کہاں کہاں لیے پھرتی ہے جستجو رسول(7)
24 دسمبر 2018 2018-12-24

پچھلی دفعہ میں نے جستجورسولکی تلاش اور خواہش امتی نبی آخرالزماں کے حوالے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خواہش آرزو، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے آگے اس حوالے سے ان کی درخواست ودعا کے ذکر کرنے کی بات کی تھی، آخر کار بقول ہمارے رسول پاک ، میانہ قد کے سرخ وسفید بدن والے، جن کا بدن ایسا شفاف تھا کہ معلوم ہوتا تھا، کہ ابھی ابھی حمام سے نہا کر آئے ہیں، بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ ان کے گیسوکاندھے تک لٹکے ہوئے تھے۔

قارئین میں حال ہی میں چھپنے والی اپنی کتاب ”ردقادیانیت“ اور عقیدہ ختم نبوت“ سے کچھ اقتباسات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔

”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے ان کی تعلیمات کو تو مانتے اور جانتے ہیں اور اگر وہ دانستہ ان کے احکامات سے ردگردانی کرنے لگ جائیں اور اپنے مطلب کی تاویلات، اور ذاتی مفادکے گھٹیا دلائل سے دنیا کو قائل کرنے کی کوشش کریں، تو نہ صرف ان کی یہ خام خیالی ہے کہ مسلمان ان جہلا کی بات پر کان دھریں گے بلکہ اس کوشش سے وہ اپنی عاقبت وآخرت بھی خراب کرا بیٹھیں گے۔

کیا عیسائیوں کی اپنی کتابوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ ”خدا کا عہد یروشلم میں، معبد سلمان کے اندر کیا تھا، مگر میری بات کا یقین کرو، کہ ایک وقت آئے گا کہ جب خدا اپنی رحمت، ایک اور شہر میں نازل فرمائے گا ،اور ہرجگہ اس کی صحیح عبادت ہوسکے گی، اور اللہ اپنی رحمت سے ہرجگہ سچی نماز قبول فرمائے گا۔ میں دراصل اسرائیل کے گھرانے کی طرف نجات کا نبی بناکر بھیجا گیا ہوں، مگر میرے بعد مسیح آئے گا ، خدا کا بھیجا ہوا تمام دنیا کی طرف، جس کے لیے خدا نے تمام دنیا بنائی ہے، اس وقت ساری دنیا میں اللہ کی عبادت ہوگی، اور اس کی رحمت نازل ہوگی۔ (باب83)

وہ صاف فرمارہے ہیں کہ میرے بعد جو نبی تشریف لائیں گے، ان کے لیے یہ دنیا بنائی گئی ہے، اور خدا لوگوں کی نماز کے لیے، ایک اور شہر یعنی مکہ کی سمت مقرر فرمادے گا، اور ساری دنیا میں اللہ کی عبادت ہوگی، اور ایک کتاب کا اقتباس پڑھیے۔

یسوع نے سردار کاہن سے کہا، زندہ خدا کی قسم ! جس کے حضور میری جان حاضر ہے، میں وہ مسیح نہیں ہوں، جس کی آمد کا دنیا کی تمام قومیں انتظار کررہی ہیں، جس کا وعدہ خدانے ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام سے یہ کہہ کر کیا تھا، کہ تیری نسل کے وسیلے سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی (پیدائش 22-18)

مگر جب خدا مجھے دنیا سے لے جائے گا، شیطان پھر بغاوت برپا کرے گا کہ ”ناپرہیز گار لوگ“ مجھے خدا کا بیٹا مانیں، ان کی وجہ سے میری باتوں اور میری تعلیمات کو مسخ کردیا جائے گا، یہاں تک کہ صرف بمشکل تیس اہل ایمان رہ جائیں گے اس وقت خدا دنیا پر رحم فرمائے گا، اور اپنا رسول بھیجے گا، جس کے لیے اس نے یہ ساری چیزیں بنائی ہیں، جو قوت کے ساتھ جنوب سے آئے گا، اور بتوں کو بت پرستوں کے ساتھ تباہ کردے گا، جو شیطان سے اقتدار چھین لے گا، جو اس نے انسانوں سے حاصل کرلیا ہے، وہ خدا کی رحمت ان لوگوں کی نجات لے کر اپنے ساتھ لائے گا ، جو اس پر ایمان لائیں گے، اور مبارک ہے وہ۔ اس کی باتوں کو مانے (باب 96)

اتنے صاف کھلے اور واضح الفاظ میں حضورکی شان، آمد، ان کا مقام مرتبہ، ان کی بعث کا ثبوت اگر ساری کتب بشمول انجیل مقدس کے دے دیا جائے، تو پھر جس کو توفیق ربانی ہی نہ ہو، تو وہی نہیں سمجھ سکتا، بصورت دیگر انکار کی کوئی گنجائش اور دلیل خدا اور اس کے نبیوں نے باقی نہیں رہنے دی، مثال کے طورپر وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو ۔

”سردار کاہن نے پوچھا، کہ اس رسول کے بعد دوسرے نبی بھی آئیں گے یسوع نے جواب دیا، اس کے بعد خدا کے بھیجے ہوئے ”سچے“ نبی نہیں آئیں گے، مگر بہت سے جھوٹے نبی آجائیں گے، جس کا مجھے بڑا غم ہے، کیونکہ شیطان خدا کے عادلانہ فیصلے کی وجہ سے ان کو اٹھائے گا، اور میری انجیل کے پردے میں، وہ اپنے آپ کو چھپائیں گے۔ (باب97)

قارئین کرام، جھوٹے نبیوں کی آمد پر شیطان لعین کی حوصلہ افزائی اور اس کا دکھ اور کرب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کس قدر تھا، اس کا اظہار انہوں نے اپنی نازل ہونے والی کتاب میں فرما دیا، مگر یہ کتنی بدبختی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کی مدد، معاونت اور بدکرداری اور حمایت کی وجہ سے ہی جعلی نبوت کا دعویٰ دار پیدا ہوگیا، جس کو انگریزوں اور عیسائیوں کی مکمل پشت پناہی اور آشیرباد حاصل تھی، اور یہی بدبخت بدطنیت اور بدکردار لوگ ہی استہزاءرسول کا باعث بنے، اور ان شیطانوں نے ہی خاکوں کی ابتداءکی۔ خدا کی شان کبریائی دیکھئے وہ کس قدر وضاحت سے حضورکی شان بیان کرتا ہے۔

سردار کاہن نے پوچھا، وہ مسیح کس نام سے پکارا جائے گا، اور کون سی نشانیاں اس کی آمد کو ظاہر کریں گی، یسوع نے جواب دیا، اس مسیح کا نام ”قابل تعریف“ ہے، کیونکہ خدا نے جب اس کی روح پیدا کی تھی، اس کا یہ نام خود رکھا تھا، اور وہاں اسے ایک ملکوتی نشان میں رکھا گیا تھا۔ خدا نے کہا اے محمد، انتظار کر کیونکہ تیری خاطر میں جنت، دنیا اور بہت سی مخلوق پیدا کروں گا، اور اس کو تجھے تحفے میں دوں گا، اور یہاں تک کہ جو تیری تبریک کرے گا، اسے برکت دی جائے گی، اور جو تجھ پر لعنت کرے گا، اس پر لعنت کی جائے گی، جب میں تجھے دنیا میں بھیجوں گا تو میں تجھے پیغام برنجات کی حیثیت سے بھیجوں گا۔ تیری بات سچی ہوگی یہاں تک کہ زمین وآسمان ٹل جائیں گے، مگر تیرا دین نہیں ٹلے گا، سواس کا مبارک نام محمدہے ۔ (79)

اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے اپنی مخلوق کی جانب نازل کی گئی ہر کتاب حتیٰ کہ ہندوﺅں کی کتابوں میں آمد حبیب کبریا محمدکا ذکر موجود ہے اور ان کا نام نامی اسم گرامی جس طرح عزت، توقیر ، وقار اور مکمل ادب احترام کے ساتھ لیا گیا ہے کیا اس کے بعد کسی قسم کی وضاحت کے لیے مزید ضرورت باقی ہے؟ سوائے اس کے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ جس کے دل پہ مہرلگا دے، تو پھر وہ محمدعربی کے بجائے جعلی نبیوں کو اپنا راہ نما مان کر اپنی دنیا تو سنوار ونکھارلیتے ہیں مگر اپنی عاقبت خراب کرلیتے ہیں، اگر معاذاللہ انہیں قرآن پہ یقین نہیں، تو کیا ساری نازل ہونے والی آسمانی کتب جن میں حضورکا تذکرہ موجود ہے، قابل اعتبار نہیں ؟ کسی بھی حوالے سے ناموس رسالتکے مرتکب ہونے والے، اور خاکوں کی پشت پناہی کرنے والے یہ نہیں جانتے، کہ ان کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، تو حضور کے نعلین مبارک کے تسمے باندھنے کو باعث عزت وفخرو سعادت سمجھتے تھے، مسلمانوں کو حضرت علامہ اقبالؒکے اس مشورے پر نظر کرنی چاہیے کہ

مشرق سے ہو بیزار ،نہ مغرت سے حذرکر

فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر !


ای پیپر