گفتار کے غازی
24 اگست 2020 (16:20) 2020-08-24

کسی بھی ریاست کے لئے سرکاری ملازمین ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں،امور مملکت چلانے میں ان کا کردار کلیدی ہوتا ہے، انکی تعیناتی کا مقصد عوام کو سہولیات بہم پہنچانا،قومی وسائل کا بہترین استعمال کرنااور انکوضائع ہونے سے بچانا اور قومی آمدنی میں اضافہ کرنا بھی ہے، ایک آزاد اور سامراجی ریاست کے مابین فرق ترجیحات کا ہوتا ہے،آزاد ریاست کے پیش نظر عام آدمی کی فلاح اور اس کا تحفظ ہوتا ہے جبکہ سامراجی ریاست کی نظرمقبوضہ ملک کے وسائل پر ہوتی ہے ،چند معدودے افراد اور گروہ کو لالچ دے کر وہ پوری رعایا کو غلام بنا کے رکھتے ہیں انہی خطوط پر سامراجی سرکار اپنے ملازمین کا انتخاب کرتی ہے،اور ان سے وہی کام لیتی ہے جو عوام سے زیادہ حکمران طبقہ کے مفاد میں ہوتا ہے ۔ عہد برطانیہ میںیہ تمام کام بھی ملازمین ہی سے لئے جاتے رہے۔تاہم انکی مراعات کا انحصار خدمات پر ہوتا ہے، زیادہ وفادار ی پر عنایات کا پیمانہ اور ہوتا ہے واجبی ملازم کا مشاہرہ بھی روایتی ہوتا ہے۔

ہمارے ہاں تاحال قریباً وہی اصول وضوابط نافذ العمل ہیں جو سامراج ہمیں وراثت میں دے گیا تھا،ان میں ایک نظام ملازمین کی تنخواہوں کا بھی ہے،شیند ہے تاج برطانیہ نے یہاں تعینات سرکاری ملازمین کو مراعات دینے کے بعد ملازمت سے یہ کہہ کر نکال باہر کیا تھا کہ انکی تربیت قوم کو غلام رکھنے کی بابت کی گئی تھی، زمانہ گذر گیا ہے،برطانوی شہری محکوم قوم سے تعلق نہیں رکھتے۔برطانیہ نے ایک فلاحی ریاست کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے عوام اور سرکاری ملازمین کا تما م تر بوجھ اٹھا لیا۔

 اچھا ہوتا کہ ہم بھی سامراج کی باقیات کو دیس نکالا دیتے، ایسا نہ ہو سکا، اسی کا ہی فیض ہے کہ سارا سماج طبقات میں بٹا دکھائی دیتا ہے،ایک عام فرد سے لے کر سرکاری ملازمین تک سب کواپنے حقوق کے حصول کے لئے احتجاج کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

ان دنوں ریاست مدینہ کاتذکرہ زیر گردش ہے، پہلے خلیفہ نے عام مزدور کی مزدوری کے مساوی خلیفہ کا وظیفہ مقرر کرنے کا جو سنہری اصول طے کیا وہ مزدور اور سرکاری ملازم کی خوشحالی کی ضمانت بن سکتا تھا، کہا جاتا ہے جن دنوں سوشلزم کا طوطی بولتا تھا ان ایام میں دنیا بھر سے اہل دانش کو ماسکو مدعو کر کے اس کی’’ فیوض و برکات‘‘ پر روشنی ڈالی جاتی تھی، سماج کے عام افراد سے انکی ملاقات 

کروائی جاتی انکے تاثرات قلم بند کئے جاتے تھے،ایسی ہی ایک مشق میں میزبان نے مہمان دانشور کو بتایا کہ اس نظام میں ایک منیجر اور کک کی تنخواہ برابر ہے ،دلیل دی کہ کک کی یہ سزا کم ہے کہ وہ دن بھر حدت آگ کی اذیت برداشت کرتا ہے۔

کسی اور تبدیلی کے تو ہم شاہد نہیں البتہ اس باریہ ضرور ہوا ،کہ پنشنرز اور سرکاری ملازمین روایتی طور پر ہرسال قومی بجٹ میں بڑھنے والی پنشن اور تنخواہ سے محروم قرار پائے واقفان حال کہتے ہیں کہ ایسا آئی ایم ایف کے دبائو پر کیا گیا،جس طرح اہل وطن نے کپتان سے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں اسی طرح ملازمین بھی سابقہ بجٹ میں سرکار کے وعدہ فردا کے منتظر تھے انکے ساتھ بھی وہی ہوا جو عوام کے ساتھ ہورہا ہے۔

اراکین پارلیمنٹ چونکہ قانون سازی میں خود کفیل ہیں ،لہذا اپنی مراعات میں اضافہ کرنا انکے لئے چنداں مشکل نہیں، جب بھی انکا دل چاہتا ہے وہ بھاری اضافہ کے ساتھ اپنی تنخواہوں ،ہائوس رینٹ، الائونسز کی وصولی شروع کر دیتے ہیں مگر جونہی بجٹ پیش کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو وزراء کرام بڑے دکھ کے ساتھ پردھان منتری کو بتاتے ہیں جناب خزانہ توخالی ہوگیا ہے،اس لئے ملازمین کو پرانی تنخواہ پر ہی سرکاری فرائض انجام دینا ہوں گے،اشک شوئی کے لئے ہر سال پے اینڈ پنشن کمیشن بنا دیا جاتا ہے،یہ کھچوے کی چال اس وقت تک چلتا ہے جب تلک اگلے قومی بجٹ کا وقت آجاتا ہے،سعادت مند چیئرمین رپورٹ پیش کر بھی دے پھر بھی وہ ناقابل عمل قرار پاتی ہے اس کا حشر بھی وہی ہو تا آیا ہے جو ہمارے ہاں ہر کمیشن کی بابت معروف ہے،اسکا فائدہ ہر طاقتور ادارہ اٹھا کر خصوصی الائونس کے نام پر اپنی مراعات میں اضافہ کی منظوری لے کر ’’زندگانی انجوائے ‘‘کرتا ہے،عام سرکاری ملازم پے اینڈ پنشن کمیشن کی رپورٹ کی خوش فہمی میں غلطاں رہتا ہے،بے نظیر بھٹو مرحومہ کے عہد کا ہائوس رینٹ تاحال فریز ہے صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سرکاری ملازمین کو دیا جارہا ہے ،جو سرکاری مکان میں نہیں رہتے ،جو رہتے ہیں وہ بڑی رہائش گاہوں کے چند ہزار روپے دیتے ہیںجبکہ جو ہائوس رینٹ ملتا ہے اس میں ایک کمرہ بھی کرایہ پر نہیں ملتا۔

پنجاب میں سرکاری ملازمین کی قیادت پر مشتمل گرینڈ الائنس ان دنوں سراپا احتجاج ہے اس کا نعرہ ہے دو نہیں ایک پاکستان مطلوب ہے،اس کے قابل ذکر قائدین میںپروفیسر ڈاکٹر طارق کلیم،حافظ عبدالناصر،خالد جاوید سنگھیڑا،رخسانہ انور، طیب بودلہ کا مطالبہ ہے کہ تمام سرکاری محکمہ جات میں تنخواہوں اور مراعات کا یکساں طریقہ کار رائج ہونا چاہئے،اسی طرح صوبہ جات میں خاصاتفاوت پایا جاتا ہے،انشورنس کی رقم پنجاب کی نسبت دیگرصوبہ جات میںملازم کی ریٹائرڈ منٹ کے موقع پر ادا کی جاتی ہے پنجاب میں اس کے حصول کے لئے لازماً مرنا پڑتا ہے بعد ازاں وارثوں کو انشورنس کی رقم ملتی ہے یہ سارا پیسہ تو سرکاری ملازم ہی کا ہوتا ہے۔

اس طرز کی دیگر خرافات ہمارے دفتری نظام کا حصہ ہیں ،بعض اداروں کے ملازمین کو اتنی بھی پنشن نہیں ملتی کہ وہ اپنی چھت خرید سکیں ،کچھ کو فرنشنڈ بنگلہ جات اور زرعی اراضی پر مشتمل فار مز ہاوس ملتے ہیں،قانون اور آئین کی نگاہ میں تو دونوں یکساں ہی ہیں،اسی طرح کی تفریق اہلکاران اور افسران کے مابین بھی پائی جاتی ہے حالانکہ سماجی ضرویات تو دونوں کی ایک جیسی ہوتی ہیں، بچوں کو والد کے کم عہدہ کی سزا ہی ملنی ہے تو پھر آزادی کیسی؟ ایک محدود کلاس کو نوازنے اور قومی وسائل کی بندر بانٹ کے لئے بانی پاکستان نے یہ خطہ حاصل نہیں کیا تھا نہ ہی لاکھوں انسانوں نے ان کا پیٹ بھرنے کے لئے قربانی دی تھی،کیا ہی اچھا ہوتا کہ سامراج کی رخصتی کے ساتھ ہی اس کے ظالمانہ نظام ہی کو دفن کر دیا جاتا۔

بلاشبہ تمام ملازمین اپنی زندگی کے خوبصورت ایام ریاست کے حوالہ کر کے قناعت پسندی کی زندگی بسر کرتے ،بسا اوقات اپنی خواہشات کا گلہ بھی گھونٹتے ہیں، اپنی محکمانہ ترقی کے لئے بڑے کرب سے گذرتے مگر اپنے دامن کو بھی آلودہ نہیں ہونے دیتے، سرکار انکی خدمات کا اعتراف کرنے کی بجائے عالمی اداروں کی ہمنوا بن کر انکی پنشن اور دیگر مراعات کے خاتمہ کا عندیہ دیتی رہتی ہے۔ اکثریورپی ممالک  میں سرکاری ملازمین کو تمام بنیادی حقوق میٗسرہیں،انھیں رہائش، خوراک ،پوشاک ،صحت ،تعلیم کی فکر لاحق نہیں ہوتی، اس کے باوجود بھی پنشن دی جاتی ہے ،ہمارے ہاں ایمانداری سے صرف سرکاری ملازمین ہی ٹیکس ادا کر تے ہیں اس کے باوجود بچوں کی تعلیم ،صحت،رہائش پر بھاری اخراجات اپنی محدود آمدنی سے کرتے ہیں، بدعنوانی کے خاتمہ کے لئے سرکاری ملازمین کی مراعات میں بھاری اضافہ کرنے کا وعدہ کپتان نے کیا تھا، ان کے ارشادات آج بھی انکی جیتی جاگتی آواز میں موجود ہیں،تاہم ملازمین کی تنخواہ اور پنشنرز کی پنشن میں عدم اضافہ سے موصوف گفتار کے غازی ثابت ہوئے ہیں۔


ای پیپر