عمران فاروق قتل کیس،پس پردہ کہانی
24 اگست 2020 (23:25) 2020-08-24

عرفان احمد

’الطاف حسین کا اس قتل میں براہ راست تعلق نہیں بلکہ وہ سازش میں ملوث ہیں، میں اْن کا نام براہ راست قتل میں ملوث ملزم کے طور پر نہیں ڈال سکتا۔‘

ایف آئی اے میں تعینات پولیس افسر نے وزیراعظم ہاؤس میں اْس وقت کے وزیر اعظم کے خصوصی معاون بیرسٹر ظفراللہ، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد چوہدری عبدالرؤف اور آئی ایس آئی کے اسلام آباد میں تعینات سیکٹر کمانڈر کے سامنے جب یہ بات کی تو دسمبر کے سرد موسم میں کمرے میں ہیٹر لگا کر کی گئی مصنوعی حدت اور بھی شد ت اختیار کر گئی۔ اْس وقت کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان آئی ایس آئی کے افسران سے ملاقاتوں کے بعد اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ عمران فاروق قتل کیس میں متحدہ کے بانی سربراہ الطاف حسین کا ہاتھ ہے۔ سارے متفقہ طورپر چاہتے تھے کہ عمران فاروق قتل کیس کی ایف آئی آر میں الطاف حسین کو براہ راست نامزد کیا جائے تاکہ وہ ایسی گرفت میں آئیں کہ نکل نہ سکیں۔ اسی مقصد کے لیے قانونی حوالوں سے مشاورتوں کا سلسلہ جاری تھا۔ وزیر اعظم ہاؤس میں اس حوالے سے ایک حتمی مشاورتی اجلاس ہوا جس میں اِس پولیس افسر نے الطاف حسین کا نام ایف آئی آر میں براہ راست لکھنے کی بجائے بالواسطہ لکھنے کا کہہ کر نیا مسئلہ کھڑا کر دیا تھا۔ یہ پولیس افسر کوئی اور نہیں بلکہ اس وقت ایف آئی اے میں تعینات ڈائریکٹر مظہرالحق کاکا خیل تھے۔ اس اجلاس میں موجود ایک سینئر سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اْس اہم اجلاس کی تفصیلات بتائی ہیں۔ اس بارے میں جب مظہر الحق کاکا خیل سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس واقعے کی تفصیل میں جائے بغیر کہا کہ ’آپ اس معاملے پر بہت گہرائی میں چلے گئے ہیں۔ سرکاری طور پر ایسے اجلاس ہوتے رہتے ہیں لیکن سرکاری افسر کے طور پر ان پر تبصرہ کرنا میرے قانونی دائرہ کار میں شامل نہیں۔‘

عمران فاروق قتل کیس کی گتھی آخر کیسے سلجھی اور ملزمان کیسے گرفتار ہوئے اس کی تفصیلات ہم آگے چل کر بیان کریں گے، مگر یہاں بتانا ضروری ہے کہ اس کیس کو کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچانے پر حکومت پاکستان آج (یعنی 14 اگست کو) مظہر الحق کاکا خیل کو تمغہ شجاعت دے گی۔ کاکا خیل ماضی میں شدت پسندوں کے حملوں کا سب سے زیادہ شکار ہونے والے صوبہ خیبر پختونخوا میں سوات جیسے مشکل علاقے میں پولیس فورس کی کمانڈ کرتے رہے ہیں اور خود بھی ایک بم حملے میں زخمی ہوئے تھے۔ وہ فیلڈ میں پولیس کو درپیش قانونی پیچیدگیوں اور مشکلات سے آگہی کے ساتھ ساتھ سابق وزیراعلی حیدر خان ہوتی کے سٹاف افسر کی حیثیت سے سرکاری نزاکتوں کا تجربہ بھی رکھتا تھے۔ کاکا خیل کو ایف آئی اے کے شعبہ انسداد دہشتگردی کے نئے سربراہ کے طور پر تعینات کیے جانے کا امکان تھا۔ اس وقت ایک اور سینئر پولیس افسر انعام غنی اس شعبے کے سربراہ تعینات تھے، جو اب معمول کی ٹرانسفر پر جا رہے تھے۔

وزیرِ داخلہ چوہدری نثارعلی خان کی طرف سے اس اہم عہدے پر کاکا خیل کی تعیناتی کے لیے حتمی فیصلہ کرنا ابھی باقی تھا، مگر کاکا خیل کی طرف سے ایف آئی آر میں براہ راست الطاف حسین کی نامزدگی سے انکار نے ان کی ایف آئی اے میں اس اہم پوسٹ پر تعیناتی کو بھی مشکوک بنا دیا تھا۔ کاکا خیل کا خیال تھا کہ اس کیس میں جان ہے وہ اس کیس کو اِسی حالت میں منطقی انجام تک پہنچا دیں گے اور یہ کہ کیس میں کسی طرح کی غلط بیانی کیس خراب کرے گی۔ مندرجہ بالا واقعے کے دوسرے روز کاکا خیل کی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار سے ملاقات ہوئی۔ چوہدری نثار علی خان کے سامنے افسران کی پیشی اس لیے بھی مشکل ہوتی تھی کہ وہ (چوہدری نثار) اپنی ناک پر مکھی تک نہ بیٹھنے دیتے تھے، بال کی کھال اتارتے اور اگر کوئی افسر لکیر سے ہٹے تو اسے سختی سے ڈانٹ دیتے۔

وزیر داخلہ کے سٹاف افسر وقار چوہان نے چوہدری نثار کے سامنے کاکا خیل سے پوچھا کہ آپ الطاف حسین کا نام براہ راست ایف آئی آر میں درج کیوں نہیں کر رہے؟ اس پر کاکا خیل بولے ’جناب ایسا کرنا جھوٹ ہو گا۔ آج میں جھوٹ پر مبنی ایف آئی آر کاٹوں گا تو کل اسے عدالت میں ثابت نہیں کر سکوں گا، کیس خارج ہو جائے گا اور میں اگلی حکومت میں آپ کو بْرا بھلا کہنے پر مجبور ہو جاؤں گا، اس لیے جو سچ ہے وہی لکھا جائے تاکہ ہر دور میں اس پر قائم بھی رہا جا سکے۔‘ کمرے میں موجود چوہدری نثار نے پولیس افسر کی بات سنی اور فوری اتفاق کیا اور ساتھ ہی وقار چوہان کو حکم دیا کہ مجھے یہ افسر پسند ہے اور میں انعام غنی کے بعد اسی کو انسداد دہشتگردی ونگ کا سربراہ تعینات کر رہا ہوں، کیونکہ اس میں اتنی جرأت ہے کہ وہ چوہدری نثار سے بھی اختلاف کر سکے۔ اس بات کے بعد یہ ملاقات ختم ہو گئی۔ اگلے روز پانچ دسمبر کو پنجاب میں لوکل گورنمنٹ انتخابات کی کوریج کے سلسلے میں میں ٹیکسلا میں تھا کہ مجھے ایف آئی اے انسداد دہشتگردی ونگ کے نمبر سے موبائل فون پر بتایا گیا کہ عمران فاروق قتل کیس میں الطاف حسین، محمد انور، افتخار احمد، خالد شمیم، معظم علی، محسن سید اور کاشف کامران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ اگلے چند لمحوں میں یہ خبر پاکستان اور برطانیہ کی شہ سرخیوں کا حصہ بن چکی تھی۔

یوں تو متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما عمران فاروق کا قتل ستمبر 2010 میں لندن میں ہوا تھا مگر اس کیس پر پاکستان میں سنجیدگی سے کارروائی کا آغاز 2015ء کے آغاز میں اْس وقت شروع ہوا تھا کہ جب اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو برطانوی حکومت کی طرف سے اس قتل کیس میں معاونت کی درخواست کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ اس سے قبل پیپلز پارٹی کی حکومت کے دورمیں اس کیس پر کوئی پیشرفت نہ ہو سکی تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان ایک سیاسی اتحاد تھا جو یوں تو پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم کے بانی سربراہ الطاف حسین کے درمیان تھا، لیکن عملی طور پر اس اتحاد کی نگرانی اس وقت کے وزیر داخلہ سینیٹر رحمان ملک کر رہے تھے۔

سینئرتجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ’وزارت داخلہ اور گورنر سندھ کی سطح پر ایک اتفاق تھا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان اتحاد قائم رہے کیونکہ اس وقت تک گورنرسندھ ڈاکٹر عشرت العباد لندن اور رحمان ملک کے درمیان ایک اہم رابطہ تھے۔ میرے خیال میں اس وقت پاکستان میں کیس نہ چل پانے کی دو بڑی وجوہات تھیں ایک رحمان ملک اور دوسری ہماری اسٹیبلیشمنٹ جسے برطانوی پولیس پر اعتماد نہیں تھا کہ وہ سنجیدگی سے یہ کیس برطانوی عدالتوں میں چلائے گی۔‘

مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ابتدا میں تو وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کی اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام سے اچھی شناسائی تھی مگر دھرنوں کے باعث حکومت اور آئی ایس آئی چیف میں دوریاں ظہیر الاسلام کی آئی ایس آئی سے فراغت کا باعث بنی اور رضوان اختر آئی ایس آئی کے نئے سربراہ بن گئے۔ چوہدری نثار علی خان کی رضوان اختر سے ڈی جی رینجرز کراچی کے دنوں سے اچھی شناسائی تھی۔ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر پنجاب ہاؤس میں اکثر گھنٹوں بیٹھتے اور ملکی سیاسی و داخلی امور سمیت اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے۔ برطانوی حکومت کی طرف سے اس قتل کیس کی بازگشت اور دو مبینہ قاتلوں محسن علی سید اور کاشف کامران کی پاکستان موجودگی کے بارے میں وزیرداخلہ کو سن گن پہلے ہی تھی۔ ایک روز چوہدری نثار اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے درمیان یہ معاملہ بھی زیر بحث آ گیا۔ اس وقت وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے سٹاف کے طور پر خدمات سرانجام دینے والے ایک سینئر سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ ’چوہدری نثار اور جنرل رضوان کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں عام طور پر ون آن ون ہی ہوتی تھیں تاہم یہ بات درست ہے کہ پنجاب ہاؤس میں اس کیس پر وزیر داخلہ کو آئی ایس آئی کی طرف سے بریفنگز دی جاتی رہی ہیں۔‘ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر اس کیس کے بارے میں دو حوالوں سے خوب آشنائی رکھتے تھے۔ اول یہ کہ وہ خود مارچ 2012 سے ستمبر 2014 تک کراچی میں ڈی جی رینجرز سندھ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے چکے تھے اور اسی دورانیے میں انھوں نے ایم کیو ایم پر بڑا کام بھی کیا تھا اور وہ عمران فاروق قتل کیس کے کچھ بنیادی امور سے واقف تھے۔ دوئم یہ کہ عمران فاروق کو جن دو افراد یعنی محسن علی سید اور کاشف خان کامران نے مبینہ طور پر قتل کیا تھا وہ پاکستان آمد کے بعد سے آئی ایس آئی کی حراست میں تھے اور رضوان اختر کو اس بات کا علم تھا۔

وزیرداخلہ چوہدری نثار معاملے کو قانون کے مطابق آگے لے جانا چاہتے تھے۔ اول تو وہ ملزمان کو برطانیہ کے حوالے کرنا چاہتے تھے دوسرا یہ کہ اگر برطانیہ ان ملزمان کی حراست نہ لے تو وہ ازخود پاکستان میں ان کے خلاف کیس کرنے پر بھی آمادہ تھے۔ ظاہر ہے اس سارے معاملے میں بھی انھیں آئی ایس آئی کی معاونت درکار تھی۔ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر وزیر داخلہ سے متفق تھے مگر اس سارے معاملے میں دو چیلنجز بڑے اہم تھے اول یہ کہ اب تک عمران فاروق کے مبینہ قاتلوں محسن علی سید اورکاشف کامران جبکہ کراچی میں ان کی معاونت کرنے والے ساتھی خالد شمیم کی آئی ایس آئی کے پاس موجودگی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی۔ دوسرا یہ کہ دو ملزمان میں سے ایک یعنی کاشف کامران حراست کے دوران مبینہ طور پر مارا گیا تھا۔ اس حوالے سے متضاد اطلاعات ہیں تاہم آج تک کاشف کامران کی ہلاکت کی باضابطہ سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی ہے اور اسی لیے کاشف کا نام عمران فاروق قتل کیس کے سزا پانے والے مجرموں کی فہرست میں شامل ہے، تاہم سزا پانے والے دیگر مجرم اپنے خاندان کے افراد کو کاشف کامران کی دوران حراست مبینہ ہلاکت کی خبر ضرور دیتے ہیں۔ یہ ملزم جس سول افسر کی نگرانی میں تھے ان کے بارے میں اطلاع ہے کہ مبینہ طور پر وہ بھی آج کل برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کر کے خاموشی کی زندگی گذار رہے ہیں، تاہم حکام نے اس کی بھی باقاعدہ تردید یا تصدیق نہیں کی ہے۔ دراصل دس ستمبر 2010ء کو جب دونوں ملزمان محسن علی سید اور کاشف کامران نے عمران فاروق کا لندن میں مبینہ طور پر قتل کیا تو اگلے چھ گھنٹوں کے دوران دونوں برطانیہ سے سیدھے پاکستان آنے کی بجائے سری لنکا جانے کے لیے کولمبو جانے والی پرواز پر محوِ سفر تھے۔

کولمبو میں دونوں لڑکوں نے ایک ہفتہ گزارا۔ اس دوران برطانوی پولیس نے موقع پر ملنے والی چھری سے ان کے فنگر پرنٹس لے کر محسن علی کی شناخت کر لی گئی۔ موقع پر چونکہ دو قاتل دیکھے گئے تھے اور یہی دو افراد اکٹھے پاکستان آئے اور اکٹھے واپس جا رہے تھے لہذا پتا چل گیا کہ دوسرا شخص کاشف کامران ہے۔ سارے معاملے کی اطلاع پاکستان کو بھی کر دی گئی تھی۔ ایک ہفتہ بعد جونہی آئی ایس آئی کو ملزمان کے کولمبو سے کراچی آنے کا پتہ چلا تو 18 ستمبر 2010 کو کراچی ایئر پورٹ پر ملزمان کا مسافر طیارہ لینڈ ہونے کے بعد ایک ٹیم طیارے کے اندر گئی اور دونوں کو گرفتار کر کے ایئرپورٹ سے ہی نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ 

٭٭٭


ای پیپر