کیا عمران خان کو معزول کر نے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے؟
24 دسمبر 2018 2018-12-24

غروب آفتاب کے بعد اسلام آباد میں محفلیں آباد ہونا شروع ہو جاتی ہے۔سیاست دانوں،دانشوروں اور صحافیوں کی زیادہ تر ملا قاتیں رات کے اندھرے میں ہو تی ہے۔جب سخت سردی ہو اور قومی اسمبلی یا سینیٹ کا اجلاس بھی جاری ہو تو پھر اکثر ملاقاتیں بڑے ہو ٹلوں کی بجائے ڈرائنگ رومز میں ہو تی ہیں۔دارالحکومت میں سردی بھی بہت ہے اور قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس بھی حسب معمول جاری ہے۔وفاقی حکومت اپوزیشن کے سامنے سرینڈر کر چکی ہے۔پبلک اکاونٹس کمیٹی کی سربراہی اپوزیشن لیڈر میاں شہباز کے حوالے کی گئی ہے۔قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن کو ان کا مکمل حصہ دیا گیا ہے۔گویا چار مہینے بعد اب پارلیمنٹ مکمل طور پر فعال ہو چکی ہے۔اس لئے کہ ایوان کا زیادہ تر بزنس قائمہ کمیٹیوں اور پبلک اکاونٹس کمیٹی میں ہو تا ہے۔وفاقی حکومت کی ضد تھی کہ اپوزیشن لیڈر کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا سربراہ نہیں بنایا جائے گا۔حکومت کی یہ بھی کوشش تھی کہ قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن کو زیادہ حصہ نہیں ملنا چاہئے۔لیکن آخر کار انھوں نے ہار مان لی ۔پبلک اکاونٹس کمیٹی کی سربراہی اپوزیشن کو دے دی گئی ہے جبکہ قائمہ کمیٹیوں میں بھی ان کو مناسب حصہ دیا گیا ہے۔حا لانکہ اقتدار میں آنے کے بعد تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی اور خود وزیر اعظم عمران خان اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ اپوزیشن چونکہ منتشر ہے اس لئے وہ پبلک اکاونٹس کمیٹی کی سربراہی اور قائمہ کمیٹیوں میں حصہ داری پر حکومت کے ساتھ بارگینگ پر تیار ہو جائے گی یا حکومت ان کے اختلاف سے فائدہ اٹھا کر اپنی مر ضی کے مطابق پبلک اکاونٹس کمیٹی کے سربراہ کا انتخاب اور قائمہ کمیٹیوں میں اپنی اجاراداری قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی لیکن اپوزیشن نے حکومت کا یہ حربہ ناکام بنادیا ہے۔یوں سمجھ لیں کہ میاں شہباز شریف ،آصف علی زرداری اور مو لانا فضل الرحمان اس معاملے میں ایک پیج پر تھے۔حالانکہ حکومت کا خیال تھا کہ مسلم لیگ (ن)،پیپلز پارٹی اور ایم ایم اے کے درمیان اختلافات کے با عث ان کو ایوان کی کارروائی چلانے اور دیگر فیصلے کرنے میں آسانی ہو گی۔لیکن اپوزیشن میں مو جود ان تینوں جماعتوں نے اختلافات کی بجائے متحد ہو کر حکومت کو سرینڈر کرنے پر مجبور کیا۔

آپ کو یاد ہو گا کہ وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کئی مرتبہ قومی اسمبلی میں علی الاعلان اس بات کا اقرار کرچکے

ہیں کہ اپوزیشن ہمارا مسئلہ نہیں اس لئے کہ وہ آپس میں متحد نہیں تو حکومت کیوں ان سے خوف زدہ ہو؟جب پبلک اکاونٹس کمیٹی کی سربراہی کا معاملہ آیا تو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے اس بیان پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں کئی بار ہنگامہ ہوا کہ ایک نیب زدہ شخص کو کیسے اس کا سربراہ بنایا جا سکتا ہے۔قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اندر اور باہر وہ اس عزم کا اعادہ کرتے نظر آئے کہ شہباز شریف کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا سربراہ نہیں بنایا جائے گا۔لیکن حکومت مجبور تھی اس لئے کہ ایوان کی کارروائی چل نہیں رہی تھی۔دونوں ایوان چار مہینوں سے مو جود ہوتے ہوئے بھی بزنس کے حوالے سے عملا غیر فعال تھے۔حکومت کا یہی رویہ قائمہ کمیٹیوں کے معاملے پربھی تھا۔لیکن یہاں بھی انھوں نے اپوزیشن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔

جب حکومت نے سو روزہ(100) کارکردگی کے بارے میں تقریب کے انعقاد کا فیصلہ کیا تو افواہ آئی کہ وزیر اعظم عمران خان وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور ان کی ٹیم سے ناراض ہے اس لئے انھوں معاشی ٹیم کو بدلنے کا فیصلہ کیا ہے۔بعد میں یہ خبر افواہ ہی ثابت ہو ئی اس لئے کہ اسد عمر تادم تحریر اپنے منصب پر بر قرار ہے۔ لیکن اب یہ افواہ گرم ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ان کے توقعات پر پورا نہیں اتر رہے ہیں جنھوں نے اقتدار ان کے حوالے کیا ہے ،اس لئے اب ان کو ریپلیس (Replace) کیا جارہا ہے۔ عمران خان کی معزولی کی وجہ یہ بیان کی جارہی ہے کہ چونکہ ان کی معاشی ٹیم کارکردگی دکھا نہیں سکی اس لئے ان کا متبادل ڈھونڈا جا رہا ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ لوگ جنھوں نے عمران خان کو اقتدار میں لانے کی مدد کی تھی کیا ان کو معلوم نہیں کہ چار مہینوں میں ملک کی معیشت کو بہتر نہیں بنا یا جا سکتا؟ کیا وہ جانتے نہیں کہ ملک کی معیشت کو استحکام کے لئے مہینے نہیں بلکہ سالوں درکار ہیں؟ کیا وہ اس بات سے باخبر نہیں کہ بیرونی قرضوں کا بوجھ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ جس کی آدائیگی کے لئے اب بجلی،پیٹرولیم مصنو عات اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ جب بجلی،پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتیں بڑھیں گی تو ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہو گا؟میرے خیال میں وہ ان تمام حقائق سے بخوبی باخبر ہیں۔جب وہ ان تمام حقائق کا مکمل ادراک رکھتے ہیں توپھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ چار مہینے بعد عمران خان کا متبادل ڈھونڈنے کے لئے لنگرو کس چکے ہیں؟

میرے خیال میں یہ افواہ پیپلز پارٹی نے اڑائی ہے۔آپ کو یاد ہو گا کہ آصف زرداری نے کہا تھا کہ الیکشن کے لئے’’ اشارہ‘‘ مل گیا ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ’’ اشارے‘‘ والے کا نام بتا دیں تو پھر وہ جواب نہ دے سکے۔یہی سوال جب مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف سے کیا گیا تو ان کا جواب تھا کہ میں کسی ’’اشارے‘‘ پر یقین نہیں رکھتا۔گویا کہ مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی کے ’’اشارے‘‘ کو مسترد کر چکی ہے۔’’اشارے‘‘ کے مسترد ہونے کے بعد آصف علی زرداری کی میاں شہباز شریف سے ملاقات بھی ہو ئی ہے۔آصف علی زرداری نے میاں نوا زشریف کے ساتھ ملاقات پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔حالانکہ اس سے قبل آصف علی زرداری میاں نوا زشریف پر وعدہ خلافی کے الزامات لگا کر ان سے ملاقات کرنے سے انکار کر تے رہے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ پیپلز پارٹی اس طرح کی افواہیں کیوں پھیلا رہی ہے؟ غالب امکان یہی ہے کہ آصف علی زرداری منی لانڈرنگ اور جعلی اکاونٹس مقدمہ میں گرفتار ہو نے والے ہیں۔اب تو تحریک انصاف نے ان کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس بھی دائر کردیا ہے۔اگر تحریک انصاف آصف علی زردار ی کے خلاف مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت بھی ختم ہو جائے گی۔پھر ان کے لئے ایوان میں کوئی تحریک استحقاق جمع نہیں ہو سکے گا اور نہ ایوان کی کارروائی میں حصہ لینے کے لئے ان کے پراڈکشن آرڈر جاری ہوں گے۔بس یو ں سمجھ لیں کہ آصف علی زرداری نے صورت حال کو دیکھ کر کشتیاں جلا دی ہیں۔وہ ہر اس قوت کو دباو میں لانے کی کوشش کریگا جس پر ان کا شک ہو کہ ان کے گر فتاری میں اس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔جب تک آصف علی زرداری کا اونٹ کسی کروٹ نہیں بیٹھے گا اسی وقت تک افواہوں اور دھمکیوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔لیکن اس بات سے بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کے معاشی ٹیم کے سربراہ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر ابھی تک عوام کو ریلف دینے میں ناکام ہے۔لیکن اس ناکامی کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ عمران خان کو چار مہینے بعد ریپلیس کیا جائے۔


ای پیپر