العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ سنا دیا گیا
24 دسمبر 2018 (10:34) 2018-12-24

اسلام آباد: العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ نواز شریف فیصلہ سننے کیلئے احتساب عدالت میں موجود تھے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنس کا فیصلہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے سنایا۔ نواز شریف کو ایک ریفرنس میں بری جبکہ دوسرے میں سزا ہوگئی۔ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف بری جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو 7 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

کمرہ عدالت میں ن لیگ کے وکلا اور رہنماؤں سمیت 15 افراد ہی جا سکے تھے۔ کمرہ عدالت میں نواز شریف کو کلوز پروٹیکشن یونٹ سیکیورٹی فراہم کی گئی۔ احتساب عدالت کے باہر ن لیگ کے کارکنوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔ فیصلے سے قبل نواز شریف کی اپنے وکیل خواجہ حارث سے مشاورت بھی ہوئی۔

العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کے فیصلے سے قبل اسلام آباد میں سیکیورٹی ہائی الرٹ رہی۔ سیکٹر جی الیون میں احتساب عدالت کو جانے والے راستے سیل کر دیئے گئے تھے۔ احتساب عدالت کے گرد و نواح میں پولیس کے ایک ہزار جوان تعینات تھے۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیئے رینجرز کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ باغی سیاست دان جاوید ہاشمی نے کہا تھا کہ مجھے نواز شریف کی رہائی کی امید نہیں ہے۔ نواز شریف کی ہمت کو سلام کرتا ہوں یہ عدالتیں کچھ بھی نہیں ہے۔

دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے سوشل میڈیا پر طویل خاموشی توڑ دی۔ اپنے ٹویٹ میں مریم نواز نے لکھا ہے کہ آخری بار اپنی والدہ کو کفن میں دیکھا اور آخری دفعہ والد کو مسکراتے ہوئے اپنی والدہ کے ساتھ دیکھا۔ والد اور والدہ کی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے دونوں کیلئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں پر رحم کریں۔


ای پیپر