پلوامہ میں کشمیریوں کا قتل عام
24 دسمبر 2018 2018-12-24

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں قابض افواج نے ایک بار اپنی بر بریت اور طاقت کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے ضلع پلوامہ میں کشمیری نو جوانوں کے خون کی ہولی کھیلی، پلوامہ میں ہونے والا قتل عام در اصل بھارتی قابض افواج کی اسی وسیع پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت خطرناک ہتھیاروں اور اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیری عوام کو دہشت زدہ کرنا اور ان کو جبر کے ذریعے دبانا ہے۔ بھارتی افواج نے ایک بار پھر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ انہیں انسانی جان ، عظمت، وقار اور حقوق کا کوئی لحاظ نہیں ہے۔ ان کے نزدیک عاملی قوانین، بنیادی انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں اور حقوق کی کوئی حیثیت اور وقعت نہیں ہے۔

بھارتی قابض افواج نے اس وقت 11 نو جوانوں کو اس وقت شہید کر دیا ہے جب وہ نام نہاد مقابلے میں 3 کشمیری نو جوان مسلح جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ بھارتی سکیورٹی فورسز نے براہ راست مظاہرین کو نشانہ بنا کر فائرنگ کی اور ان کے جسموں کے اوپری حصے کو ہدف بنایا۔ اس براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں 11 افراد شہید اور 200 کے قریب زخمی ہو گئے۔ مقبوضہ کشمیر میں یہ اب معمول بنتا رہا ہے کہ جہاں پر بھی بھارتی فورسز مسلح جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرتی ہیں اور انہیں شہید کرتی ہیں تو اس علاقے میں نو جوان ان شہادتوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں اور کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہیں۔ یہی صورت حال پلوامہ کے علاقے میں بھی پیش آئی۔ جب کشمیری نو جوان نعرے بلند کرتے اور پتھر برساتے سڑکوں پر نکلے تو بھارتی قابض افواج نے انہیں سبق سکھانے کا فیصلہ کیا اور ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ بھارتی افواج نے مظاہرین پرگولیاں برسائیں اور پیلٹ گنوں اور آنسو گیس کے شیلوں کے ذریعے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی۔ طاقت کے اس وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں کئی بے گناہ اور معصوم نو جوانوں کی جان گئی۔

ایک نوجوان اپنے گھر سے قریبی چشمے سے پانی لینے نکلا تھا مگر بھارتی فوجیوں نے اسے نشانہ بنا ڈالا اور وہ اپنے گھر والوں کے سامنے شہید ہو گیا ۔ بھارتی فوج نے مظاہرے کرنے اور کشمیر کے حوالے سے بھارتی پالیسی سے اختلاف کرنے کو جرم قرار دے دیا ہے اور اس کی سزا گولی اور پیلٹ گن ہیں۔ مودی سرکار نے جان بوجھ کر کشمیری نو جوانوں کی نسل کشی کی پالیسی اختیار کی ہے ۔ بھارتی فورسز کو اس پالیسی کے تحت کھلی چھٹی دی گئی ہے کہ وہ جب چاہیں اورجہاں چاہیں کشمیری نو جوانوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اسی پالیسی کا مقصد کشمیری نو جوانوں میں ابھرتی بغاوت اور ابلتے ہوئے غصے کو دبانا ہے۔ بھارت کشمیر میں وہی کچھ کر رہا ہے جو کہ اسرائیل فلسطین میں کر رہا ہے۔ کشمیریوں کی نسل کشی کی اس پالیسی کے خلاف بھارت کو عالمی برادری کی طرف سے کسی قسم کے دباؤ اور مخالفت کا سامنا نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ پوری آزادی کے ساتھ اس ظالمانہ اور جابرانہ پالیسی پر گامزن ہے۔ جون 2018 میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے (UNHCR ) نے تاریخ میں پہلی مرتبہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اپنی رپورٹ جاری کی تھی۔ اس رپورٹ میں بھارتی قابض افواج کی طرف سے وسیع پیمانے پر کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق مظاہرین کے خلاف 2016 ء ایک نہایت خطرناک ہتھیار پیلٹ گن کا استعمال ہو رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 17 لوگ پیلٹ گن کے استعمال کے نتیجے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ افراد اگست 2016 سے جولائی 2017 ء کے درمیان ہلاک ہوئے۔ جبکہ مارچ 2016 ء سے مارچ2017 ء کے درمیان 6221 افراد ( جن میں غالب اکثریت نوجوانوں کی ہے) اس گن کے استعمال سے زخمی ہوچکے ہیں۔ ان زخمیوں کی اکثریت یا تو مکمل طور پر یا پھر جزوی طور پر بصارت سے محروم ہو چکے ہیں‘‘۔

ریاست جموں و کشمیر انصاف تک رسائی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی کھلی چھوٹ بڑے مسائل ہیں۔ جموں و کشمیر آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ 1990 ء ( AFSPA ) اور جموں و کشمیر پبلک سینٹی ایکٹ 1978 ء ) PSA ) کی وجہ سے ایسا ڈھانچہ وجود میں آ چکا ہے۔ جس کے باعث عمومی قانون پر اطلاق نہیں ہوتا۔ جواب دہی ختم ہو چکی ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف داد رسی کا کوئی نظام اور طریقہ موجود نہیں ہے‘‘۔

(AFSPA ) کے کالے قانون کے تحت مسلح افواج کے افراد کے خلاف حکومتی منظوری کے بغیر کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی۔ اس قانون کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کو ہر طرح سے تحفظ حاصل ہے۔ ان کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنیاد پر کارروائی نہیں ہو سکتی ۔ اس وجہ سے گزشتہ 28 سالوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے با وجود کسی ایک اہلکار کے خلاف بھی کارروائی نہیں ہوئی۔ مرکزی حکومت ایسی کارروائی کی اجازت ہی نہیں دیتی ۔ اس رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز کو لوگوں کو جبری طور پر غائب کرنے اور غیر قانونی طور پر حراست میں لینے کے خلاف بھی تحفظ حاصل ہے۔ ان شکایات کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

اسی طرح وادی کشمیر اور جموں میں اجتماعی قبروں اور قوانین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعات کے خلاف بھی کارروائی نہیں ہوتی۔ ان واقعات کے حوالے سے کوئی سنجیدہ تحقیقات بھی نہیں ہوئیں۔

عالمی طاقتیں اور اقوام متحدہ اس رپورٹ کے حوالے سے کوئی کارروائی کرنے میں اب تک ناکام ہیں۔

اس کی کی وجہ تو یہ ہے کہ ان کے نزدیک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے زیادہ اہم بھارت کی منڈی ہے ابھی تک پلوامہ کے قتل عام کے حوالے سے کسی بھی بڑی طاقت کی طرف سے مذمتی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں خاموش اور نظر انداز کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ ان کے نزدیک بھارت کے ساتھ کاروباری اور تجارتی معاہدے اور ان کے تزدیراتی مفادات انسانی جانوں سے زیادہ اہم ہیں۔ بھارتی حکمران طبقے کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کوتیار ہی نہیں ہیں کہ کشمیری بھارت کے تسلط اور قبضے سے نجات چاہتے ہیں وہ آزدی کے خواہاں ہیں۔

بھارت کے خلاف کشمیر میں شدید غصہ اور نفرت موجود ہے۔ کشمیری نو جوان بھارتی قبضے اور تسلط کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ کشمیری نو جوانوں کے دل و دماغ سے بھارتی طاقت کا خوف نکل چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ بھارتی افواج کی گولی کا نشانہ بن سکتے ہیں ۔ وہ سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ نعرے لگاتے ہیں اور ان کے خلاف اپنے غصے کا واضح اظہار کرتے ہیں۔

کشمیری نوجوان ، بزرگ، بچے اور خواتین بھارتی قبضے اور تسلط سے تنگ آ چکے ہیں۔ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں ۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ مکمل آزادانہ ،شفاف اور کھلے جمہوری عمل اور ماحول میں اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔وہ سنگینیوں کے سائے میں مستقل زندگی گزارنے کے حق میں نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسقواب رائے کے زریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں گے ۔ کشمیری در اصل اپنے اسی حق کے لیے لڑ رہے ہیں جو کہ ان کا قانونی ، انسانی اور جمہوری حق ہے۔ کشمیریوں کو کسی بھی دوسری قوم کی طرح اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ بھارت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کشمیری عوام کی خواہشات اور سوچ کے خلاف ان پر اپنا تسلط قائم کرے۔

بھارتی افواج کے مسلسل جبر ظلم اور تسلط نے اس خوبصورت وادی کو جو کہ جنت کی طرح ہے جہنم میں تبدیل کر دیا ہے۔ کشمیریوں کو حق خود ارادی کا مکمل حق حاصل ہے۔ کشمیری، عزت ، وقار ، آزادی اور جمہوری حقوق کے حق دار ہیں ناکہ ذلت ، رسوائی ، تشدد، گولیوں اور تکالیف کے ۔ کشمیر کا مسئلہ عالمی ضمیر پر بوجھ ہے اور یہ انسانی مسئلہ اور المیہ ہے جسے حل ہونا چاہیے۔


ای پیپر