوا۔ کیونکہ اگلے دن اس کے فاتحانہ استقبال کے لیے شہر میں زبردست تیاریاں کی جا رہی تھیں۔عقیدت مندوں کے فکر و تشویش ظاہر کرنے پر آپ نے فرمایا۔”ہنوز دلی دور است”اسی رات کو وہ عارضی محل گر پڑا اور بادشاہ ملبے میں دب کر مر گیا۔آپ کا تاریخی جملہ ''ہنوز دِلی دُور اَست'' ضرب المثل بن گیا۔

حضرت خواجہ نظام الدین محبو ب الٰہیؒ کو حضرت امیرخسروؒ سے اسقدرمحبت تھی کہ فرمایا کرتے تھے کہ جب قیامت میں سوال ہوگا کہ نظام الدین! دنیا سے کیا لائے ہو؟ تو امیر خسروؒ کوپیش کردوںگا۔ حضرت محبوب الٰہیؒ جب دعا مانگتے تھے تو امیرخسروؒ کی طرف اشارہ کرکے فرماتے تھے: الٰہی بہ سوز سینہ این ترک مرابہ بخش (اے اللہ اس ترک کے دل کی آگ کے صدقہ میں مجھے بخش د ے۔)

ایک مرتبہ ان کے   پیرو  مرشد  بابا فرید  الدین مسعود شکر گنج  قدس سرہ نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ   میں دعا کی کہ یااللہ شیخ نظام الدین اولیائ  جو تجھ سے مانگے  اسے عطا فرما اللہ پاک نے دعا قبول فرمائی اسی لئے وہ محبوب الٰہی کہلائے۔ خواجہ نظام الدین اولیائ نے ہمیشہ بادشاہوں کی صحبت سے کنارہ کشی اختیار کی،ان سے کسی حال میں ملنا پسند نہیں فرمایا‘ لیکن سلطان علاءالدین خلجی نے آپ کی زیارت کی غرض  سے امیر خسرو سے ملاقات کرانے کوکہا جب نظام الدین اولیاءکو اس ارادے کا پتہ  چلا تو آپ نے فرمایا اور کہلا بھیجا کہ میں ایک فقیر ہوں‘ ایک گوشے میں رہتا ہوں‘ بادشاہوں اور مسلمانوں کیلئے دعا گوئی میں مشغول ہوں‘ لہٰذا آپ کو ہماری خدمت میں آنے کی ضرورت نہیں‘ میں غائبانہ دعا کروں گا کہ غائبانہ دعا زیادہ اثر رکھتی ہے۔

امیر خسرو نظام الدین اولیاءسے بیعت یافتہ تھے ہی لیکن ان کاپورا خاندان بھی ان سے بیعت یافتہ ہونے کے ا عزاز سے سرفرازتھا۔  امیر خسرو کو اپنے مرشد سے  والہانہ  عشق تھا‘ ان کے عشق کا یہ واقعہ فنافی الشیخ ہونے کی روشن دلیل ہے۔ ایک مرتبہ ایک فقیر نے نظام الدین اولیاءکے پاس جا کردست سوال کیا لیکن اس دن محبوب الٰہی کے پاس دینے کے لئے کوئی چیزنہیں تھی۔ آپ نے اس  سے کہا  آج ہمارے پاس تمہیں دینے کے لئے کوئی چیز نہیں ہے، لہٰذا میرے جوتے لے جاﺅ انہیں فروخت کرکے رقم حاصل کرلو وہ فقیر آپ کے نعلین مبارک لے کر رخصت ہوا‘ راستے میں  امیر خسرو کی اس فقیر سے ملاقات ہوگئی‘ تو آپ کو مرشد کی خوشبو محسوس ہوئی اورمرشد کی نعلین پاک دیکھ کرپوچھا کہ فروخت کرو گے اس نے کہا کہ ہاں لہٰذا آپ نے انعام یافتہ اشرفیاں دے کر وہ نعلین پاک خریدلئے اورلے کرمرشد کی خدمت میں پہنچے آپ نے فرمایا سستے خرید لئے‘ امیر خسرو نے عرض کیا کہ اگر جان کے عوض بھی یہ چیز مل جاتی تو اسے سستی سمجھتا۔ امیر خسرو کے مرشد کے گیسو دراز تھے‘ امیر خسرو نے ان کے وصال پر جوشعرکہا وہ گیسو دراز ہونے کا ثبوت ہے

گوری سووے سیج پہ مکھ پہ ڈارو کیس

چل خسرو گھر اپنے شام بھئی چو دیس

٭٭٭


ای پیپر