وہ سانپوں کے شہر میں اکیلا تھا
24 اگست 2020 (23:17) 2020-08-24

اصل میں بات یہ ہے کہ ہم خود بھی ٹھیک نہیںہونا چاہتے اور دوسرے نمبر پر ہماری حکومتیں اور ہمارے منتخب کیے ہوئے نمائندے اپنی قوم اور اپنے ملک کے لیے کوئی کارنامہ کسی صورت میں سر انجام نہیں دینا چاہتے۔ یہ حکمران ریاستی طور پر ، معاشی طور پر، تعلیمی طور پر اور مذہبی طور پر ملک کو اصل شاہراہ  پر لانا نہیں چاہتے ہیں۔ ان حکومتوں کو ان کے وزیروں کو اور اس کے محکموں کے سربراہوں کو ملک کے ابتدائی اور اندرونی مسائل کا علم ہی نہیں ہے۔ ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے والوں کو علم اور شعور ہی نہیں تھا کہ ریاست مدینہ معرض وجود میں کس طرح آئی تھی؟ ریاست مدینہ کی معروضیت میں ایمان، دین، سچائی، اخلاق، انسانیت، مدردی، الفت، محبت اور خوف خدا کو کس قدر عمل دخل تھا؟ صادق اور امین کہنے والوں کو اور یہ لقب اختیار کرنے والوں کو اگر اسی ایک بات کا علم ہو جائے کہ ہجرت کے وقت نبی اکرمؐ نے حضرت علیؓ سے اتنا کہا تھا کہ علیؓ میرے بستر پر سو جاؤ اور صبح اٹھ کر ان لوگوں کی امانتیں واپس کر کے مدینے چلے آنا تو انہیں ’’امین‘‘ کے لفظ کی گہرائی اور صداقت کی سمجھ آجاتی۔ اگر انہیں اس بات کا ایقان ہو جائے کہ آپؐ نے ساری عمر جھوٹ نہیں بولا اور ان پر لفظ ’’صادق‘‘ کی روح عیاں ہوجائے گی۔ جس ریاست میں اگر کوئی خوش بختی سے کام کرنا چاہے اور اسے روک دیا جائے اسے تبدیل کر دیاجائے۔تو ایسی ریاست کو ہم کیسے ریاست مدینہ کہیں گے یا ریاست مدینہ بنائیں گے؟ ایسے میں ہم کیسے اپنے حکمرانوں کو صادق اور امین کہیں گے؟ ایسے میں ہم کیسے نعرہ لگائیں گے بھٹو زندہ ہے؟ جئے بھٹو؟ جب تک سورج چاند رہے گا بھٹو تیرا نام رہے گا؟ ایسے میں ہم کیسے کہیں گے میاں تیرے جانثار، بے شمار بے شمار… یہ سب منافق لوگوں کا طرز عمل اور 

منافقت کی نشانیاں ہیں۔ یہ سب مافیاز کی دھڑے بازیاں ہیں۔ یہ سب سہولت کاروں کے ہتھکنڈے ہیں۔ یہ سب سرمایہ کاروں کے چمچہ گیریاں ہیں۔ یہ سب سیاستدانوں کے دادا گیر ہیں اور دررا ازم کی سہولت سے اپنے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے کے چکر میں ہیں۔ یہ سب وہی لوگ ہیں جو اپنی ان گھناؤنی حرکات اور غلیظ ارادوں اور سوچوں سے ملک اور قوم کے ساتھ کھلواڑ میں قدم سے قدم ملائے ہوئے ہیں۔ 

اس وقت پنجاب کے پرائیویٹ سکولوں میں نام نہاد پبلشرز کی کم و بیش دس ہزار کے قریب مختلف کورسز پر کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ ان دس ہزار کتابوں میں سے صرف 500 کتابوں کو چیک کیا گیا اور ان پانچ سو کتب میں سے سو کتابوں پر پابندی لگانے کی نوبت ضرور سمجھی گئی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سو کتب میں اغلاط کیا تھیں؟ 

وہ اغلاط یہ تھیں قرآن مجید کی آیات غلط لکھی گئی تھیں۔ اپنی طرف سے سے آیات شامل کی گئی تھیںَ بہت سی آیات کا ترجمہ غلط لکھا گیا تھا۔ احادیث مبارکہ کو غلظ لکھا گیا تھا۔ خود ساختہ احادیث کو شامل کیا گیا تھا۔ 

احادیث کا ریڈی میڈ ترجمہ لکھا گیا تھا… نعوذ باللہ توہیں رسالت پر مبنی مواد شامل تھا۔ مذہبی فتنہ پرستی کو ہوا دی گئی تھی۔ توہین اصحابہ اکرامؓ پر مبنی مواد شامل تھا۔ طے شدہ منصوبے کے تحت فرقہ پرست کو ہوا دی گئی تھی۔ قائداعظم اور علامہ اقبال کے متعلق ڈھیروں معلومات غلط طریقوں سے لکھی گئی تھیں۔ قائداعظم کی تاریخ پیدائش 1876ء کی بجائے 1976ء لکھی گئی تھی۔ یہاں تک کہ پاکستان کا نقشہ بھی غلط شائع کیا گیا تھا… بڑی مضحکہ خیز بات یہ کہ سر سید احمد خان کو ان کی وفات کے چالیس سال بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے ملازمت کرتے دکھایا گیا تھا۔ ایک ایسی کتاب بھی نظر سے گزری جس میں مختلف ملکوں کے جھنڈے اور نقشے دے کر مضامین لکھے گئے تھے۔ حتیٰ کہ اس کتاب میں انڈیا کا نقشہ اور جھنڈا تو تھا لیکن پاکستان کا کہیں ذکر تک نہ تھا… بہت سی ایسی کتابیں ملیں جن میں قومی سلامتی اور ریاست کے خلاف مواد شامل تھا۔ کئی دوسری کتابوں میں غیر اخلاقی اور قابل اعتراض مواد بھی دیکھنے میں آیا۔ یہ سب کتابیں پرائیویٹ سکولوں میں پڑھائی جاتی تھیں ااور پاکستان میں ستر فیصد والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں پڑھانا چاہتے ہیں۔ رائے منظور احمد کا صرف اتنا قصور تھا کہ یہ بندہ سسٹم کے خلاف کھڑا ہوا لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ مافیاز کے پریشر میں آ کر خادم اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اسے آٹھ بار تبدیل کیا اور موجودہ حکومت پنجاب بھی مقاصدکی تاب نہ لاتے ہوئے اور رائے منظور احمد کا مؤقف سنے بغیر اسے ٹرانسفر کر دیا جو کہ نسل نو کے ساتھ اس قسم کے ساتھ، اس ملک کے ساتھ اور ہمارے مذہب کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔ آکسفورڈ مافیا وہ مافیا ہے جو کبھی نہیں چاہے گا کہ ہمارے تعلیمی نصاب کی بنیادی ہے جو کبھی نہیں چاہے گا کہ ہمارے تعلیمی نصاب کو بنیادیں اسلامی، مذہبی اور دو قومی نظریہ پر مبنی ہوں۔جب بھی رائے منظور احمد جیسا شخص پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ میں آئے گا تو یہ مافیا پھر سے سرگرم ہو جائے گا۔ لیکن میں ایک بات کہوں گا یہ قصور مافیا کا نہیں ، یہ قصور ہماری حکومتوں کا ہے جو ان کے ہاتھوں میں کھیل جاتی ہیں اور ان سے دب جاتی ہیں۔ رائے منظور احمد کو چپ ہی رہنا پڑے گا اور ہمیشہ کی طرح خون کے گھونٹ ہی پینا پڑیں گے کیونکہ وہ سانپوں کے نگر میں اکیلا ہے وہ سانپوں کے نگر میں اکیلا ہے۔ 


ای پیپر