مہنگا ئی آ خر اتنی کیو ں؟
24 اگست 2020 (16:22) 2020-08-24

اپنے گذ شتہ کا لم میں میں نے تحر یکِ انصا ف کی حکو مت کے پہلے دو سا لو ںکی کا ر کر دگی کا جو جا ئز ہ پیش کیا تھا، اس میں حکو مت کی بہت سی نا کا میو ں کے با وجو د اس اصل کی تا ن نا قا بلِ گر فت مہنگا ئی پر آ کر ٹو ٹتی نظر آ تی تھی مگر کا لم کی طوا لت کو ملحو ظِ خا طر ر کھتے ہو ئے مہنگا ئی کی وجو ہا ت پہ وہ رو شنی نہ ڈا ل سکا جس کی وہ حقدا ر تھی۔ بہر حا ل زیرِ نظر کا لم کا مقصو دِ نظر اسی تشنگی کو دور کر نا ہے۔ تو قا رئین کرا م،اقتصادی اور سماجی نظام میں استحکام کے لیے ماہرین سیاست نے مثالی حکمرانی کا جو معیار قائم کیا ہے وہ عوام دوست معاشی ریلیف کی فراہمی کا ہے۔ دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک میں اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کی نہ تو کوئی روایت ملتی ہے اور نہ ضلعی اورمقامی کائونٹیز، لوکل گورنمنٹ اداروں، اتھارٹیز اور سوشل سیکٹر میں فوڈ سیکورٹی اور مہنگائی میں چیزیں آسمان سے باتیں کرتی دکھائی دیتی ہیں، وہاں یہ سب کچھ ایک معاشی اور اقتصادی سسٹم کے تابع ہوتا ہے۔ اس لیے مغرب اور غیر جمہوری طرزِ حکومت میںبھی عوام کو ایک اجتماعی آسودگی میسر ہوتی ہے لیکن وطنِ عزیز میں یہ عجیب المیہ ہے کہ حکومت ابھی تک چینی، آٹے اور گندم میں خود کفالت کا دعویٰ نہیں کرسکی اورنہ قیمتوں میں اضافے کے مسئلہ پر قابو پاسکی ہے۔ چیک اینڈ بیلنس کا موثر اور شفاف نظام کہیں نظر نہیں آتا لیکن معاشی سونامی جیسی دلفریب باتیں تو ارباب اختیار ایسی کرتے ہیں کہ گویا آئندہ چند روز میں معیشت نہ صرف مستحکم ہوگی، لاکھوں بیروزگاروں کو روزگار ملے گا بلکہ عوام جلد ہر قسم کی سہولتوں سے بہرہ مند ہوںگے۔ تاہم مارکیٹ حقیقت کچھ یوں ہے کہ چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا  ہے۔ مختلف شہروںمیں چینی 92 روپے سے 110 روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق لاہور، اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ، حیدر آباد، راولپنڈی کی نسبت پشاور میں چینی 10 روپے کلو مہنگی ہے۔ کوئٹہ ، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کراچی، حیدر آباد میں چینی 100 روپے کلو، بنوں میں 96 روپے کلو تک فروخت ہورہی ہے۔ خضدار میںچینی 92 روپے کلو تک فروخت ہورہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں کھانے پینے کی 15 چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ، 13 چیزوں کی قیمتوں میں کمی جبکہ 23 چیزوں کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

حکومت کو مہنگائی کنٹرول کرنے میں نہ صرف مشکلات کا سامناہے بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کی روزمرہ کی ضرورتوں کی اشیا کی سستے داموں فراہمی حکومت کی ترجیح میں شامل ہی نہیں کیونکہ حکومت کو معیشت کے 

حوالے سے یہ خوشخبری ملی ہے کہ جولائی میں ترسیلات زر 12 ارب 76 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی ہے، یعنی عوام کو تو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑگئے ہیں مگر حکمراں انہیں تسلی دے رہے ہیں کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، جلد عوام کے دن پھرنے والے ہیں۔ الم ناک صورت یہ ہے کہ حکومت مہنگائی کے سونامی کو روکنے پر فکر مند نہیں، لوگ سبزی، دال، مچھلی اور گوشت خریدنے کی استطاعت سے محروم ہیں۔ پرائس کنٹرولنگ اتھارٹی کا اتا پتا ہی نہیں، نہ ہی حکام چینی کی قیمت میں کمی، گندم اور آٹے کی قلت، گرانی اور درآمد کی حقیقت بتا پار ہے ہیں۔ معاشی آسودگی ایک معمہ بن گئی ہے۔ ادھر ایک خبر کے مطابق وفاقی حکومت نے گندم درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے اور یہ وفاقی ادارہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے درآمد کی جانے والی گندم کے غذائی معیار کو یقینی بنانے کے لیے گندم میں پروٹین اور گلوٹین کی کم از کم شرح کو بڑھادیا ہے اور امپورٹڈ گندم کو 9 اقسام کے کیڑوں سے پاک ہونے کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی زرعی معیشت اچھی ہو تو ملک میں اجناس، پھلوں اور سبزیوں کی قلت کبھی پیش ہی نہ آئے۔ تاہم کیوں ہم معیشت کی خود کفالت کے ذریعے ایک مستحکم اقتصادی نظام کی ضمانت قوم کو آج تک پیش نہیں کرسکے۔ حکمرانوںنے آ ئی ایم ایف کے دروازہ پر دستک دینے اور دوست ملکوں اور ڈونرز کے آگے کشکول کیوں پھیلائے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کو اتنی بات تو یاد ہے کہ حکومت اشیا کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کر رہی ہے مگر مہنگائی ہے کہ کسی حکومتی اقداما ت سے کنٹرول نہیں ہورہی۔ دودھ سے زیادہ دہی مہنگی! گندم اور چینی تو پاکستانی زراعت کی ترقی و استحکام اور فوڈ سیکورٹی کی اساس میں شامل ہونا چاہیے۔ گندم اور چینی کی قلت پر جو تحقیقاتی کمیشن تشکیل پائے ان کا نتیجہ کچھ نہ نکلا۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کے معاونین خصوصی کا دعویٰ تھا کہ وہ مافیاز کو کیفر کردار تک پہنچائیںگے، انہیں عبرت کا نشان بنائیں گے، پی ٹی آ ئی حکومت نے تحقیقات کو پبلک کرنے کے اقدام کو تاریخ ساز قرار دیا تھا، بڑی بڑھکیں ماری تھیں، بیچارے عوام شدید ترین غربت، کورونا کے عذاب اورمہنگائی کے باوجود سادہ دلی سے منتظر تھے کہ چینی، گندم اور آٹے کے ذخیرہ اندوزوں، مافیائوں اور سمگلروں کو قرار واقعی سزا ملے گی لیکن ٹچ ایبلز محفوظ رہے۔ بلاشبہ قوت فیصلہ کے اسی فقدان اور بے عملی کا یہ فطری نتیجہ تھا کہ سندھ ہائیکورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دی۔ عدالت نے تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔ تحریری حکم نامے کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے نیب، ایف بی آر اور ایف آ ئی اے کو علیحدہ علیحدہ انکوائری کا حکم دے دیا۔ ارباب اختیار کے پاس اس ساری صورت حال کا کیا جواب ہے۔ آج چینی، گندم اور آٹے کی قلت یااس کی قیمتوں میںبے تحاشہ اضافہ ملکی معاشی نظام کی کمزوری کی دلیل اور فوڈ سیکورٹی کے مسئلہ پر ایک لٹکتی ہوئی تلوار ہے۔ مہنگائی کا جن گندم، آٹے اور چینی کی بوریوں کے اندر سے نکل رہا ہے۔ عوام کی زندگیوں کو مشکل اور ان کے خوابوں کو ریزہ ریزہ کر رہا ہے۔ یاد رہے 20 مئی 2020ء کو وزارت داخلہ نے چینی کی قیمت میں اضافہ کے سکینڈل کی رپورٹ جاری کی تھی۔ ایف آ ئی اے کی 200 صفحات پر مشتمل تحقیقات رپورٹ لاحاصل رہی، حکومت نے کیا کارروائی کی۔ محض اس لیے رپورٹ پر عمل نہیں ہوا کہ اس میں کچھ پردہ نشینوںکے نام آئے۔ ضرورت اب بھی سخت اقدامات اور دلیرانہ فیصلوں کی ہے، ان پر عملدرآمد کی ہے۔ کیا ایک زرعی اور ایٹمی ملک ہوتے ہوئے بھی پاکستان آٹے اور چینی کے لیے مافیائوں کے رحم و کرم پر ہوگا۔ کیا عوام بس مہنگائی کا رونا ہی روتے رہیںگے۔


ای پیپر