زرداری اور نواز شریف کی ریٹائر کے مشورے
24 دسمبر 2018 2018-12-24

پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے گرد جیسے جیسے دائرے تنگ ہو ر ہے ہیں۔ ان اقدام سے لگتا ہے کہ سابق حکمران دو بڑی جماعتوں کو کھڈے لائن لگایا جارہا ہے۔ اس کی توضیح یہ بھی نکالی جارہی ہے کہ ان جماعتوں کے سپریم آصف زرداری اور نواز شریف اب لیڈرشپ سے ریٹائر ہو جائیںیا مقدمات کے ذریعے جیل جا کر سیاسی میدان سے آؤٹ ہو جائیں۔ تحریک انصاف کے اس حملے سے بچنے کے لئے دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آرہی ہیں تاکہ حکمران جماعت تحریک انصاف پر دباؤ ڈالا جاسکے۔ اگرچہ دونوں جماعتوں کی ڈھلمل یقیں مؤقف کی وجہ سے متحدہ اپوزیشن کا خواب تاحال شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا ہے لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں لینا چاہئے کہ یہ جماعتیں ایک نکاتی ایجنڈا پر متحد نہیں ہو سکتی۔ سوال یہ ہے کہ یہ دونوں جماعتیں کس چیز کے لئے احتجاج کر رہی ہیں؟ حکومت کی تمام وضاحتوں کے باوجود لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک میں جاری احتساب کا عمل ’’سلیکیٹو ‘‘ہے۔ چونکہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ ہی گزشتہ ایک عشرے سے حکومت میں رہی ہیں لہٰذا احتساب انہی کا ہوگا جو اعلیٰ عہدوں پر رہے ہونگے۔تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ حالیہ احتسابی عمل کے پیچھے سیاسی مقاصد نہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق کل 79 سیاستدانوں کے خلاف تحقیقات یا مقدمات چل رہے ہیں ان میں سے پیپلزپارٹی کے لوگوں کی تعداد تیس سے سینتیس فیصد تک ہو گی۔ دوسرے نمبر پر نواز لیگ کے بائیس سے پچیس فیصد لوگ پی ٹی آئی والے دس سے تیرہ فیصد ہیں۔باقی سرکاری ملازمین اور تاجران کے خلاف مقدمات یا تحقیقات ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ احتساب کے عمل کو غیر جانبدارانہ اور سب کے ساتھ یکساں طور پر نہیں لے رہی ہیں۔ پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ کہتی ہیں کہ’’ ہمیں سب کا احتساب قبول ہے لیکن انتقام کی مزاحمت کریں گے۔ عمران خان کو چاہیے کہ اپنی ہمشیرہ علیمہ خان، علیم خان اور ترین کو بھی احتساب کے لئے پیش کریں، چندہ چوری کرنے والے کو عوام لیڈر نہیں مانتے۔‘‘یہ بھی مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری ہے تو موجودہ حکمران جماعت کے لوگ بھی گرفتار ہونے چاہئیں۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں یہ تاثر مل رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور وفاقی حکومت اور نیب کے درمیان ایک گٹھ جوڑ ہے۔ اقتدارسنبھالنے کے دن سے ہی وزیراعظم دونوں کیلئے سخت رویہ رکھنے کیلئے پُرعزم ہیں۔ انھوں نے ایف آئی اے اور انٹلیجنس بیورو کے ذریعے دباؤڈالنے کیلئے وزارتِ داخلہ اپنے پاس ہی رکھی ہے۔

’’میں نے یہ اپنے پاس رکھیں کیونکہ میں خود ایف آئی اے اور آئی بی کی نگرانی کرنا چاہتا ہوں اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات اور انکوائریوں کے حوالے سے پیش رفت کو دیکھنا چاہتاہوں۔‘‘

پیپلزپارٹی اور نواز لیگ نے آج ایک بار پھر ملک میں جمہوری عمل کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ احتساب کے حالیہ عمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ یہ غیر جانبدارانہ نہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ دونوں نے گزشتہ ایک عشرے کے دوران احتساب کے عمل کو منصفانہ اور آزاد رکھنے کے لئے کوئی قانون سازی کی اور نہ ہی کوئی قدم اٹھایا۔ گزشتہ دو ادوار میں دونوں حکمران جماعتوں میں سے کسی نے اپنی صفوں سے کرپشن کے الزام میں نہ نکالا اور نہ ہی اس کے خلاف مقدمہ چلایا۔ ضیا دور کے بنایا ہوا یہ ہتھیار جو سیاستدانوں کو نااہل قرار دینے سیاسی مقاصد کے استعمال کرنے کے لئے ہی بنایا گیا تھا ، اسکو منتخب حکومت کو گھر بھیجنے والی آئین کی شق 58 ٹو بی کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔لیکن جمہوری پروجیکٹ چلانے والی دونوں جماعتیں اسکو ختم نہ کر سکیں۔ جب اٹھارہویں ترمیم کی جارہی تھی تب یہ کام باآسانی کیا جاسکتا تھا۔ جس سے منتخب نمائندوں اور

منتخب حکومت کی پوزیشن مضبوط ہوتی۔ اب تحریک انصاف نیب قوانین میں بعض ترامیم کرنے جارہی ہے۔ اس کے پیچھے حکمران جماعت کے اپنے سیاسی مقاصد ہو سکتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ تینوں سیاسی جماعتیں کتنا ڈھنگ کا یہ قانون بنا سکتی ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ سسٹم عمران خان کی ہی حمایت کر رہا ہے۔ نواز شریف اور زرداری کے خلاف متعدد الزامات ، مقدمات اور ان کی تحقیقات دونوں جماعتوں پر لٹکتی ہوئی تلوار رہیں گی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے حقائق سامنے آ گئے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ملکی دولت لوٹنے والوں کو سزا ضرور ملے گی۔کرپٹ حکمرانوں کو عبرتناک سزا دینے تک اس نظام سے چھٹکارہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ آصف زرداری اور نواز شریف نے بے دردی سے ملک کو لوٹا، ان کی ملک میں موجود جائیدادیں ضبط ہونی چاہئیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آصف زرداری اور نواز شریف کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔

آصف علی زرداری نے گزشتہ دنوں تین سالہ مدت کے لوگوں کا ذکر کیا تھا۔وہ کہنا چاہ رہے تھے کہ مقررہ مدت والے لوگ آنے جانے والے ہیں۔میدان میں صرف سیاستدان ہی مستقل رہتا ہے۔ وہ اس طرح کا اظہار اس سے قبل بھی کر چکے ہیں۔ لگتا ہے کہ بعض فورمز پر یا انفرادی طور پر یہ بات کہی گئی ہے یا ایک مضبوط تاثر موجود ہے۔

وہ ایک پیشہ ور کے طور پر سمجھتے ہیں کہ ہر ایک مقررہ مدت کے بعد ریٹائر ہوتا ہے۔ اور اس کے لئے کوئی مزاحمت نہیں ہوتی۔ جنرل اور جج خود کو سیاستدانوں کے مقابلے میں خود اعلیٰ پایے کا سمجھتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پیشے کے لحاظ سے انہیں باقاعدہ تربیت حاصل ہے۔ اور ایک نقطے کے بعدریٹائر ہو کر انہیں واپس گھر جانا ہے۔سیاست ملک کے معاشی حالات کا مطالعہ چاہتی ہے۔ معاشرے کو سمجھنا ہوتا ہے۔ لہٰذا سیاستدان بننے میں وقت لگتا ہے۔ سیاست کوئی پیشہ یا نوکری نہیں یہ بنیادی طور پر خدمت ہے۔ جو ملک اور قوم کی کی جاتی ہے۔ سیاستدان خود ساختہ لوگ نہیں ہوتے بلکہ وہ مقبول ہو جاتے ہیں اپنی غیر معمولی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے اس کا پیمانہ عوام میں مقبولیت اور ووٹ سے ہے۔اس طرح کی تشبیہ یا مزاحمت کسی حد تک ہر دو چار سال بعد سیاستدانوں کی تطہیر کا باعث بنی ہوئی ہے۔ جب زرداری ان کے تین سال کا مذاق اڑاتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ ایسے نظام کا پتہ ہی صاف کردیا جائے۔ نواز شریف جنرل جیلانی کی سیاسی پیداور ہیں۔ لیکن جنرل جیلانی کا نام تاریخ کے صفحے پر کسی کونے میں ملے گا۔ یا بطور حاشیہ کہیں لکھا ہوگا۔ نواز شریف نصف درجن آرمی چیفس اور اتنے ہی چیف جسٹسز کو نمٹا چکے ہیں۔ یہی صورتحال زرداری کے لئے بھی ہے۔ یہ کہا جارہا ہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری دونوں کو اب سیاست سے ریٹائر منٹ لے لینی چاہئے اورسیاسی پروجیکٹ اپنی اولادوں کے حوالے کرناچاہئے۔ اور ان پر اگر دباؤ ڈالا جائے تو یہ دونوں رہنما ایسا کر سکتے ہیں۔ اگر وہ خود رضاکارانہ طور پر ریٹار نہ ہوں کو انہیں اس طرف دھکیل دیا جائے کہ ان کے پاس صرف ریٹائر منٹ ہی آپشن ہو۔ دونوں کے خلاف استعمال ہونے والا سب سے بڑا ہتھیار کرپشن کے الزامات ہیں، جس کو عرف عام میں احتساب کے جال کا نام دیا جارہا ہے۔ زرداری کے پاس بلاول بھٹو اور آصفہ ہیں۔ نواز شریف کے پاس مریم نواز ہیں۔بحث ہے یا مشورہ دونوں صورتوں میں یہ بات سیاسی مارکیٹ میں ہے۔ تجزیہ کار بھی ٹی وی چینلز پر بات کر رہے ہیں ۔ اب اس عمر میں یہ دونوں ’’بڑے میاں لوگ‘‘ اقتدار میں آنے کے جتن کر کے کیوں اپنی بے عزتی کرا رہے ہیں اور اقتدار کا مطالبہ کر رہے ہیں ؟ ان کے پاس فضیلت بھرے آپشنز ہین کہ وہ اپنی اپنی بادشاہتیں اپنی اولادوں کے حوالے کر کے خود اب تک کی کمائی کے ساتھ جاکر آرام اور سکون کی زندگی گزاریں۔ لیکن یہ خام خیالی کہ یہ بات ان سے منوائی جاسکتی ہے یا دباؤ ڈال کر اس بات کے لئے’’ تیار‘‘ کیا جاسکتا ہے۔ لیکن زرداری اور نواز شریف اپنے بچوں کی وجہ سے سیات میں نہیں۔ بلکہ وہ صرف اور صرف اپنی وجہ سے اور اپنے لئے ہی سیاست میں ہیں۔ بلکہ دونوں رہنماؤں نے خود اپنے بچوں کو سیاست میں اتارا ہوا ہے۔ ورنہ بلاول بھٹو خود کہہ چکے ہیں کہ سیاست میں ان کا داخلہ حادثاتی ہے۔جبکہ بینظیر بھٹو بھی بلاول کو سیاست میں نہیں لے آنا چاہتی تھی۔ پیپلزپارٹی کے حامی حضرات کی یہ خوش فہمی ہے کہ پارٹی بلاول بھٹو کے حوالے کرنے سے پوری پارٹی بدل کر بینظیر یا ذوالفقار علی بھٹو والی پارٹی بن جائے گی۔ زرداری عوام کے لئے بلاول کا عوامی چہرہ ہیں۔بلاول وہی کر رہے ہیں جو ان کے والد چاہتے ہیں۔

نواز شریف کے لئے یہ سمجھا جارہا ہے کہ وہ بہت ہی سادہ انسان ہیں۔ وہ اس کی بھی تمیز نہیں کرپاتے کہ ان کے خاندان کے لئے کیا صحیح ہے کیا غلط ہے۔ اپنی بیٹی کے بہکاوے میں آجاتے ہیں۔ مگر دراصل ایسا نہیں۔ نواز شریف نے سخت لائن بیٹی کے کہنے پر لی۔ بلکہ حقیقت اس کے الٹ ہے۔ نواز شریف نے ہی بیٹی کو سیاست سکھائی ہے ۔ لہٰذا مریم کی سیاست کلی طور پر وہ سیاست ہے جو نواز شریف کی سیاست ہے۔ ان میں سے کسی نے یہ اشارہ بھی نہیں دیا کہ وہ میدان چھوڑ رہے ہیں۔ احتساب کی مسلسل کارروایوں اور حکومتی اقدامات کی وجہ سے ان دونوں رہنماؤں کی مظلومیت اور مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے ۔ حکومت سمجھتی ہے کہ دونوں جماعتیں کوئی بڑی احتجاجی تحریک چلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ بہرحال حکومت چاہے کچھ بھی کرے نواز شریف اور زرداری میدان میں ہی رہیں گے۔ انہیں اتنا آسانی سے آؤٹ نہیں کیا جاسکتا۔

Back to Conversion Tool


ای پیپر