جعلی بینک اکا ؤ نٹس کیس میں سپریم کورٹ کمرہ عدالت میں پروجیکٹر لگانے کا حکم
24 دسمبر 2018 (14:29) 2018-12-24

لاہور: سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکا ؤ نٹس کیس میں کمرہ عدالت میں پروجیکٹر لگانے کا حکم د یدیا ، چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی سمری اوپن کورٹ میں پروجیکٹرپرچلائی جائے گی، انور مجید کے ساتھ اب کوئی رحم نہیں، اربوں روپے کے کہانچے ہیں، معاف نہیں کریں گے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جعلی بینک اکا ؤ نٹس کیس پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی جس میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ وکیل ہیں،آپ نے فیس لی ہوئی ہے اس لیے ہم آپ کوسنیں گے لیکن فیصلہ ہم نے ہی کرنا ہے۔

چیف جسٹس نے اومنی گروپ کے مالکان کے وکلا منیربہٹی اور شاہد حامد کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ اومنی گروپ کے مالکان کا غرور ختم نہیں ہوا، قوم کے اربوں روپے کہاگئے اور پھر بھی بدمعاشی کررہے ہیں، ان لوگوں کومعاف نہیں کرسکتے جنہوں نے قوم کا پیسہ کھایا ، لگتا ہے انہیں اڈیالہ جیل سے کہیں اور شفٹ کرنا پڑے گا۔

سپریم کورٹ نے کمرہ عدالت میں پروجیکٹر لگانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی سمری اوپن کورٹ میں پروجیکٹرپرچلائی جائے گی۔ انور مجید کے ساتھ اب کوئی رحم نہیں، اربوں روپے کے کہانچے ہیں، معاف نہیں کریں گے۔


ای پیپر