قائدِاعظمؒ کے اقتصادی نظریات
24 دسمبر 2018 2018-12-24

ایڈم سمتھ جنہیں جدید معیشت کے بانیوں میں تصور کیا جاتا ہے نے اپنی شہرہِ آفاق تصنیف ’’دی ویلتھ آف نیشنز‘‘ مطبوعہ 1977میں ایسے عوامل پر روشنی ڈالی جو قوموں کی اقتصادیات کو ترقی دے کر خوشحالی کو فروغ دیتے ہیں۔ ایڈم سمتھ کے اقتصادی نظریے کے مطابق کسی بھی ملک کی طاقت کا انحصار اس کی اقتصادی خوشحالی پر ہے جس کے بغیر علاقائی اور سیاسی حاکمیت کا خواب بے معنی ہے۔ یہ فوج ، عدلیہ یا بیوروکریسی نہیں جو کسی ملک کو چلاتے ہیں بلکہ یہ انفرادی ، شراکتی تاجر یا کارپوریشنز ہیں جو کاروبار کرتے ہیں اور دستیاب افرادی قوت سرمایہ اور پیدوار کے دیگر ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے قوم اور ریاست کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں قومی آمدنی اور ٹیکس حاصل ہوتے ہیں جو ریاست کے ترقیاتی و غیر ترقیاتی اخراجات ،بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، پلوں ، ڈیموں ، دفاعی ضروریات، قرضوں اور درآمدات کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اسی طرح متوازن معیشت غربت کے خاتمے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی کی بدولت انفرادی آمدنی کا استحکام، صحت و تعلیم کی سہولیات کو فروغ اور صحت مند مقابلے کی فضا قائم ہوتی ہے۔

قائدِاعظم محمد علی جناح ؒ ایک قوم پرست اور نظریاتی انسان تھے وہ اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھے کہ مسلمانوں کو اقتصادی لحاظ سے کچل دیا گیا تھا وہ جانتے تھے کہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد قوم کو فوری طور پر ایک کمزور معیشت کی بحالی کا مسئلہ درپیش ہو گا جس پر اب تک ہندوؤں کا غلبہ ہے۔ قائد نے فرمایا کہ ’’میں تاجروں، کاشتکاروں اور سول سرونٹس کے بغیرپاکستان کو پھولتے پھلتے نہیں دیکھتا‘‘اس لیے ایک طرف تو وہ سیاسی محاذ پر انگریزوں اور کانگریس سے نبرد آزما تھے جبکہ دوسری طرف وہ مسلمانوں کی معاشی حالت بہتر کرنے کے لیے خاصے فکر مند تھے۔ اسی لیے وہ با اعتماد اور نمایاں کاروباری شخصیات سے روابط بڑھا رہے تھے۔ انہی نمایاں اور با اعتماد شخصیات میں سے ایک ایم رفیع بٹ تھے۔ ایم رفیع بٹ نے صرف سولہ سال کی عمر میں ایک صنعت کار کے طور پر عملی زندگی کا آغاز کیااور اپنے پختہ عزم اور حیران کن کاروباری فہم و فراست کے ذریعے حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے صرف 12کارکنان کے ساتھ اپنے والد کی آلاتِ جراحی سازی کی فیکٹری کا انتظام سنبھالا اور قلیل عرصہ میں اسے ترقی دیتے ہوئے کارکنان کی تعداد کو 600تک پہنچا دیا اسی اثنا میں دوسری جنگِ عظیم کے آغاز نے آلاتِ جراحی سازی کی مانگ میں شدید اضافہ کر دیا ، جس سے رفیع بٹ نے بھرپور منافع کمایا۔ انہوں نے جدید سازو سامان اور مشینری کی در آمد کے ذریعے اپنی فیکٹری کو جدت سے ہم آہنگ کیا۔ فیروز پور روڈ پر واقع یہ وسیع و عریض فیکٹری بر صغیر میں اپنی شان و شوکت کے حوالے سے اپنی مثال آپ تھی۔ 1946میں قائدِ اعظم نے اس فیکٹری کا دورہ کیا اور ایم رفیع بٹ جو کہ ہندوؤں کے مضبوط پراپیگنڈہ اور مخالفت کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہے تھے، کی بھرپور حوصلہ افزائی فرمائی ۔ جلد ہی مسلمانوں کی اقتصادی پسماندگی ، مالیاتی ضروریات اور معاشی بہتری کو مدِ نظر رکھتے ہوئے رفیع بٹ نے کاروبار کو متنوع بناتے ہوئے سینٹرل ایکسچینج بنک لمیٹڈقائم کیا جو شمالی بھارت میں مسلمانوں کا پہلا بنک تھا۔ اس بینک نے قابلِ قدر کامیابی حاصل کی اور پہلے ہی سال خود انحصاری حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ پانچ فیصد منافع بھی حاصل کیا۔ بینک کے قیام کے بعد اپنے ساتھیوں سے ملکر ایم رفیع بٹ نے انگریزی روزنامہ ’’پاکستان ٹائمز‘‘ کے اجراء کی کوششیں تیز کر دیں تاکہ ہندوؤں کے پراپیگنڈہ کو زائل کرنے کے ساتھ مسلمانوں کی خواہشات و خدشات کو بھی اجاگر کیا جا سکے ۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے کثیر سرمایہ عطیہ کیا ، مالی امداد کے ساتھ ساتھ عملی سرگرمی بھی دکھائی ۔ان کا سب سے اہم کارنامہ شاید یہ گِنا جائے کہ انہوں نے اہم تاجروں، کاروباری شخصیات اور نمایاں سیاستدانوں سے ملاقاتوں میں انہیں اپنا ہم خیال بنایا اور مسلم لیگ کو مسلمانوں کی معاشی بہتری کے لیے قابلِ عمل تجاویز دیں۔

1942ء میں اے ایم برق نے لاہور سے ایک آل انڈیا ٹریڈ ڈائریکٹری شائع کی جس میں تمام نمایاں تاجروں صنعتکاروں سیاستدانوں اور فنکاروں کا تعارف اور حالاتِ زندگی درج کیے گئے۔ اس کتاب کا انتساب ان الفاظ کے ساتھ ایم رفیع بٹ کے نام کیا گیا۔

’’ایم رفیع بٹ کے نام ، جو صوبے کے نو عمر صنعتکار اور کاروباری ہیں، جنہوں نے اپنی فطری صلاحیتوں ، کاروباری فراست، اور آزاد خیالی کے بل پر نا صرف بہت بڑی بڑی فیکٹریاں اور دفاتر بنائے بلکہ عزت و احترام بھی کمایا‘‘۔ دسمبر 1943میں کراچی میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں مسلمانوں کی تعلیمی اور اقتصادی پسماندگی کے خاتمے کے لیے ایک پلاننگ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایم رفیع بٹ پلاننگ کمیٹی کے چھ ممبران میں سے ایک تھے جبکہ اس کی ذیلی کمیٹی برائے دھاتیں اور کان کنی کے چیئر مین بھی نامزد کیے گئے۔ 1946میں وہ ہندوستان کے لیے صنعتی مشینری کا انتخاب کرنے والے اُس صنعتی وفد میں بھی شامل تھے جس نے جرمنی کا دورہ کیا۔ اس سے بھی ان کے کاروباری قد کاٹھ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ قائدِ اعظمؒ ایم رفیع بٹ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ، یہ دونوں کاروباری شعبے کے فروغ کے لیے تبادلہءِ خیال اور مشورے کرتے رہتے تھے۔ ایم رفیع بٹ نے امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کرنے اور جدید تکنیک ، طریقہ ءِ کار اور مشاہدات کو برصغیر میں قابلِ عمل بنانے کے لیے مہینوں وسیع پیمانے پر سفر کیے۔ واپسی پر انہوں نے کِلونیٹر ریفریجریٹرز کا ایک بہت بڑا شوروم ہال روڈ اور میکلوڈ روڈ کے سنگم پر قائم کیا۔ انہوں نے 1948میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے سان فرانسیسکو میں منعقدہ اجلاس میں بھی شرکت کی۔

ایم رفیع بٹ جیسے ساتھیوں کی بدولت قائدِ اعظم اپنے دو نکاتی ایجنڈے پر تیزی سے عمل پیرا تھے جس کا مقصد تیزی سے غربت پر قابو پانا اور معالجین، سائنسدانوں اور سول ملازمین کو تکنیکی تعلیم مہیا کرنا تھا۔ سر آغاخان کی مدد سے وہ پولی ٹیکنیک کے دو ادارے قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ قائد اعظم مہاجرین کی آباد کاری کے مسائل کا حل صنعتوں کے فروغ میں دیکھ رہے تھے۔ اندرون ملک سفری سہولیات کے لیے اورینٹ ائیر ویز قائم کی جا چکی تھی۔ 1جولائی 1948میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کھول دیا گیا۔ قومی بینک کا قیام پاکستان کی خودمختاری کی علامت تھا ۔اسی حوالے سے پاکستان کا پہلا بجٹ حیران کر دینے والا تھا۔ انتہائی کم وقت میں قائدِ اعظم نے بہت اہم کامیابیاں حاصل کیں تھیں۔ اسٹیٹ بینک کا قیام،پاکستان کے اپنے کرنسی نوٹوں کا اجراء، اس کی اپنی ائر لائن، آزادانہ تجارتی اور صنعتی پالیسی اہم کامیابیاں تھیں۔

سی پیک ہماری دروازے پر دستک دے رہا ہے ۔سی پیک کے بہت سے منصوبے پایہءِ تکمیل کو پہنچنے والے ہیں یا افتتاح کے قریب ہیں۔ اس وقت تمام سٹیک ہولڈرز کے متحد ہونے کا وقت ہے کیونکہ میرے خیال میں آنے والے 10سالوں کا پاکستان کی معیشت کے استحکام یا بدحالی پر بھر پور انحصار ہو گا۔ حکومت کو انتظامی قوانین اور ٹیکس اصلاحات کاروبار دوست بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم پاکستانیوں کو اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنے ،اپنی مہارتوں میں اضافہ کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ہم سخت محنت کے ذریعے خوشحال اور مثبت پاکستان کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔


ای پیپر