’’اسیری سے امیری تک‘‘… ایک داستان
24 اگست 2020 (23:18) 2020-08-24

اپنی عمر کا بہترین حصہ بحرین پولیس کی نوکری میں بسر کرنے کے بعد جب واپس فیصل آباد آیا تو گیٹاں والا چوک سے گزرتے ہوئے اس کے مغربی کونے پر ہم نے ایک Ferrari کار کو پارک کیے ہوئے دیکھا۔ فیراری دنیا کی مہنگی ترین گاڑیوں میں شمار ہوتی ہے اور یہ ریسنگ کار ہے۔ یہ گاڑی اپنی سپیڈ کی وجہ سے پاکستان کی سڑکوں کے لیے موضوع نہیں ہے۔ جب میں اکثر اس کو وہاں پارک ہوئے دیکھتا تو تجسس پیدا ہوا کہ یہ گاڑی کس کی ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ فیصل آباد کے معروف کمپیوٹر ایجوکیشن کے ادارے پاسبان کمپیوٹر کے بانی میجر (ر) شاہ نواز الحسن کے شوق کی تعبیر ہے۔ یہ ان کے ساتھ میرا پہلا بالواسطہ تعارف تھا۔ فیصل آباد میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں کیونکہ بعد میں وہ کمیونٹی سروس کی طرف آ گئے اور پاسبان ویلفیئر سنٹر کے نام سے نوجوانوں میں روزگار کے مواقع کے لیے ان کی Skill Development پروگرام شروع کیا جو بالکل مفت تھا اور اب تک ہزاروں نوجوان اس سے مستفید ہو چکے ہیں۔ 

آج سے کوئی تین سال پہلے میجر شاہ نواز کے ساتھ میری ملاقات ہوئی جس میں پاسبان ویلفیئر سنٹر کے بارے میں ان کی خدمات پر بات ہوئی۔ نئی بات کے انہی صفحات پر اس ملاقات کا احوال شائع ہوا جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی زندگی پر کتاب لکھ رہے ہیں۔ ان کی کتاب ’’ اسیری سے امیری تک‘‘ اس وقت میرے زیر مطالعہ ہے۔ میجر شاہ نواز 1971ء میں مشرق پاکستان میں تعینات تھے اور سقوط ڈھاکہ کے بعد انہیں جنگی قیدی کے طور پر انڈیا کی جبل پور جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ وہ سقوط ڈھاکہ کے تاریخی موڑ کے عینی شاہدوں میں ہیں۔ ان کی اس خود ساختہ بائیو گرافی میں اس دور کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے قابل قدر مواد موجود ہے۔ 

ان کی اس کتاب میں سانحہ مشرق پاکستان کے پس منظر کا ذکر موجود ہے جو بالآخر علیحدگی پر منتج ہوا۔ 1948ء میں جب قائداعظم نے رہنا پارک ڈھاکہ میں لاکھوں افراد کے مجمع سے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی زبان اردو ہو گی تو یہ سن کر جلسہ گاہ میں سناٹا چھا گیا تھا۔ اس وقت کے سٹوڈنٹ لیڈر شیخ مجیب الرحمن نے قائداعظم سے ملاقات کی مگر اس میں برف پگھلنے کا کوئی اشارہ سامنے نہ آ سکا۔ میجر شاہ نواز الحسن علیحدگی کی وجوہ میں جغرافیائی فاصلے کو کلیدی وجہ سمجھتے ہیں۔ ایک ہزار میل کے فاصلے کے علاوہ ثقافت رہن سہن اور رسم و رواج میں بھی بہت تفاوت تھی۔ البتہ زبان کا مسئلہ سب سے زیادہ شدت سے سامنے آیا ۔ بنگالیوں کا مؤقف یہ تھا کہ ہم پاکستان کی آبادی کا 54 فیصد ہیں۔ جنرل راؤ فرمان علی کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے میجر شاہ نواز کہتے ہیں کہ 1971ء میں سب دکانوں کے سائن بورڈ بنگالی زبان میں تھے پورے مشرقی پاکستان میں کوئی ایک سائن بورڈ بھی اردو میں نہ تھا۔ 1952ء میں خواجہ ناظم الدین نے ڈھاکہ 

یونیورسٹی میں اردو کے حق میں بیان دیا جس پر ہنگاموں میں چند طلباء جاں بحق ہوئے جن کی یاد میں شہید مینار تعمیر کیا گیا جو آگے چل کر بغاوت اور مزاحمت کی علامت بن گیا۔ میجر شاہ نواز کہتے ہیں کہ 54 فیصد بنگالی تھے مگر فوج میں ان کا حصہ 1969ء تک 8 فیصد تھا۔ انگریز چونکہ بنگالیوں کو مارشل ریس نہیں سمجھتے تھے اس لیے انہیں فوج میں بھرتی نہیں کیا جاتا تھا۔ یہ  نا انصافی پاکستان بننے کے بعد بھی جاری رہی۔ 1970ء تک پاکستان آرمی میں صرف ایک بنگالی میجر جنرل کے عہدے تک پہنچ سکا۔ بنگالی بنیادی سہولتوں سے محروم تھے مگر اس دوران مغربی پاکستان میں ایوب خان کے دور میں اسلام آباد جیسا نیا شہر آباد ہو رہا تھا۔ بنگالی ممبران پارلیمنٹ اسلام آباد اجلاس کے لیے آتے تو کہتے کہ ہمیں اسلام آباد کی نو تعمیر شدہ سڑکوں میں سے پٹ سن کی  بو آتی ہے یعنی یہ ساری ترقی مشرقی پاکستان کی آمدن سے ہو رہی ہے۔ میجر شاہ نواز کی آپ بیتی ’’ اسیری سے امیری تک‘‘ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ان کی ذاتی زندگی کا احاطہ کرتی ہے کہ زندگی میں انہیں کس کس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ دشمن کی قید سے ہوتے ہوئے انہوں نے رہائی کے بعد دوبارہ فوج میں نوکری کی اور ریٹائرمنٹ کے بعد کاروبار سے وابستہ ہو گئے اور پاسبان کمپیوٹر کالج کی بناد رکھی۔ ہر شخص کی زندگی میں ایک بریک تھرو آتا ہے جو اس کے لیے کامیابی کا راستہ کھول دیتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو میجر شاہ نواز کی مائیکرو سوفٹ کمپنی کے آسٹریلیا چیپٹر کے سربراہ ٹونی ہیری سن سے ملاقات ایک ایسا بریک تھرو ثابت ہوئی جس نے ان پر خوشحالی اور فراوانی کے دروازے کھول دیئے۔ ٹونی ہیری سن نے فیصل آباد میں ان کا سیٹ اپ خود آ کر دیکھا اور انہیں لائسنس جاری کر دیا اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ 

’’گاؤں میں گرمیوں کے موسم میں شام ہونے سے پہلے ہمارے گھر کے باہر مٹی کے چبوترے پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا تھا۔ اس مٹی کی مہک سے آج بھی میرا احساس مہک رہا ہے‘‘ یہ جملہ ان کی یادداشتوں کے ابتدائی دور کا ہے۔ کتاب کی ادبی قدرو قیمت کا اندازہ کرنا ہو تو کتاب کے ابتدائی حصے کا مطالعہ زیادہ موضوع ہے کیونکہ یہ دور معصومیت ، سادگی اور پسماندگی کا دور تھا۔ فوج میں شمولیت کے بعد کا حصہ زیادہ تر حقائق کی دستاویزی شکل ہے۔  میجر شاہ نواز کی کتاب میں لیفٹیننٹ فاروق احمد شہید کا بطور ذکر ہے جو مشرق پاکستان میں جیسور کے محاذ پر داد شجاعت دیتے ہوئے شہید ہوئے یہ شاہ نواز کے پھوپھی زاد تھے ان کو وہاں ہی دفن کر دیا گیا۔ یہ واقعہ فوج کی وطن عزیز کے لیے قربانیوں کی ایک جھلک ہے۔ یہ کتاب کا بڑا جذباتی حصہ ہے۔ اس کتاب کے مصنف نے اپنی زندگی میں ہر اس شخص کا ذکر کیا ہے جو کسی سٹیج پر ان سے منسلک تھا۔ ان سارے کیریکٹرز کی تصویریں بھی کتاب میں موجود ہیں۔ البتہ اپنے پہلے پہل کے عشق کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے فراخدلی سے کام نہیں لیا۔ ان کی love at first sightکی کہانی پڑھ کر تشنگی کا احساس باقی رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے محبوب کو انہوں نے انہوں نے فرضی نام نازو کہنے پر اکتفا کیا۔ نام کا یہ انتخاب ہی بتا رہا ہے کہ عہد شباب کا سمندر اترنے کے بعد بھی جذبے زندہ رہتے ہیں۔ یہ ایک ادھوارا عشق تھا۔ نازو کی شادی کہیں اور ہو گئی اور میجر شاہ نواز نے پیچھے مر کر اس وقت دیکھا جب وہ خود بھی شادی کر چکے تھے۔ اس ملاقات کا تذکرہ بھی موجود ہے جو میجر صاحب کی شریک حیات کی موجودگی میں ہوئی۔ یہ love story ان کے دل کے تار تو ہلاتی ہے مگر انہیں تہ و بالا نہیں کرتی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اتفاقاً ان کی ملاقات سقوط ڈھاکہ کے مرکزی کردار جنرل امیر عبداللہ نیازی سے ہو جاتی ہے۔ جن کو بڑھاپے کی وجہ سے یہ پہچان نہ سکے مگر اس موقع پر ماضی کے بارے میں گفتگو کی تفصیلات بڑی اہم ہو سکتی تھیں۔ شاید  میجر صاحب نے دانستہ اس کی تفصیل میں جانے سے اجتناب کیا۔ 

میں ذاتی طور پر کسی کے مال و دولت یا اختیار اور طاقت سے متاثر نہیں ہوتا البتہ کمیونٹی سروس اور سماجی ویلفیئر مجھے بہت متاثر کرتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں میجر شاہ نواز کو idealise کرتا ہوں البتہ اس کتاب میں انہوں نے پاسبان ویلفیئر سنٹر کی خدمات کو اجاگر نہیں کیا شاید وہ کسر نفسی سے کام لیتے ہیں۔


ای پیپر