لمحہ موجود میں ہماری کشمیر پالیسی ہے کیا
24 اگست 2019 2019-08-24

پاکستان نے بہت اچھا کیا مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی قابض حکومت کی جانب سے قتل عام کے جو واضح امکان پائے جاتے ہیں ان کے بارے میں خدشات سے پوری دنیا کو آگاہ کر دیا ہے … فوراً بعد ایک عالمی تنظیم Genocide Watch نے بھی مظلوم و مقہور کشمیری عوام کے قتل عام کے خطرے کی گھنٹی بجا کر پاکستان کے خدشات پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے … بھارت اس کے باوجود اپنے خطرناک عزائم سے باز نہیں آنے والا… کیونکہ علاقائی طاقت ہونے کے زعم اور پورے برصغیر پر ہندو نسل پرستی کے غلبے کے خواب کی تعبیر دیکھنے کی خواہشات نے اس کے لیے کوئی اور راہ عمل نہیں چھوڑی اگرچہ بھارت کی جانب سے نہتے کشمیری عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دینے اور ان کے تمام آئینی حقوق سلب کر دینے کے اقدامات پر آج کی مہذب دنیا کا وہ ردعمل سامنے نہیں آیا جس کا کشمیری عوام انسانی برادری سے استحقاق رکھتے ہیں لیکن اس سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انسانیت ابھی تک زندہ ہے ، اس نے دم نہیں توڑ دیا… بھارت نے اگر کشمیری مسلمانوں کے قتل عام جیسی وحشیانہ کارروائی کاارتکاب شروع کر دیاتو دنیا کے لیے اسے ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا اور اگر پاکستان نے اس مسئلہ پر خطۂ عرض کے لوگوں کا ضمیر بیدار کرنے کی بھرپور کوشش جاری رکھی تو چند بڑی عالمی تنظیموں اور میڈیا نے بھی ساتھ دے دیا جس کے آثار پائے جاتے ہیں تو کشمیری عوام کو اندھی ہندو قوم پرستی کی شکار نئی دہلی کی حکومت کے وحشیانہ ارادوں سے کسی حد تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے … تاہم اصل سوال یہ ہے پاکستان جس کی جانب وادی کے عوام اپنے محافظ اور ترجمان کے طور پر نظریں لگائے اور توقعات باندھے بیٹھے ہیں اس کی حقیقی کشمیر پالیسی کیا ہے … ٹویٹر بیانات کا تانتا یقینا بندھا ہوا ہے … عالمی رہنماؤں کی جانب سے ہمدردی اور اظہار تشویش کے دو چار بیانات بھی سامنے آئے ہیں لیکن کیا ان سے جو اصل تنازع کشمیر ہے اس کا حل نکل آئے گا… مودی حکومت کی جانب سے 5 اگست کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370اور ذیلی دفعہ 35 اے کو کالعدم قرار دینے کے اعلان اور ریاست جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اس کے ناجائز ادغام کے ردعمل میں ہم نے سلامتی کونسل کا فوری اجلاس بلوانے میں یقینا کامیابی حاصل کر لی مگر اس کی ساری کارروائی بند کمرے میں ہوئی… باقاعدہ بیان جاری نہ ہوا… صرف اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر خبر جاری ہوئی جس میں بتایا گیا کہ اجلاس میں کشمیر کی تازہ ترین صورت حال زیر بحث آئی ہے … تدارک کے لیے کیا قدم اٹھانا چاہیے اس پر خاموشی اختیار کی گئی … اندر کی خبر کے مطابق امریکہ، فرانس اور جرمنی نے اس سے آگے بڑھ کر کسی قسم کی اپیل یا قرار داد وغیرہ کی مخالفت کی چنانچہ سلامتی کونسل کا اجلاس عملاً بے نتیجہ ہو کر رہ گیا… اس کے بعد پاکستان نے اعلان کیا وہ عالمی عدالت میں جائے گا اس ضمن میں بھی اعلانات بہت کیے گئے مگر ہماری اپنی وزارت قانون اس کے برخلاف مشورہ دیتی معلوم ہو رہی ہے … کیونکہ بھارت نے پیش بندی کر رکھی ہے کہ دولت مشترکہ کے دو رکن ممالک کے درمیان تنازعات کو عالمی عدالت میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتااب ہمارے حکومتی اور ریاستی حلقے صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ثالثی کی بار بار کی پیش کش پر امید لگائے بیٹھے ہیں…مگر ایک تو ٹرمپ صاحب بذات خود قابل اعتبار (Predictible) شخصیت کے مالک نہیں ان کا اصل مقصد پاکستان کا دل لبھا کر افغانستان کے کمبل سے جان چھڑانا ہے … دوسرا وہ بھارت کو اس حد تک ناراض نہیں کر سکتے کہ اس کے علانیہ مؤقف کوزک پہنچا دینے والا سمجھوتہ کرائیں… اس تناظر میں پاکستان کے وزیراعظم کی جانب سے بیان سامنے آیا ہے کہ بھارت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں… یقینا درست بات ہے لیکن بھارت بھی تو ہمارے ساتھ بات چیت کا روادار نہیں ہے … مذاکرات کا فائدہ یا نقصان تو اس وقت سامنے آئے گا جب کوئی ہمارے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہو… مودی حکومت کی جانب سے ابھی تک اس کا خفیف اشارہ بھی نہیں دیا گیا… سوال پھر وہی ہماری حقیقی کشمیر پالیسی کیا ہے ؟

اسی کے ساتھ جڑا ہوا اہم سوال یہ بھی ہے ہماری کشمیر پالیسی نیا اور صحیح معنوں میں چلا کون رہا ہے … جواب میں کہا جائے عمران خان تو لوگ پوچھتے ہیں کیا واقعی… جبکہ بھارت میں یہی سوال پوچھا جائے تو جواب مودی پر کسی کو تعجب نہیں ہوتا اگرچہ ہماری طنابیں ملک کی سب سے زیادہ طاقتور فورس کے ہاتھوں میں ہیں… اس کے باوجود جنگ کوئی آپشن نہیں کا اعلان کرتے کرتے ہماری زبانیں تھک گئی ہیں… ہاں اگر حملہ ہوا تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا… مگر بھارتی زبان حال سے کہہ رہے ہیں ہم نے جنگ لڑے بغیر کشمیر لے لیا ہے … مان لیجیے ! صدر ٹرمپ واقعی ثالثی کی پیشکش کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو ہم ان کے ذریعے منوانا کیا چاہتے ہیں… ہمارا بنیادی مطالبہ کیا ہو گا… کیا ہم تقاضا کریں گے کہ بھارت اپنے آئین میں آرٹیکل 370اور ذیلی دفعہ 35 اے کو بحال کر دے … اگر ایسا ہو گیا جس کے امکانات کم ہیں تو پھر زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ مسئلہ کشمیر 5 اگست 2019ء سے پہلے کی پوزیشن پر آ جائے گا یعنی اصل تنازع وہیں کا وہیں رہے گا… اگر ہمارا مؤقف یہ ہے کہ آرٹیکل 370وغیرہ کے کالعدم ہوجانے اور اس ضمن میں بھارت کی یکطرفہ کارروائی کے منطقی نتیجے کے طور پر معاہدہ شملہ بے اثر ہو کر رہ گیا ہے اور دو طرفیت (Bilateralism)کی بنیاد منہدم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے کشمیر ایک مرتبہ پھر عالمی سطح کا تنازع بنا گیا ہے (جو حقیقت بھی ہے ) لہٰذا اس کا حل سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق استصواب رائے ہے تو کیا ہم صدر ٹرمپ یا کسی اور عالمی ذریعے سے اس مطالبے کو منوانے کا ارادہ رکھتے ہیں یا انہیں اس پر آمادہ کرلیں گے… پے در پے حکومتی بیانات سے کوئی بات مترشح نہیںہوتی کہ تنازع کشمیر کے حوالے سے ہمارا کم از کم مطالبہ کیا ہے جسے منوائے بغیر ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے …اگر صورت حال یہی ہے تو محض بیان بازی سے خواہ کتنی زور دار ہو اور اس کی گونج ساری دنیا میں سنائی دے کچھ حاصل نہیں ہو گا… اسی میں بھارت اپنی کامیابی سمجھتا ہے اور جوابی بیان بازی سے گریز کر کے ریاست جموں و کشمیر کو مدغم کرنے کے ناجائز اور غیر آئینی اقدامات کو مقدور بھر حد تک پائیدار بنوانے میں لگا ہوا ہے … وقت اور حالات کا تقاضا ہے ہم دنیا کے سامنے اپنی کشمیر پالیسی کو قطعی انداز میں پیش کریں اور اس حوالے سے کم از کم مطالبے کا تعین کر کے اس پر ڈٹ جائیں ورنہ بھارت پر اگر عالمی دباؤ بڑھا بھی اور صدر امریکا کی پیشکشوں نے عملی روپ دھار بھی لیا تو نئی دہلی والوں کی وہی کوشش ہو گی جو 1972ء یعنی معائدہ شملہ پر دستخطوں کے فوراً بعد کانگریسی حکومت کی رہی ہے یعنی لائن آف کنٹرول کو بین الاقوامی سرحد میں تبدیل کر دیا جائے… پاکستان مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو ہندوستان کا حصہ مان لیے اور بدلے میں بھارت گلگت و بلتستان سمیت آزاد کشمیر کو ہمیشہ کے لیے پاکستان کے قبضے میں دے دینا تسلیم کر لے… کیا یہ حل ہمیں اور کشمیری عوام کو قبول ہو گا؟ 1972ء سے ابتک ہم اس سے بار بار انکار کر چکے ہیں… مگر سوال پھر وہی پیدا ہوتا ہے اگر یہ نہیں ہے تو واضح اور قطعی الفاظ میں ہماری اصل کشمیر پالیسی کیا ہو گی… جس کا مطالبہ ہمیں عالمی سطح پر اُٹھانا چاہیے لیکن ابھی تک اسے ٹھوس اور قابل عمل شکل میں پیش کرنے میں زیادہ کامیاب نہیں ہو پائے… اگر یہی صورت حال جاری رہی تو محض بیان بازی بے اثر ہو کر رہ جائے گی… بھارت اپنا الّو سیدھا کر لے گا اور آگے کی طرف قدم بڑھانے کی سوچے گا۔


ای پیپر