نظریاتی نواز شریف کہاں ہیں؟
24 دسمبر 2018 2018-12-24

میں نے پاکستان مسلم لیگ میں اپنے باوثوق ذرائع کی دی جانی والی خبر کی بنیاد پر پیش گوئی کی تھی کہ بیگم کلثوم نواز کے چہلم کے بعد میاں صاحب تلوار سونت کر میدان میں ٓجائیں گے اور موجودہ حکومت کے ساتھ وہی کچھ کریں160گے، جو اپنی حکومت میں روزِ اول سے دیکھتے رہے۔ لیکن یہ کیا! میاں صاحب تو میرے توقعات کے برخلاف کہیں بھی نہیں۔ میری پیش گوئی سے میرے سینئر ساتھیوں نے کبھی اتفاق نہیں کیا، بلکہ وہ پاکستان مسلم لیگ کی سیاست سے متعلق میری ناسمجھی پر حیرت زدہ رہ جاتے۔ بعض تو ڈھکے چھپے الفاظ میں160یہ کہنے کی کوشش کرتے کہ میاں صاحب اسٹبلشمنٹ سے ڈیل کی امید میں خاموش ہوجائیں گے اور طاقتور حلقوں کی آشیرباد کے بغیر دوبارہ سیاست کے خارزار میں قدم رکھنے کا سوچیں160گے بھی نہیں۔ ان کی تھیوری کے مطابق مسلم لیگ ن تاجروں کا ایک طبقہ ہے جسے سیاست میں اپنا اثر ورسوخ برقرار رکھنے کے لیے اسٹبلشمنٹ نے اکٹھا کر رکھا ہے اور ان کے آپس میں جوڑ کر رکھنے کی کوئی نظریاتی بنیاد نہیں۔

جیل سے باہر آنے کے بعد مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف نے چپ سادھ لی۔ اس میں160کوئی شک نہیں کہ ان پر غم کا پہاڑ ٹوٹا۔ نصف صدی کا ساتھ دینے والی ان کی وفاشعار بیگم انہیں چھوڑکر چلی گئیں۔ مرکزیت جسے خاندان میں حاصل تھی، وہ ان کے درمیان نہیں رہیں۔ لیکن چاہ کر بھی صرف اس غم کو سامنے رکھ کر خاموشی کی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ ایک شخص کی بیوی بستر مرگ پر ہو۔ اسے بہت حد تک یقین ہو کہ شاید میں اسے دوبارہ نہ دیکھ پاؤں، اس کے باوجود وہ ملک آتا ہے۔ جیل کا سامنا کرتا ہے تو ایسے شخص سے متعلق کیسے کہا جاسکتا ہے کہ ایسی خاموشی کی وجہ وہی ہے جو بتائی جارہی ہے۔

اس وقت جب میں یہ سطور لکھ رہی تھی، نواز شریف کے خلاف فیصلہ آنے میں چند گھنٹے باقی ہیں۔ مجھے وہ وقت بھی یاد آرہا ہے جب ایون فیلڈ فیصلے سے پہلے انہوں نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔ اس بیان میں نواز شریف کا نقطہ نظر اور اب ان دو کیسز میں160ان کے بیان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

مسلم لیگ ن کے کچھ دوست اسے ایک بڑے پلان کا حصہ باور کرارہے ہیں۔ جن کا خیال ہے کہ حکومت کو اپنی ہی غلطیوں کے بوجھ تلے دب کر دفن کردیا جائے۔ حکومت وقت کے پاؤں تلے سے زمین سرکنا

شروع ہوگی تب ہی میاں صاحب قوت کے ساتھ نمودار ہوجائیں گے۔ لیکن سوال بہرحال پھر وہی پیدا ہوتا ہے کہ اگر اپنی رائے میں اس قدر تبدیلی لانی تھی تو پھر ان لوگوں کی پہلے کیوں نہ سنی گئی جو حالات کے مطابق چلنے کا مشورہ دیتے رہے۔ وہ یہی کچھ تو چاہتے تھے جس پر اس وقت میاں نواز شریف عمل پیرا ہیں۔ اپنی پارٹی میں نواز شریف سے کوئی یہ سوال کرے یا نہ کرے، لیکن ہر ایک کے دل میں یہ ضرور ہے کہ آپ سختیاں نہیں جھیل سکتے تو پھر اس سارے قضیے کو شروع کرنے کا مقصد کیا تھا؟ پھر ووٹ کے تقدس کا نعرہ مستانہ بلند کرکے مہم کیوں شروع کی گئی؟ اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی مول لینا کیوں ضروری سمجھا گیا؟ اگر اسپیس لوز کرنا اور جدوجہد سے فرار کا راستہ اختیار کرنا گرینڈ پلان ہے تو طلال، دانیال اور نہال ہاشمی قربانی کی بھینٹ کیوں چڑھ گئے؟

وہ صحافی اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ، جنہوں160نے اپنے کیریر سے بے نیاز ہوکر میاں160صاحب کی حمایت کی۔ انہیں کیوں آزمائش کی سولی پر چڑھا دیا گیا؟ میاں صاحب صحافیوں اور سول سوسائٹی کے اراکین کو یہ ہلا شیری دیتے ہیں کہ وہ جمہوریت اور سویلین بالادستی کے لیے ڈنڈے کھائیں اور ڈٹ جائیں، لیکن اس کی کیا ضمانت ہے کہ جب مڑکر دیکھیں گے تو میاں صاحب موجود ہوں گے؟ میں ایک بار پھر دُرہراؤں اگر خاموش رہنا ہی حکمت عملی تھی تو پھر چوہدری نثار کو کیوں ایک طرف کردیا گیا؟ کیوں شہباز شریف کے محاذ آرائی سے گریز کے مشوروں پر کان نہیں دھرا گیا؟ یہ یقین دلایا گیا تھا کہ جنگ سیاست سے بہت ہی اعلیٰ و ارفع مقصد کے لیے ہے اور یہ ملک کی تقدیر اور مکمل جمہوری بندوبست کی قسمت کا فیصلہ کرکے رکھے گی، لیکن ایک ہی انتخاب نے بہت کچھ بدل دیا۔ بلکہ سب کچھ!

اس سارے معاملے میں مریم نواز کا کردار بہت پراسرار سا رہا۔ وہ مریم جنہوں نے عدالت عظمی کے فیصلہ کے بعد بہت زیادہ سخت موقف اختیار کیا۔ اب کہیں نہیں۔ کئی ماہ بعد ایک چند سطری ٹویٹ کے ساتھ نظر بھی آئی ہیں تو محض اس لیے کہ انہیں خطرہ ہے ان کے والد کے خلاف کوئی فیصلہ آسکتا ہے۔ کیا وہ میاں صاحب کی نامزد کردہ سیاسی وارث نہیں تھیں جن کے کاندھوں پر اپنے والد کی شروع کردہ سویلین بالادستی کی جدوجہد کو لے کر آگے چلنے کا بھاری بوجھ تھا؟ ہم تو کم ازکم یہی سمجھ رہے تھے۔

اس تمام صورتحال کو سامنے رکھیں تو مجھے یہ اقرار کرنے میں کوئی باک نہیں کہ ’’لڑکوں نے بہت اچھا کھیلا‘‘۔ نہ صرف ن لیگ کے مخاذ آرائی کی سیاست کے فال اؤٹ کو کنٹرول کیا بلکہ جاتی امرا کے ’’براڈبینڈ‘‘ کنکشن کو بھی منقطع کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یعنی مسلم لیگ کے پاس موجود سب سے ’’ہولناک ہتھیار‘‘ مریم نواز کا ٹوئیٹر ہینڈل طویل خاموشی پر چلا گیا۔

مسلم لیگ ن کہاں جارہی ہے؟ پارٹی کارکنان غصے میں ہیں اور بے دلی پھیلتی چلی جارہی ہے۔ مسلم لیگ کی دوسری سطح کی لیڈرشپ سرکٹی مرغیوں کی طرح ادھر ادھر ٹکریں مار رہی ہے۔ جن کے پاس کوئی اور آپشن نہیں وہ مجبوراً پارٹی کے ساتھ، جن کے پاس آپشن ہیں وہ ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایسے میں اگر ن لیگ کے ان راہنماؤں کو بعد میں مطعون کیا جائے تو شاید غلط ہوگا۔ وہ بطور لیڈر میاں صاحب کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ اس جنگ کی قیادت کریں، لیکن وہ تب نظریاتی بنتے ہیں جب الیکشن آتا ہے اور وہ تب بھی بولتے ہیں، جب انہیں جیل نظر آتی ہے۔ اب وہ ایک بار پھر دوراہے پر ہیں، دیکھتے ہیں اب کی بار گرد بیٹھتی ہے تو اس سے کیا برآمد ہوتا ہے!


ای پیپر