ڈیموکریٹ پارٹی کا کنونشن اور صدارتی انتخاب
24 اگست 2020 (16:21) 2020-08-24

ایک ایسے ماحول میں امریکی انتخاب ہونے جا رہے ہیں۔گزرے ۔ پانچ ماہ میں کرونا وائرس نے دنیا کی معیشت،سیاست اور معاشرت کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ سماجی فاصلے اور گہما گہمی نہ ہونے کے ماحول میں امریکہ کے جو صدارتی انتخاب ہونے جا رہے ہیں وہ دلچسپی سے خالی نہیں تین نومبر کوہونے والے انتخاب میں اب 100 دن کا فاصلہ رہ گیا ہے۔ اس ماحول میں امریکہ انتخاب کا جو اہم مرحلہ طے ہوگا۔ دو بڑی سیاسی جماعتوں کے کنونشن ہیں۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کا چار روزہ کنونشن اختتام پزیر ہو گیا ہے۔جس میں جو بائیڈن کو ڈیموکریٹک پارٹی کا باقاعدہ امید وار نامزد کر دیا گیا ہے۔ کنونشن جس میں لاکھوں لوگ برائے راست شریک ہوتے تھے۔ جس میں وہ پارٹی  لیڈروں سے ملتے ہیں وہاں پارٹی پالیسی کو دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں ان کی باڈی لینگوئج سے نتائج اخذ کرتے ہیں مگر اس بار چار روزہ کنونشن میں لوگ ایک جگہ جمع نہیں ہوسکے بلکہ یہ'' ورچیول کنونشن'' تھا یعنی لوگوں کو انٹر نیٹ کے ذریعے کنونشن سے جوڑا گیا تھا۔جس کی وجہ سے ما ضی جیسا رنگ نہیں جم سکا جو  لیڈوں کی قربت کا احساس پیدا کرتا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو دوسری مدت کا انتخاب لڑنے جا رہے ہیں ان کی جماعت بھی اسی ماہ 24 اگست سے 27 اگست تک اپنا کنونشن منعقد کرنے جارہی ہے وہ بھی اس بار یہ کنونشن انٹر نیٹ پر ہی کرے گی۔اور ٹرمپ وائٹ ہاوس میں اپنی نامزدگی قبول کریں گے۔ ڈیموکریٹ پارتی کے کنونشن کے دوران ٹرمپ نے سونگ سٹیٹ کا دورہ جاری رکھا۔۔ اگر دیکھا جائے تو یہ انتخابی مہم امریکہ کی دونوں جماعتوں کے لیے آسان نہیں ہے۔ عالمی ادارہ صحت دنیا کو خبر دار کر رہا ہے کہ اب بھی کرونا سے بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ اقتصادی امور کے ماہر بھی کرونا  کے معیشت پر پڑنے والے اثرات سے آگا ہ کر رہے ہیں۔  جوبائیڈن اور ٹرمپ دونوں کو اس انتخاب میں کامیابی کے لئے اپنے اپنے طور پر چیلنجوں کا سامنا ہے، دونوں فی الوقت اس بات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں کہ انتخابی مہم کا نقشہ کس طرح بنایا جائے۔ جب کہ کرونا وائرس بدستور انسانی جانوں کو نگلتا جا رہا ہے ۔ جو کچھ بھی ہے اب دونوں پارٹی کے امید وار لنگر لنگوٹ کس چکے ہیں ان کو احتیاط سے زیادہ انتخاب جیتنے کی فکر ہے ۔چار روزہ ڈیموکریٹک کنونشن کے آخری روز اپنے خطاب میں جو بائیڈن نے اپنی تقریر میں موثر تنقید کی امریکی قوم مل کر اس سیاہ دور کا خاتمہ کرے گی جو ان کے بقول امریکہ پر اس وقت مسلط ہے۔ لگ بھگ آدھا گھنٹہ کا خطاب جو بائیڈن نے کیا۔ بذریعہ انٹرنیٹ 

نشر کیا جانے والا جو بائیڈن کا خطاب ڈیموکریٹک کنونشن کا آخری خطاب تھا۔ کنونشن کے دوران پارٹی کے مندوبین نے انہیں اور ان کے ساتھ نائب صدر کی امیدوار کاملا ہیرس کو باضابطہ طور پر تین نومبر کے صدارتی انتخاب کے لیے اپنا امیدوار نامزد کیا۔

کاملا ہیرس کے انتخاب پر جہاں صدر ٹرمپ نے جو بائیڈن پر تنقید کی ہے، وہاں سابق صدر باراک اوباما سمیت کئی ڈیموکریٹک رہنما ان کی نامزدگی کا خیر مقدم کر رہے ہیں۔ ہیرس پہلی سیاہ فام خاتون ہیں جن کو نائب صدر کی امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔سینیٹر کاملا ہیرس صدر ٹرمپ کے مقابلے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کی ٹکٹ کی بھی خواہش مند تھیں جس کی وجہ سے گزشتہ ایک سال سے وہ شہ سرخیوں میں تھیں۔پچپن سالہ کاملا ہیرس کے والد کا تعلق جمیکا سے ہے اور وہ اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں اقتصادیات کے پروفیسر ہیں، جب کہ ہیرس کی والدہ بھارت سے امریکہ آئیں اور یہاں 

کینسر پر تحقیق سے وابستہ رہیں۔سیاسی طور پر ایک عام گھرانے سے تعلق رکھنے والی ہیرس کی بطور نائب صدر نامزدگی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ صدارتی امید وار جو بائیڈن نے اپنی  نائب صدرکے بارے میں کہا  ''کاملا ہیرس بہت مضبوط ہیں اور وہ خود بھی کسی روز امریکہ کی صدر بن سکتی ہیں۔ وہ نائب صدر بھی ہو سکتی ہیں۔ وہ سپریم کورٹ کی جج بھی بن سکتی ہیں۔ وہ امریکہ کی اٹارنی جنرل بھی بن سکتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ بے پناہ صلاحیتوں کی مالک ہیں۔ کنونشن سے بل کلنٹن نے بھی خطاب کیا جو پانچ منٹ سے زیادہ نہیں تھا البتہ سابق صدر باراک اوباما نے بھی دھواں دار خطاب کیا  جن کو صدر ٹرمپ اپنا سب سے بڑا ناقد مانتے ہیں انہوں نے اس موقع پر پرخچے اڑا دیے۔ اگر ٹرمپ آئندہ چار برسوں کے لیے مزید عہدہ صدرات پر فائز ہوتے ہیں تو امریکی جمہوریت کی بقا کو گہرے خطرات لاحق ہیں۔ انہیں امید تھی وقت آنے پر صدر ٹرمپ بھی اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے۔لیکن انہوں نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ ان کو کام میں نہ تو کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی کوئی مشترکہ میدان ڈھونڈنے کا کوئی شوق ہے۔ بطور صدر انہیں جو زبردست طاقت حاصل ہے اس کا استعمال اپنے اور اپنے دوستوں کے علاوہ کسی اور کی مدد کرنے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ایوان صدر اور عہدہ صدارت کو بھی انہیں ایک ریئلٹی شو کی طرح استعمال کرنے میں دلچسپی ہے تاکہ وہ اس کی مدد سے لوگوں کی توجہ حاصل کرسکیں جس کے وہ خواہاں ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ میں اپنی ذمہ داریوں کے تئیں ابھی تک پختگی نہیں آئی ہے۔ اس وقت امریکہ کے صدارتی انتخاب اڑان بھرنے جارہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ سروے ڈیمو کریٹک کے حق میں جارہے ہیں۔ یہ سروے تو 2016 کے انتخابات میں پر امید تھے نہ جانے ہلیری 

کلنٹن کیوں ہار ی۔ دلچسب بات تو یہ ہے جو بائیڈن تین نومبر کے انتخاب میں صدر منتخب ہونے میں کامیاب رہے تو وہ 78 سال کی عمر میں حلف اٹھانے والے امریکہ کی تاریخ کے معمر ترین صدر ہوں گے۔ ان کے مقابلے میں اگر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل دوسری مدت کے لیے صدر بننے میں کامیاب ہوئے تو حلف برداری کے وقت ان کی عمر 74 سال ہوگی۔ اب یہ سوال پیدا ہونے لگا ہے کہ امریکی صدر کے لیے عمر کی حد مقرر ہونی چاہیے۔ اس میں شک نہیں جو بائیڈن پچاس سال سے امریکی سیاست میں سرگرم ہیں۔ وہ 36 سال تک امریکی سینیٹ کے رکن رہنے کے بعد 2009 سے 2016 تک سابق صدرباراک اوباما کے ہمراہ نائب صدر رہے۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کی امریکی نائب صدر ماضی میں صدارتی انتخاب جیت نہیں پاتے۔ اگر ماضی کی طرف دیکھیں تو اس سوال میں کافی جان نظر آتی ہے۔ اگرچہ اب تک 14 نائب صدور بعد میں صدر بننے میں کامیاب ہوچکے ہیں، لیکن ان میں سے 9 کو یہ موقع کسی صدر کے قتل، انتقال یا استعفے کی وجہ سے ملا۔ صرف پانچ نائب صدر ایسے ہیں جنھوں نے نائب صدارت کی مدت مکمل کرنے کے بعد صدارت کا انتخاب جیتا۔ ٹھیک پانچ ہی نائب صدر ایسے ہیں جو صدارتی انتخاب ہارے اور کبھی صدر نہیں بن سکے۔

چار نائب صدر ایسے تھے جنھیں کسی صدر کے قتل یا انتقال پر ترقی ملی اور وہ اگلا انتخاب خود بھی جیتے۔ اگر دیکھا جائے تو ٹرمپ اپنی انتظامیہ اور خارجہ پالیسی میں الجھے رہے۔ کامیابی کے لیے انہوں نے اسرائیل کے حوالے سے جو پتہ کھیلا تھا اس کا کتنا فائدہ ہوتا ہے البتہ ڈیموکریٹ پارٹی کی نائب صدارت کی امید وار کاملا ہیرس کی وجہ سے انڈین ووٹر گزشتہ انتخاب کی طرح ری پبلیکن پارٹی کو نہیں پڑے گا جو ٹرمپ کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ 


ای پیپر