ایسے مسیحا ہی مسیحائی کابھرم رکھتے ہیں
24 اگست 2020 (23:15) 2020-08-24

ان دنوں کئی ایسے موضوعات ذہن میں گھرکئے ہوئے تھے جن میں سے ایک کا انتخاب کر نا مشکل ہو پا رہا تھا۔ ان میں کئی موضوع ایسے تھے جو ملک کی سیاسی صورتحال کی عکاسی کر ہے تھے اور ان کے پس منظر اور اندرونی معاملات سے میں بخوبی آگاہ بھی تھا ۔ لیکن اچانک ہی ایک ایساموضوع ،کالم کے لئے میسر آگیا کہ پھر اس کے سامنے باقی تمام موضوعات چھوٹے پڑگئے اور بالآخر ایک مسیحا کی مسیحائی کو لوگوں تک اور بالخصوص ارباب اقتدار اور اہل خیر تک پہنچانا اپنا فرض جانا۔ میں اورتقریباََ ہمارے تمام صحافی دوست ڈاکٹروں کی زیادتی پر کھل کر لکھتے اور بولتے ہیں ۔ لیکن مجھے اس وقت افسوس ہوتا ہے کہ ان ہی ڈاکٹروں میں سے کوئی ڈاکٹر اچھا کام کر رہا ہو تو ہم اس کی تعریف میں بخل سے کام لیتے ہیں ۔ میری چونکہ پہلے دن سے ہی یہ سوچ رہی ہے کہ میرے قلم سے ہمیشہ بُرائی کے بجائے اچھائی کا پیغام جانا چاہئے ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ ایک روز برائی خود ختم ہو جائے گی اور اچھائی کی کرنیں پورے معاشرے کو روشن کر دیں گی۔ انشا ء اللہ!!!

قارئین کرام ! شیخ صاحب ، بہت بڑے عالم دین ، کئی شرح کتب احادیث کے مصنف، مکہ و مدینہ کی فضا میں مہ و سال بسر کرنے کی جنہیں سعادت حاصل رہی۔  عاجزی، انکساری ، فقیری اور درویشی ان کی شخصیت کو مزید چار چاند لگا دیتی ہے ۔ ایسی روحانی شخصیت کی جب حجاز مقدس سے واپسی پر طبیعت خراب ہوئی تو یہ اپنے طور پر لاہور کے تمام سر کاری ہسپتالوں میں مارے مارے پھرتے رہے ۔ سروسز ہسپتال کے علاوہ تمام ہسپتالوں میں انہیں بھی اسی ذلت و خواری کا سامنا کر نا پڑا جو پاکستان کی ساری عام عوام کو کرنا پڑتا ہے ۔ یوں ان کا علاج نہ ہو سکا بلکہ ہسپتالوں کے دھکے کھانے کی وجہ سے صحت کے معاملات مزید بگڑتے رہے ۔ بھلا ہو مسیحائوں کا بھرم رکھنے والے مسیحا، پروفیسر شہزاد انور کا، جنہوں نے اپنی محبت ، شفقت اور کمال مہر بانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر شیخ صاحب کو داخل کیا بلکہ فوری طور پر تمام تشخیصی ٹیسٹ کروا کر ان کا علاج بھی شروع کر دیا ۔ پروفیسر صاحب کے اس عمل کی وجہ سے جہاں مسیحائی کا اچھا پیغام گیا وہاں پچھلے سارے دکھ بھی بھول گئے۔

قارئین کرام !بلاشبہ لاہور کے تمام سر کاری ہسپتالوں میں سے سر وسز ہسپتال کی صورتحال کافی بہتر ہے ۔ یہاں تعینات ایم۔ایس ڈاکٹر افتخار بھی صوفی قسم کے انسان ہیں اور معاملات میں بہتری لانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔ ہر طرح کا شدید پریشر ہونے کے باوجود بھی چہرے پر مسکراہٹ رکھے ہوتے ہیں اور اپنے دفتر میں آنے والے ہر سائل کی داد رسی بھی ضرور کرتے ہیں ۔ میرا شعبہ صحت کے ذمہ داروں کو مشورہ ہے کہ پنجاب بالخصوص لاہور کے تمام ہسپتالوں کے ایم۔ ایس بشمول افسران و ملازمین کی اخلاقی و نفسیاتی تربیت بھی ڈاکٹر افتخار سے کروائی جائے ۔ مجھے امید ہے اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہو نگے ۔ سروسز ہسپتال کے شعبہ یورالوجی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر شہزاد انور بھی درویش صفت انسان ہیں ۔ یورالوجی وارڈ میں شدید رش کے باوجود ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر غریب بالخصوص جس کی کوئی سفارش نہیں اسے ضرور دیکھا جائے اور بہترین علاج کیا جائے ۔ دور حاضر میں جہاں ہر جانب نفسا نفسی ہے اور بالخصوص طب کے شعبے سے وابستہ لوگوں میں جس قدر غرور و تکبر پایا جاتا ہے، اتنی ہی عاجزی اور انکساری کا منہ بولتا ثبوت پروفیسر صاحب کی شخصیت ہے ۔ 

یہی وجہ ہے کہ قدرت نے بھی پروفیسر شہزاد انور کے نہ صر ف ہاتھوں بلکہ نگاہوں میں بھی شفا رکھی ہوئی ہے ۔ وہ مریض کو صرف دیکھ لیں تو وہ صحتیاب ہو جاتا ہے ۔ غریب مریض جن کے پاس دوائی خریدنے کے پیسے موجود نہیں ہوتے ، ان کے لئے مفت کڈنی ٹرانسپلانٹ کی سہولت بھی شروع کر رکھی ہے جبکہ ہسپتال میں سب سے زیادہ رش والے یورالوجی وارڈ میں سہولیات کے فقدان کے باوجود اپنے طور پر کوشش کرتے ہوئے بہترین طبی سہولیات فراہم کر رہے ہیں ۔ میں اپنے اس کالم کے توسط سے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارصاحب سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ فی الفور سر وسز ہسپتا ل کے یورالوجی وارڈ کا وزٹ کریں اور یہاں موجود طبی سہولیات کی کمی کو دور کر نے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کئے جائیں ۔

قارئین محترم !سر کاری ہسپتالوں کی حالت زار بہتر بنانا ، ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ارباب اختیار ابھی اتنے با اختیار نہیں ہوئے کہ وہ غریبوں اور عام آدمی کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کر سکیں ۔ اس موقع پر پھر اہل خیر اور مخیر حضرات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے مال میں سے اپنے کمزور لوگوں کا بھی حصہ نکالیں ۔ سروسز ہسپتال لاہور کا یوروالوجی وارڈ بھی انہی مخیر حضرات کی راہ تک رہا ہے ۔ بلاشبہ چھوٹی سی رقم سے کی جانے والی یہ نیکی بہت بڑے نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہو گی تو پھر دیر کس بات کی ؟ آئیے اور پروفیسر شہزاد انور کی طرح اپنا حصہ ڈالتے ہوئے ہم بھی مسیحائی کے رستے کے مسافر بن جائیں ۔


ای پیپر