ایف جی سرسید کالج و ایف جی سرسید سیکنڈری سکول۔۔۔تذکرہ ہنوز ناتمام!
24 دسمبر 2018 2018-12-24

سی بی سرسید کالج راولپنڈی کے بارے میں پرانی یادوں اور اہم باتوں کے تذکرے پر مشتمل میرے تین کالم روزنامہ’’نئی بات‘‘ میں چھپ چکے ہیں۔ اس کے لئے میں ’’نئی بات ‘‘کے ایڈیٹوریل بورڈکاممنون ہوں کہ ایک ہی موضوع یا ایک ہی اِدارے سے متعلق میری خامہ فرسائی کو قبول کیا گیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اِداروں سے وابستہ قابلِ قدر شخصیات اور اُن سے جڑے واقعات کے تذکرے سے جہاں ہماری معلومات میں اضافہ ہوتا ہے اور ایک خاص دور کے حالات و واقعات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے وہاں اِس طرح ہم ماضی کی بعض قابلِ قدر شخصیات کو خراجِ عقیدت بھی پیش کر سکتے ہیں۔ خیر ماضی کے سی بی سرسید کالج اور اُس سے متعلقہ بعض شخصیات کا تذکرہ اگرچہ کافی ہو گیا ہے لیکن میرے ہی نہیں میرے احباب کے خیال میں پچھلی صدی کی ستر کی دہائی کے وسط میں اس اِدارے کے ایف جی سرسید کالج اور ایف جی سرسید سیکنڈری سکول دو الگ اِداروں میں منقسم ہونے کے بعد اِن اِداروں بالخصوص ایف جی سرسید سیکنڈری سکول سے وابستہ کچھ دیگر شخصیات اور اُن سے جُڑے واقعات کا تذکرہ شاید تشنہ تکمیل ہے ۔احباب کا اِصرار ہے کہ یہ تذکرہ ضرور ہونا چاہیے۔ ’’نئی بات‘‘ کے ایڈیٹوریل سیکشن اور گروپ ایڈیٹر محترم جناب عطا الرحمن سے درخواست کی جاتی ہے کہ حسب سابق شفقت کا اظہار کرتے ہوئے اِس خامہ فرسائی کو مزید ایک دو کالموں کی صورت میں گوارہ کر لیں گے۔

میں پہلے سی بی سر سید سینئر اینڈ ہائی سکول پھر اَپ گریڈ ہونے کے بعد سی بی سرسید کالج اور قومیائے جانے کے بعد ایف جی سرسید کالج سے وابستہ اساتذہ میں سے چند مہربان شخصیات پروفیسر عبدالرحمن مرحوم، پروفیسر اکرام صاحب، پروفیسر جناب گلنواز مرحوم، پروفیسر غلام عباس مرحوم اور پروفیسر رشید صاحب کا تذکرہ کرنا چاہوں گا ۔ پروفیسر عبدالرحمن مرحوم جنہیں ہم مولانا بھی کہتے تھے لانبے اور بھاری برکم جسم کے مالک تھے۔ مثبت سوچ کی مالک اِتنی مرنجاں مرنج اور شریف النفس شخصیت میں نے زندگی میں شاید ہی دیکھی ہوگی۔ اِبتدائی دور میں سکول میں وہ کئی مضامین پڑھاتے رہے لیکن کالج میں ان کا مضمون اسلامیات تھا۔ اس کے ساتھ وہ کالج کے ناظمِ امتحانات بھی تھے۔ عرفان صاحب سے اُن کی گاڑھی چھینتی تھی۔ گاہے گاہے ہم بالٹی گوشت کھانے کے لئے صدر جایا

کرتے تو آرڈر دیتے ہوئے مولانا کے بھاری بھرکم جُثے کا بھی خیال رکھنا پڑتا تھا۔ مولانا ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر ایف جی سرسید کالج کے وائس پرنسپل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ پروفیسر اکرام صاحب کسی حد تک کم گو تھے۔ اُن کے دونوں بیٹے طاہر اور شاہد ہمارے شاگرد رہے ۔ شاہد کا شمار سکول کے ذہین ترین طلبا میں ہوتا تھا جس نے بورڈ میں پوزیشن بھی لی۔ اکرام صاحب سکول میں شاید ریاضی لیکن کالج میں اکنامکس کے پروفیسر تھے۔ اکنامکس پڑھنے والے سٹوڈنٹس میں اکنامکس کی ٹرم ’’افادۂ مختتم‘‘ اکرام صاحب کے نام کے ساتھ جڑی رہی۔ بعد میں بھاری بھرکم جسم اور خوش مزاج شخصیت کے مالک پروفیسر شوکت نذر بھی اکنامکس کے لیکچر کے طور پر کالج میں آگئے تو اکرام صاحب اور شوکت نذر صاحب کی جوڑی خاصی معروف رہی۔پروفیسر گُل نواز چوہدری مرحوم کالج میں اردو پڑھاتے تھے ۔ سکول میں وہ دیگر مضامین بھی پڑھاتے رہے۔ٹیوشنز پڑھانے میں اُن کا کافی شہرہ تھا۔سٹوڈنٹس ان سے دبتے تھے کے وہ ان کی رکاکت بھرے انداز میں کھچائی کرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتے تھے۔پروفیسر غلام عباس مرحوم اردو اور پولیٹیکل سائنس کے استاد تھے۔ان کا اندازِ تکلم ذاکرانہ اور لطائف رکاکت سے بھرے ہوتے تھے۔رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے بھی ان کو دلچسپی تھی۔پروفیسر رشید صاحب بی ایس سی ، بی ایڈ اور ایم اے فارسی تھے ۔ سائنس کے مضامین فزکس اور کمسٹری کے بڑے نامی گرامی اُستاد تھے البتہ کالج میں اُن کا مضمون فارسی تھا۔ جس کے چند ہی سٹوڈنٹس ہوتے تھے۔ ہوم ٹیوشن پڑھانے کے لئے بڑے ہردلعزیز تھے اور رات گئے تک ٹیوشن پڑھاتے رہتے تھے اُن کا اپنا کہنا تھا کہ آخری ایک دو ٹیوشن رات گئے نیند کی حالت میں پڑھا دیتے ہیں بعد میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے ایف جی سرسید کالج کے وائس پرنسپل کے طور پر ریٹائر ہوئے۔

کالج کے اِن اساتذہ کے ہم عصر جو سینئر اساتذہ سکول سیکشن سے وابستہ تھے اُن میں سید جعفر حسین مرحوم، چوہدری محمد حسین مرحوم، رانا عزیز الدین، ظہور چوہان او رضیاء الحق قریشی مرحوم زیادہ نمایاں تھے۔ اِن میں بعد میں منظور حسین نسیم مرحوم،مسعود ملک مرحوم، افتخار علی شاہ مرحوم، مجید قمر مرحوم، طارق علی احمد ، سر شریف خان،ڈرائینگ ماسٹر اے بی خان مرحوم و کیپٹن ممتاز عنایت اللہ مرحوم اور پی ٹی آئی بیگ صاحب مرحوم وغیرہ بھی شامل ہو گئے۔ اکتوبر 1969ء میں میری تعیناتی کے کچھ ہی عرصہ بعد سید جعفر حسین مرحوم جو سکول میں سائنس ٹیچر تھے کا انتقال ہو گیا۔ جعفر حسین مرحوم نے ویسپا سکوٹر رکھا ہوا تھاا ور رات گئے تک ٹیوشن پڑھانے میں مصروف رہتے تھے۔ ایک رات ٹیوشن پڑھا کر گھر آئے تو طبعیت خراب ہوئی اوراللہ کو پیارے ہو گئے۔ اُن کے دونوں صاحب زادے سیدمرتضیٰ جعفراور سید رضا جعفر کا شمار سکول و کالج کے ذہین طالب علموں میں ہوتا تھا۔ رضا جعفر اس وقت میجر جنرل ڈاکٹر کے طور پر آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں ہیڈ آف پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹ ہیں۔

چوہدری محمد حسین مرحوم فزکس اور کمسٹری کے بڑے اچھے اُستاد تھے۔ ستر کی دہائی کے وسط میں سر سید کالج کا سکول سیکشن ایف جی سرسید سیکنڈری سکول کے طور پر الگ ہوا تو اُنکی بڑی خواہش تھی کہ وہ سکول کے پرنسپل بنیں لیکن کالج کے پرنسپل پروفیسر ایم ایچ ہمدانی مرحوم کی عنایت سے قرعہ فال رانا عزیز الدین کے نام نکلا۔ اور اس طرح چوہدری محمد حسین مرحوم کو ایف جی پبلک سکول کھاریاں کا پرنسپل بن کر جانا پڑا۔ بعد میں وہ ایف جی پبلک سکول مری کے پرنسپل تھے کہ اُن کا انتقال ہو گیا۔ رانا عزیز الدین بڑی سوٹڈ بوٹڈ اور پھوں پھاں والی شخصیت تھے۔ سرسید سکول کے قائم مقام پرنسپل (Offciating)ہونے کے باوجود اُن کا بڑا رعب اور دبدبہ تھا۔ غالباً1976ء میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم شمالی کوریا کے دورے پر گئے تو وہاں سے اُنہوں نے سٹوڈنٹس کا ماس جمناسٹک شو دیکھا جو اُنہیں بڑا پسند آیا۔ واپسی پر اُنہوں نے وفاقی وزیر تعلیم حفیظ پیرزادہ مرحوم کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ یہاں بھی ماس جمناسٹک شو میں حصہ لینے کے لئے سٹوڈنٹس (بوائز و گرلز) کی ٹیمیں تیار کروائیں۔ اس مقصد کے لئے ہمارے ایف جی سرسید سکول کو راولپنڈی کے لئے سنٹر بنایا گیا۔ہمارے سرسید سکول سمیت دیگر اِداروں کے تقریباً ایک ہزار سے زائد سٹوڈنٹس کئی ماہ تک ماس جمناسٹک شو کی تیاری کرتے رہے ۔سٹوڈنٹس کو پریکٹس کے دوران کھانے پینے کے لئے دُودھ ، روح افزا، کیلے اور انڈے وغیرہ دئیے جاتے۔ مجھے یاد ہے کہ اکتوبر 1976ء میں سعودی ارب کے فرماں رواں خادمِ حرمین شریفین شاہ خالد مرحوم پاکستان کے دورے پر آئے تو اُن کے اعزاز میں ایف جی کالج ایچ نائن اسلام آباد کے گراؤنڈ میں جو خاص طور پر اس مقصد کے لئے تیار کیا گیا تھا ہمارے سنٹر کے سٹوڈنٹس نے ماس جمناسٹک شو پیش کیا گیا جو بہت پسند کیا گیا۔


ای پیپر