دنیا ڈھونڈنے اور تسخیر کرنے والے
24 اگست 2020 (23:18) 2020-08-24

وطن عزیز کی سیاست ،تمدن اور معاشرت کو نہ جانے کونسی وباء نے آن لیا ہے کہ ہر سو تعفن، کذب و الزام کا دور دوراں ہے۔ کبھی تو میں بھی سوچتا ہوں کہ تحریک جمہوری جدوجہد پھانسی، گرفتاریاں ، قلعہ بندیاں، کوڑے، قیدیں، جلا وطنیاں، چوکوں میں گولیاں اورنتیجہ کیا نکلا۔ بھٹو صاحب کی اقتدار کے بعد ضیاء الحق کے دور میں ہزاروں لاکھوں لوگ جیل گئے۔ ایک بھی بدعنوانی کے الزام پر نہیں سب سیاسی آزادی کے مطالبے کے قیدی تھے۔ جمہوریت بحال ہوئی تو اس کے بعد سب پر بدعنوانی کے الزام اور اگر ڈکٹیٹر شپ آئی تو تب بھی بدعنوانی، اختیارات کا ناجائز استعمال جناب بھٹو کی پھانسی ، محترمہ کے فقید المثال استقبال جلوس جلسے جدوجہد اور ناگہانی قتل، نواز شریف کی دو آتشہ جدوجہد، عمران خان کا 23 سالہ بندوبست اور قوم کو تحفے کیا ملے شیخ رشید، بزدار، بابر اعوان، رحمن ملک ، حفیظ شیخ، زلفی بخاری واوڈا، فروغ نسیم، شوکت عزیز اور اگر ڈکٹیٹر شپ ہے تو اللہ پناہ نتیجہ وہی کہ جو کارواں میں شریک بھی نہ تھے مسلط کر دیئے گئے۔ ہر وزیر وزیر اطلاعات ہے۔ شیخ رشید کا بیان ’ہم پہلے GHQہی کے گیٹ پر ہیں‘ پڑھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ یہ عوام کے پاس کیا لینے آتے ہیں اور ایسے بیان دے کر فوج جو کہ قومی ادارہ ہے اس کے کردار کو متنازع بنانے کی ناپاک کوشش کیوں کرتے ہیں۔ جبھی تو محکمہ زراعت کا لفظ استعمال ہونے لگا، لائل پور نہ کہا فیصل آباد کہہ لیا ۔میرا ایک دوست میرے گھر آنے سے گھبراتا تھا کہ گیٹ پر وفادار پالتو جانور بیٹھا ہوتا ہے۔ شاید اپوزیشن بھی اس خوف سے نہ GHQ جانے سے گھبرائے کہ شیخ رشید گیٹ پر ہے۔  مجھے حضرت سلطان باہوؒ کی بات یاد آ گئی ۔ دنیا ڈھونڈنے والے کتنے در در پھرن حیرانی ہو… ہڈی اُتے ہوڑ تنہاں دی لڑدیاں عمر وہانی ہو … عقل دے کوتاہ سمجھ نہ جانن پیون دالوڑن پانی ہو… باجھوں ذکر ربے دے باہوؒ کوڑی رام کہانی ہو… بقول موجودہ حکمرانوں کے ملک کو سابقہ حکمران کھا گئے جبکہ یہ اتنے نہلے ہیں ان کو بیورو کریسی کھا گئی ۔ بھوک ، بیروزگاری، بیماری، بے انصافی کے خاتمے میرٹ اور قانون کی بالادستی کی بجائے عمران حکومت نواز شریف، زرداری صاحب اور مخالفین کے گرد گھومتی رہی۔ لہٰذا آج میرا دل نہیں چاہ رہا کہ میں ان لوگوں کے بارے میں لکھوں، سوچوں یا ان کو وقت دوں آج ان لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جو دنیا نہیں بلکہ جنہیں دنیا ڈھونڈتی ہے۔ مجھے حضرت باقی باللہ ؒ کا واقعہ جو درجنوں بار لکھ چکا نہیں بھولتا۔ جب بازار میں آتے سر پر رومال اس انداز سے اوڑھتے کہ آنکھیں صرف زمین دیکھ سکیں لوگوں کے چہرے نہیں ان کے ایک مرید اکثر سوال کرتے کہ حضرت آپ آنکھیں ڈھانپ کر کیوں چلتے ہیں ایک دن بازارمیں انہوں نے وہ رومال اس مرید کے سر پر رکھ دیا!وہ چلا اٹھایا حضرت وہ سانپ، وہ بھیڑیا،وہ نیولا، وہ لومڑی، وہ سور، وہ شیر وہ فلاں وہ 

فلاں وہ چلا رہا تھا کہ حضرت صاحب نے سر سے رومال اٹھا لیا اور فرمایا مجھے لوگ اپنی خصلتوں، اصلیتوں اور فطرتوں میں نظر آتے ہیں کبھی آپ بیوروکریسی، حکمران طبقوں اور اشرافیہ کو اسی بصیرت و بصارت سے دیکھیں زیادہ نہیں تھوڑا سا غور کریں، ان کے چہروں پر آپ کی نظر نہ ٹک پائے گی۔ جن کی زیادہ تعداد خباثت و غلاظت، ٹائیوں، شیروانیوں، عماموں اور جبوں میں چھپائے نہیں چھپتی۔ دراصل ہدایت عشق ہے۔ مولانا رومی لکھتے ہیں عشق آ گیا تو عقل بے چاری بے کار ہو گئی جیسے سورج نکلا تو شمع کی کوئی حیثیت نہ رہی گویا یہی حالت اس دنیا کی حقیقی اور دائمی آخرت کے سامنے ہے۔ اگر دل کی آنکھ سے دیکھیں تو حضرت مولانا رومی ہی کے بقول اصحاب کہف کے کتے نے چند روز نیکوں کی پیروی کی اور آدمی ہو گیا۔ آج کے اس الزام دشنام کے دور کے لیے فرماتے ہیں 

٭ہر شخص اگر پہلے ہی اپنا عیب دیکھ لیتا تو اپنی اصلاح سے کب فارغ ہوتا؟ روح کا سفر اور راز بھی عجیب ہے۔ فرماتے ہیں 

٭ روح کی تاثیر باخبری ہوتی ہے جس کو یہ زیادہ حاصل ہے وہ اللہ والا ہے اور قرآن عظیم میں ارشاد خداوندی ہے کہ روح امر اللہ جس کی تشریح کے عقدے روز آخر اور قیامت تک کھلتے ہی چلے جائیں گے۔ انسانی عقل اس کا احاطہ نہ کر پائے گی البتہ جوں جوں پاکیزگی ہو گی اس کی اصلیت اور علمیت وجود میں اترتی چلی جائے گی۔ 

حضرت رومی فرماتے ہیں :

٭ حضرت محمد مصطفی اللہ کے چہرے کا آئینہ ہیں ان میں ان کی ہر صفت منعکس ہے گویا عشق رسول دراصل اللہ کی محفل کا دستور ہے اور اللہ کی رضا ہے۔ 

فرماتے ہیں مصیبت کے وقت تو اللہ کا پتہ لگا لیتا ہے جب وہ ختم ہوتی ہے تو کہتا ہے راستہ کدھر گیا۔ 

یہ دل کی آنکھ ہی ہے کہ حضرت بلالؒ کی دعا تھی یا اللہ ظالم اپنے آپ کو کبھی مظلوم کے وجود میں محسوس کرے۔ 

دراصل انسانی ارتکاء دل کی آنکھ سے دیکھنے کا نتیجہ ہے جب تک ہم انسانوں کے دکھ درد ضروریات کو دل کی آنکھ سے نہیں دیکھتے ہمیں اس کا اندازہ نہیں ہو سکتا اور آج یہ ذمہ داری اشرافیہ پر سب سے زیادہ ہے۔ 

ہمارے ہاں اشرافیہ حکمران طبقے میں بدل گیا اور بے حسی ان کی فطرت بن گئی ، بے حسی وطن عزیز میں ایک نعمت بن گئی اور حساسیت اذیت بن گئی۔ یہی ہمارا روگ ہے۔ اگر حکمران ہیں تو ہم اپنی ذمہ داری کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ میں نے بڑے بڑے کامیاب دیکھے جو اپنی زندگی کی تمام جنگیں ہار چکے ہیں اور بظاہر ناکام دیکھے مگر وہ زندگی کی ہر جنگ جیت گئے ہر رشتہ پال گئے ہر میدان میں سرخرو ہوئے گویا کامیابی مال متاع ، اقتدار، عہدہ پانا نہیں ، رشتوں اور دلوں کو پا لینا اورمعاشرت میں مثبت کردار ادا کرنا ہے جو کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے مگر یہ اللہ کی مخلوق اور اس کے معاملات کو دل کی آنکھ سے دیکھے بغیر حاصل نہ ہو سکے گا۔  

دنیا ڈھونڈنے والوں کی تلاش اور تقلید کی بجائے ان صاحب نظر و کردار لوگوں کو پانے کی جستجو کرنی چاہیے جن کو دنیا ڈھونڈتی ہے جو نایاب ہیں۔ جو دنیا کی حقیقت انسان کی اصلیت سے واقف ہیں۔ انسانوں کے دکھوں سے واقف ہیں اور روح تک کی خبر رکھتے ہیں۔ روح ہی اصل چیز ہے۔ باطن اور حقیقت سے شناسائی صرف پاک دل والے کا مقدر ہے جس کا دل اور سوچ غلاظت سے پاک اور دنیا کے لالچ سے بے نیاز ہو اور دل و دماغ میں انسانیت سے اور انسانوں سے محبت ہو۔ ایسا بھی نہیں کہ تارک دنیا ہو جائیں جن لوگوں نے اللہ کی کائنات میں سعی کی۔ تسخیر کیا اور اس کی مخلوقات کے خدمات انجام دیں سائنس، ٹیکنالوجی،طبی ،انفارمیشن ٹیکنالوجی، عمرانی علوم میں رہنمائی کی حقیقی معنوں میں اللہ کا نائب کہلانے کے مستحق ٹھہرے دنیا ان کو ڈھونڈتی ہے۔ آپ دنیا ڈھونڈنے والے در در پھرنے والوں کو خیر باد کہیں اللہ گواہ یہ غلاظت کے ڈھیر عوام کے کچھ کام نہ آئیں گے۔ عہدہ اور پیسہ ان سے الگ کر لیں تو کوئی انسانی صفت باقی نہیں بچتی لہٰذا ان سے دامن چھیڑائیں اور اللہ کے نائب کو تلاش کریں اور ان کی پیروی کریں تو خود اللہ کے حقیقی نائب بن جائیں گے۔


ای پیپر