بین الافغان مذاکرات میں تاخیر کے خدشات
24 اگست 2020 (23:17) 2020-08-24

کئی اراکین کی طرف سے شدید تنقید اور مخالفت کے باوجودلویہ جرگہ نے بھاری اکثریت سے قیدی طالبان کو رہا کرنے کی منظوری دے دی جس کے تناظر میں اسی کے لگ بھگ کچھ خطرناک طالبان کوبھی رہائی مل چکی ہے مگر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے چھائے خدشات کے بادل ہنوزموجود ہیں باوجود اِس کے کہ افغان حکومت کی طرف سے مذاکراتی کمیٹی کے رُکن غلام قادر مجروح نے اسی ہفتے فیصلہ کن بات چیت کا عندیہ دیا ہے مگر بات چیت کے نتائج   کے حوالے سے کچھ بھی وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کیونکہ دونوں طرف بداعتمادی اور بدگمانی برقرارہے بداعتمادی اور بدگمانی کی فضا ابھی تک کیوں کیوں ختم نہیں ہوئی اور کس پر زیادہ زمہ داری عائد ہوتی ہے؟کا جواب دینا کوئی مشکل نہیں کم یا زیادہ دونوں فریق ذمہ دار ہیں افغان حکومت میں شامل کئی ایسے چہرے ہیں جوطالبان کے حوالے سے یکسو نہیں بلکہ متضاد سوچ رکھتے ہیں اِنھیں ملک میں امن سے کوئی غرض نہیں وہ بیرونی امداد کو اہم تصور کرتے ہیں یہ عناصر اب اِتنے خود سر ہو گئے ہیں کہ امریکی فوج اوردلچسپی کم ہونے کا متبادل بھارت کو سمجھنے لگے ہیں اِس لیے مذاکرات سے بے زاری دکھاتے ہیں شمالی اتحادکو بھی کسی نوعیت کی بات چیت سے کوئی سرکار نہیں کیونکہ اگر افغانستان میں امن کاوشیں کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں تو بیرونی قوتوں کی مداخلت کا جواز نہیں رہے گا اِس طرح آمدن کے ذرائع متاثر ہو سکتے ہیں اسی لیے وہ امن عمل کو پروان چڑھانے میں حصہ لینے کی بجائے بھارت کی ایما کے مطابق متحرک ہوتے اور بھارتی کردار کے تحفظ میں دلچسپی رکھتے ہیں قبل ازیں وجہ وجہ تہران کا دہلی کی طرف جھکائو تھا اب ممکن ہے ایران چین حالیہ معاہدے سے بھارتی کردارمحدود ہو جائے۔

یہ بات تو طے ہے کہ امریکہ اب ہر قیمت پر افغان مسئلہ سے جان چُھڑانا اور اپنی افواج کی تعداد پانچ ہزار سے بھی کم کرنے کے لیے بے چین ہے لیکن اگر وہ افغان امن کی بحالی کے بغیر ہی رخصت ہوتا ہے تو پہلے کی طرح افغانستان کے دوبارہ بدامنی کا شکار ہونے کا خدشہ ہے اِس صورت میں علاقائی ترقی کے منصوبے متاثر ہوسکتے ہیں مگر علاقے کی ترقی سے ٹرمپ انتظامیہ کو سروکارہو یقین نہیں آتاکیونکہ امریکہ میںانتخابی عمل شروع ہوچکا ہے اور صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ انتخابی مُہم کے دوران عوام کو بتانے کے لیے کچھ ایسا ہو جس سے حریف امیدوار کو چاروں شانے چت گرایا جائے وہ دوسری بار کامیابی کے لیے اِتنے بے چین ہیں کہ اور کچھ نظر نہیں آتاوہ افغان مسئلہ کومسائل کی گرداب  قرار دیتے ہیںاورحل کے ذریعے انتخابی ترازو کو اپنے حق میں جھکانا چاہتے ہیں اِس لیے ایک بات تو طے ہے کہ افغان فریقوں کواغیار کی طرف دیکھنے کی بجائے عوام اور ملک کی بہتری کے لیے سیاسی مفاہمت کے لیے اپنی صلاحیتوں سے کام لینا ہو گا ۔

افغان حکومت کو کچھ طالبان رہنمائوں کی رہائی پسندنہیں اور وہ اِن رہنمائوں کو رہا کیے بنا بات چیت کی آرزو مند ہے فرانس نے بھی اپنے فوجیوں اور امدادی کارکنوں کو ہلاک کرنے والوں کی رہائی سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے یادرہے کہ طالبان نے اقوامِ متحدہ کی ریفیوجی ایجنسی کی اہلکار فرانسیسی خاتون گوئلارکو مارنے کے ساتھ پانچ فرانسیسی فوجیوں کو بھی ہلاک کر دیا تھا اِن ہلاکتوں کے زمہ داران کی فرانس رہائی نہیں چاہتا بلکہ قید رکھنے اور سزاکا متمنی ہے آسٹریلیا بھی اِس حوالے سے فرانس کا حامی ہے افغان جنگ کے اہم اتحادیوں کے مطالبات نظرانداز کرنا امریکی اور افغان 

حکومت دونوں کے لیے مشکل ہے اسی لیے انٹر افغان مذاکرات کھٹائی میں پڑنے کا اندیشہ ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ طالبان کی رہائی کے نُکتے کے علاوہ بقیہ تصفیہ طلب مسائل پر اتفاق ہو گیا ہے بلکہ اور بھی بے شمار مسائل ہیں جن پر کُلی اتفاق نہیں مگر قیدیوں کی رہائی بہت اہم اور حساس ہے اسی لیے سوچ سمجھ کر چلنے کی ضورت ہے مگر زیادہ سوچ و بچار سے بھی منزل کی طرف سفر سُست روی کا شکار ہو سکتا ہے ۔

امریکہ کی ضرورت اور امید پاکستان ہے وہ چاہتا ہے کہ پاکستان تمام کام چھوڑ کر افغان مسلہ حل کرنے توجہ دے اس لیے پاکستان طالبان کی مہمان نوازی میں مصروف ہے منگل پچیس اگست کو وزارتِ خارجہ میں نشست بھی رکھی گئی ہے لیکن مشرقی سرحدکے حالات بھی توجہ کے متقاضی ہیں پھر بھی محمد صادق خان کو نمائندہ خصوصی بناناپاکستانی اخلاص کا مظہر ہے اور افغان حکومت اور طالبان نمائندوں میں اعتماد کی فضا پیداکرنے کے  لیے کوشاں ہے ایسے حالات میں جب نیٹو ائرپورٹس کی سیکورٹی افغان حکام کے حوالے کرنے جارہاہے حالانکہ افغان اِدارے اتنی استعداد نہیں رکھتے ہاں نتیجہ خیز مزاکرات سے امن کی منزل مل سکتی ہے لیکن امن کے قیام کو یقینی بنائے بغیرافغانوں کو مسائل کے منجدھار چھوڑکر بھاگنا مناسب نہیں اِس حماقت کا خمیازہ پورے خطے کو بھگتناپڑ سکتا ہے ۔

طالبان رہنما ئوں کا عتماد اِ س حقیقت کا مظہر ہے کہ وہ بدلے حالات میں اپنی بہترپوزیشن سے بخوبی آشنا ہیں مگر کمزور گرفت اور بیساکھیوں سے متوقع محرومی نے افغان حکومت کو مزیدکمزوروناتواں بنا دیا ہے یہی وجہ ہے کہ اشرف غنی کسی فیصلے پر پہنچنے کی ہمت نہیں کر رہے وہ طویل افغان جنگ کے باوجود طالبان کی ثابت قدمی سے متوحش ہیں اور مستقبل میں تشکیل پانے والی حکومت میں اپنے کردار کا تعین چاہتے ہیں لیکن اپنے مستقبل کے علاوہ کچھ سوچنے سے لاچار صدر کو ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ زاتی مفاد پر افغان قوم کا مفاد قربان کرنا اخلاص نہیں اور طالبان کا سخت رویہ بھی سمجھ سے باہر ہے اگر دونوں فریق نرمی اور لچک کا مظاہرہ کریں تونتیجہ خیز بات چیت کی رہ ہموار ہو سکتی ہے یادرکھنے والی بات یہ ہے کہ اغیار کے سہارے دیرپا نہیں ہوتے بہتر فیصلے ملک کی محب الوطن قیادت کی ذمہ داری ہے بات چیت کے لیے فضا سازگار ہے جس سے فائدہ اُٹھا کر دونوں فریق افغان قوم کو بدامنی کے گرداب سے نکال لیں تو اِس سے تنہاافغانستان ہی نہیں پورے خطے پر مثبت اثرہو سکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ دونوں طرف موجودبداعتمادی کی فضا ختم ہواور افغان عوام کے وسیع تر مفاد کو پیشِ نظر رکھ کر فیصلے کیے جائیں۔


ای پیپر