مسلم اُمہ ۔۔۔اجتماعیت کا بھرم ٹوٹنے والا ہے ؟
24 اگست 2020 (23:17) 2020-08-24

سردار شیراز خان 

اسرائیل کے مرکز ی وزیرایلی کوہن  نے اسرائیلی ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی طرح دو خلیجی ممالک میں  بحرین اور عمان سے تعلقات کی بحالی کا معاہدہ جلد ہو جائے گا جبکہ دوسرے اسلامی ممالک سے آئندہ برس تک معاہدوں کا امکان ہے۔ایک عالمی نشریاتی ادارے کے مطابق وائٹ ہاوس کے حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات کے قیام کے لیے امریکہ ’’متعدد‘‘ اسلامی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔ تاہم امریکی ذرائع نے ممالک کے نام بتانے سے گریز کیا ہے۔خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ’’اسرائیل اور اس کے مسلمان پڑوسیوں کے مابین مزید سفارتی کامیابیاں متوقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ایسی پیش رفت بھی متوقع ہے جس  کے بارے میں ابھی بات نہیں کرنا چاہتا ہوں ‘‘۔ امریکہ اور اسرائیل کے اعلیٰ حکام کی جانب سے مشرق وسطی میں جن تبدیلیوں کی جانب اشارہ کیا جا رہا ہے  ،اُن سے ایک بات واضح  ہو جاتی ہے کہ دینا بھر میں بالخصوص ایشیائی خطہ میں نئی صف بندیوں کا عمل بہت تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے جس نے مسلم ممالک کے ظاہری  اتحاد میں موجود تضادات کو اور زیادہ گہرا کر دیا ہے ۔گو کہ ان مسلمان ممالک کا عالمی سیاست میں کبھی بھی  کوئی عملی کردار نہیں رہا ہے ،تاہم انھوں نے ’’ مسلم اُمہ‘‘ کے نام پر اپنے اتحاد کو قائم رکھا تھا جس سے ان کی اجتماعیت کا بھرم قائم تھا ، اب وہ بھی ٹوٹ چکا ہے ، اب سوال یہ ہے کہ مسلم ممالک میں جاری اس ٹوٹ پھوٹ کا خطہ کے ممالک بالخصوص پاکستان پر  کیا اثرات مرتب ہوں گے  اور مستقبل کا نقشہ کیسا ہو گا۔

ایک بات تو طے ہے کہ نام نہاد مسلم اُمّہ کی قیادت کا دعویدار سعودی عرب اپنے روایتی حلیف امریکہ کے دوستوں(بھارت اور اسرائیل) کے ساتھ کھڑا ہے۔سعودی عرب نے اپنی اس وابستگی کا اظہار کئی مرتبہ کیا ہے مگر کچھ لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی یا پھر وہ یہ بات سمجھنا نہیں چاہتے تھے،ان کا موقف تھا کہ سعودی عرب مسلم اُمّہ کا بلا شرکت غیرے لیڈر ہے اور وہ مسلمان ممالک کے ساتھ دمے درمے سُخنے کھڑا ہے مگر جیسے ہی امریکہ اور چین کے مابین سرد جنگ ایک نئے مرحلے  میں داخل ہوئی تواس نے ان تمام ممالک کو جو ’’صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں‘‘ کی پالیسی پر گامزن تھے انھیں مجبور کر دیا  کہ وہ اپنے اپنے کیمپوں کے اندر آ جائیں جس پر سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات قطر اور بحرین  سیمت کئی ایک مسلمان ممالک نے اسرائیل اور بھارت کے ساتھ اپنے قریبی روابط کا کھل کر اظہار کرنا شروع کر دیا ۔سعودی عرب بھارت میں تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کرنے جا  رہا ہے جب کہ اسرائیلی شہریوں کو پہلی دفعہ براہ راست سعودی عرب آنے کی اجازت دی گئی ہے ۔سفارتی حلقوں کے مطابق اس سارے کھیل میں چین ایک اہم کھلاڑی کے طور پر سامنے آیا ہے جو خطہ میں طاقت کا ایک نیا توازن قائم کرنا چاہتا ہے۔ایشیائی خطہ میں چین کی تزویراتی پالیسی میں پاکستان ایک اہم ملک تھا اس نے پاکستان کو خطہ کے لیے ایک بڑا تجارتی مرکز  بنانے کے لیے سی پیک جیسا منصوبہ شروع کیا مگر پاکستان میں سیاسی عدم استحکام اور پالیسیوں  میں عدم تسلسل کے باعث اس نے متبادل کی تلاش  شروع کر دی ،اب ایران اس کا نیا تزویراتی پارٹنرہے جس کے ساتھ وہ  چار سو ارب ڈالر کا ایک بڑا معاہدہ کرنے جا رہا ہے۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ اس نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک )میں سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا ہے یا پھر سرمایہ کاری میں بڑی حد تک کمی کر دی ہے ۔ایک حکومتی وزیر کا یہ کہنا ہے کہ سی پیک کو کچھ عرصے کے لیے منجمند کر دیا گیا ہے جو چین کے لیے نیایت ہی تکلیف دہ امر ہے ۔چین کو اس بات کاپہلے اندازہ تھا کہ پاکستان شاہد امریکہ کا دباو برداشت نہیں کر سکے گا اس کا اظہار چین کے صدر شی جن پینگ نے سی پیک کے افتتاح کے بعد اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  کیا تھا۔چینی صدر کا کہنا تھا کہ چین کے پاس متبادل راستے موجود ہیں ،تاہم ہماری خواہش ہے کہ پاکستان ترقی کے عمل میں آگے بڑھے ۔ سفارتی ماہرین کے مطابق اس وقت کی چینی قیادت   کے ذہن میں بھارت پاکستان کا متبادل تھا جس کے لیے وہ چین کی نئے صعنتی شہروں کو  تبت سے   بھرم پترا کے راستے بنگلہ دیش اور بھارت کے ساتھ ملانا چاہتی تھی  مگر چین کی جانب سے ایران کے انتخاب نے دنیا کو حیران کر دیا ہے یہ چین کی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے، اس نے دنیا کی نظریں بھارت پر مرکوز کر کے خطہ میں ایک نیا بلاک کھڑا کر دیا ہے ۔ایران نے جس جرات مندی کے ساتھ بھارت کو ریلوے لائن کے منصوبے اور کسی حد تک چاہ بہار بندرگاہ سے الگ کیا ہے وہ یقیناً حیرت انگیز ہے، اس سے یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ چین ایران ایک عرصہ سے اس منصوبے پر کام کر رہے تھے ۔سفارتی ماہرین کے مطابق  ایران کے انتخاب کے باوجود چین پاکستان سے مننہ نہیں موڑے گا چین کی یہ خواہش ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ  اپنی قربت کم کرے اوراپنے قومی مفاد میں اس کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم رکھے ۔

پاکستان کی بد قسمتی یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے آتے ہی بغیر کسی ہوم ورک کے  امریکہ کی ایما پر سی پیک کو رول بیک یا منجمند کرنے کے دعوی شروع کر دیے،وفاقی وزیر رزاق داود تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ سی پیک کو ایک سال کے لیے منجمند کر دیا گیا ہے۔جب ان سے بات نہ بنی تو حکومت نے سعودی عرب کی شکل میں امریکہ کو سی پیک میں شامل ہونے کی دعوت دے دی اور سی پیک کے معاہدے کی تفصیلات بھی عالمی مالیاتی اداروں کے توسط سے اسے فراہم کر دی گئیں ۔چین کے لیے یہ بہت بڑا سفارتی جھٹکا تھا مگر اس نے تعمل سے کام لیا ،حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کے دباو پر یہ تجویز واپس لے لی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ  اس سب کچھ کے عوض میں پی ٹی آئی کی حکومت کو  امریکہ نے جن مراعات کی پیش کشش کی تھی وہ اس نے پوری کیں اور نہ کرنا تھی ،اس نے یہ سارا کھیل سی پیک کو ختم کرنے کے لیے رچایا تھا جس میں وہ کافی حد تک کامیاب رہا  جبکہ پی ٹی آئی حکومت  اُدھر کی  رہی نہ اُدھر کی رہی ۔

بھارت کے ایک ممتاز تجزیہ کارپروفیسر سنجے بھاردواج کے مطابق خطہ میں طاقت کا جو نیا توازن قائم ہونے جا رہا ہے اس میں بھارت ، امریکہ، سعودی عرب  اور متحدہ عرب امارات اہم شراکت دارہیں۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا چین خلیجی ممالک میں اپنے مفادات کو ایران کے ساتھ تعلقات پر قربان کر دے گا تو ان کا کہنا تھا کہ چین کے  خلیجی ممالک میں اقتصادی مفادات ہیں جبکہ جیو سٹریٹیجک معاملے میں ایران اور پاکستان اس کے لیے سعودی عرب سے زیادہ اہم ہیں۔سنجے بھاردواج کے مطابق چین ہر قیمت پر سعودی عرب کو امریکہ کے اثر و رسوخ سے نکالنا چاہتا ہے لیکن وہ کبھی بھی ایران اور پاکستان کی  قیمت پر ایسا نہیں کرے گا ،اس کی نظریں بنگلہ دیش پر بھی ہیں وہ اسے  بھارت کے اثر و رسوخ سے نکال کر پاکستان کے قریب کر رہا ہے‘‘ ۔سفارتکاروں کے ایک حلقے کی یہ رائے ہے کہ مسلم ممالک میں جو اتھل پتھل ہو رہی ہے اس کی واحد وجہ چین امریکہ سرد جنگ نہیں ہے بلکہ اس میں ایران اور اسرائیل کی مخاصمت کو بھی بڑا دخل ہے، اسرائیل خطہ کی قیادت کا خواہاں ہے اس کے لیے اسے مسلم ممالک کی حمایت درکار ہے ،چونکہ بیشتر مسلم ممالک میں بادشاتیں ہیں جنھیں اپنی حکومت قائم رکھنے کے لیے داخلی اور خارجی حمایت دونوں درکار ہوتی ہیں ،اس حوالے سے سعودی عرب کی نئی قیادت کا  المیہ یہ ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے نامزدگی کے بعد اس کی داخلی حمایت میں کمی واقع ہوئی ہے ،اس وقت شاہی خاندان کے اندر جنگ چل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے اپنے پیش روں کے مقابلے میں زیادہ بیرونی حمایت درکار ہے جس کے لیے وہ امریکہ اور اس کے دو بڑے حلیفوں ( اسرائیل اور بھارت)  کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔شاہد یہی وجہ ہے کہ محمد بن سلمان کی آمد کے بعد سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات دونوں ممالک کی تاریخ  کے بہترین تعلقات ہیں ،ماضی  میں کبھی بھی سعودی عرب اور اسرائیل کے اتنے اچھے تعلقات نہیں رہے ہیں ،صدر ٹرمپ نے خلیجی ممالک میں جس بڑے بریک تھرو کی جانب اشارہ کیا ہے وہ یقینا اسرائیل اور سعودی عرب کے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کی  جانب ہے ،اس میں وہ پاکستان کو بھی شامل کرنا چاہیے گا مگر پاکستان کے لیے یہ ایک بہت ہی مشکل فیصلہ ہو گا، پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری ایک ٹی وی انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ  پاکستان اور اسرائیل کے روابط بہت پرانے ہیں ، پہلے یہ نچلی سطح پر تھے تاہم پرویز مشرف کے دور میں یہ تعلقات وزرائے خارجہ کی سطح پر ملاقاتوں تک پہنچ گئے تھے 2004میں ایک اسرائیلی وزیر نے بھی یہ دعوی  کیا تھا کہ انھیں پاکستان کے دورے کی دعوت  دی گئی ہے مگر بوجوہ یہ دورہ نہیں ہو سکا ہے ، حال ہی میں ایک دفعہ پھر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی خبریں عروج پر تھیں ،اسی دوران اسرائیل کی  ایک شخصت کے دورہ پاکستان کی خبریں بھی سامنے آئی تھی جن کی موجودہ حکومت نے تردید کر دی تھی ۔

اسرائیل اور مسلم ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت  کا سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کے بعد بھارت کو ہو گا ۔ اسرائیل میں کام کرنے والے ایک  سینئر صحافی ہریندر مشرا کا موقف ہے کہ مسلم دنیا تین واضح  گروپوں میں تقسیم ہے ، ایک طرف ایران ہے جو اسرائیل کا سخت مخالف ہے ،اسے چند ایک اسلامی ممالک کی حمایت حاصل ہے، دوسری جانب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہیں جن کی قیادت کو آج بھی اکثریتی مسلم ممالک تسلیم کرتے ہیں جبکہ تیسری جانب  ترکی اور ملائشیا ہیں جن کے ساتھ پاکستان کے بھی اچھے تعلقات ہیں ،اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے امن معاہدے نے مسلم ممالک کی اس تقسیم اور زیادہ گہرا کر دیا ہے۔

٭٭٭


ای پیپر