کارواں گم کردہ منزل
24 اگست 2019 2019-08-24

کشمیر بدستور دنیا بھر سے کٹ کر ایک بڑی قحط زدہ جیل کا منظر پیش کر رہا ہے ۔ کرفیو جاری ہے۔ رات گئے گھروں پر فوج کے چھاپے۔ خواتین ہراساں کیے جانے کی اذیت ناک رپورٹیں۔ ہزاروں نوجوان گرفتار ۔ چادر چار دیواری کا تقدس پامال۔ بچے خوراک اور ادویہ سے محروم۔ دنیا صرف گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے والے بیانات پر اکتفا کر رہی ہے۔ وہ دنیا جس نے عراق کی معاشی ناکہ بندی میں 6 لاکھ بچے ادویہ کی عدم فراہمی اور کم خوراکی پر مارے جانے کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم کیا تھا ۔ (یو این رپورٹ کے مطابق: نیو یارک ٹائمز یکم دسمبر 1995 ء) ۔ اب اس کا ہاضمہ مضبوط تر ہے ! کشمیر کی اس صورت حال اور مسلم بیٹیوں کے خلاف دست درازی کے پیچھے بد روح رواں نریندر مودی کو متحدہ امارات میں دئے جانے والے سب سے بڑے ایوارڈ کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے۔چار سالوں میں یہ مودی کا تیسرا دورہ ہے۔ نیز بحرین دورے کے دوران ( 25,24 اگست) ایک مندر کی تعمیر نو کا افتتاح بھی ہو گا ۔ وہی مودی جس نے کشمیر میں عید الاضحی، قربانی اور 3 لگاتار جمعے مسلمانوں کو محصور رکھا۔ نماز اور مسجد کی اجازت نہ دی ۔ برج خلیفہ پر چڑھ کر شاید کشمیر کی خونچکاں وادی کسی ٹیلی سکوپ سے دیکھی جا ہی سکتی ہو۔ ورنہ مسلمان چندہ کر کے برج خلیفہ پر کشمیری بھائیوں کی حالت زار پر مبنی اشتہارہی دے دیتے۔ ( ڈھائی لاکھ امارتی درہم کا 3 منٹ کا اشتہار ! )۔ اب مسلم دوست خلافت کی جگہ مودی دوست برج خلیفہ، امت کے لیے باقی ہے۔اس دورے کے دوران محبت کی گرمجوشی کا جو اظہار خبروں میں ہے، نہ پڑھیئے گا ورنہ: دیکھ کہ دل کہ جاں سے اٹھتا ہے۔ یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے ! تاہم دل جلانے کا فائدہ بھی نہیں کیونکہ 60 ارب ڈالر کی دو طرفہ تجارت یو اے ای اور بھارت مابین ہے۔ 33 لاکھ بھارتی آبادی ہے وہاں۔ بحرین میں بھی 1.3 ارب ڈالر تجارت کا معاملہ ہے۔ کشمیری صبر سے کام لیں۔ ہندو پروہت کے مطابق : رواداری اور برداشت یو اے ای کی روح ہے۔ اور بھارت کی بد روح کیا ہے ؟ ہندو تو ا۔! کشمیر سے مسلمانوں کا صفایا؟ لینے کے باٹ اور ہیں دینے کے اور ۔ اس وقت سوا کروڑ کشمیریوں پر ظلم و قہر کا برستا کوڑا ، سوا ارب انسانوں کے خطے کا امن اور امن عالم دونوں مودی کے ہاتھوں دائو پر لگا ہے ۔ وہی مودی ( گجرات کا بھیڑیا) جسے اس کی بد ترین انتہا پسندی اور دہشت گردی کے با وجود ، یو این ، سعودی عرب، مالدیپ، روس اور اب امارات، سبھی نے بڑے بڑے ایوارڈوں، اعزازات سے نوازا۔ کشمیریوں کے خون کے چھینٹے سبھی کے دامن آلودہ کر رہے ہیں ۔ دوسری جانب زندہ ضمیر ہندو بھارتی کرنل نے یہ کہتے ہوئے خونِ ناحق سے انکار کر دیا : ’ ہم اپنے لوگوں کو کیسے مار سکتے ہیں‘ با ضمیر ہند و صحافی اروند دھتی رائو نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا:’ نصف ملین سے زائد فوج (کشمیر میں ) اس لیے تعینات ہے تاکہ بقول ان کے مٹھی بھر دہشت گردوں سے نمٹا جا سکے۔ صاف ظاہر ہو جا تا ہے کہ ان کا حقیقی دشمن کشمیری عوام ہیں۔ جو کچھ بھارت کشمیر میں کرتا رہا۔ وہ ناقابل فراموش ہے۔ ستر ہزار سے زائد کشمیری ہلاک ۔ ہزاروں لا پتہ، ہزاروں عقوبت خانوں میں بند ۔ وادیٔ کشمیر چھوٹے پیمانے پر ابو غریب بن چکی ہے‘۔ اللہ انہیں نورِ ایمان سے نوازے جو زندہ ضمیر ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں 6 ہزار اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں۔ ( اگرچہ ایسی ہی قبریں مسلم ممالک میں بھی ہیں!) بھارتی فوج علاقے میں سپیکر رکھ کر تشدد کی چیخیں سنواتی رہی۔ ہمیں سافٹ امیج، رواداری، برداشت کے سبق پڑھانے والی دنیا کا نی ہو چکی؟ بھارتی وحشت و سربیت دکھائی نہیں دیتی۔ یہی ہے وہ فتنہ۔ دجال کے ہمراہ جہنم ہو گی ( ہر با عمل مسلمان کی ہتھیلی پر انگارے دھرنے والی) اور جنت ہو گی ( ہتھیلی پر ڈالر رکھنے والی !) بھارت پاکستان کی شہ رگ دبوچے، ہم پر سیلابی ریلے چھوڑ رہا ہے۔ ایکڑوں زمین، آبادیاں بستیاں اس کی زد میں ہیں۔ FATF میں سب سے زیادہ فتور بھارت نے مچائے رکھا۔ اب بڑی خوشخبری دی جا رہی ہے کہ پاکستان کے چہرے پر چھائی گرے دھند چھٹنے کو ہے۔ اکتوبر تک ہم سفید لسٹ میں آ جائیں گے۔ (ایک دن اور بھی طے شدہ ہے چہروں پر سیاہی چھانے یا روشن سفید چہروں کا۔ ( آل عمران ۔106) اس کا کیا ہو گا ؟)ایشیاء بحرالکاہل گروپ نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ اقدامات کو بہترین قرار دیا ہے۔ کالعدم تنظیموں اور شیڈول فور ( جو ساری ایمانی، جہادی ہیں۔ بھارت کشمیر پر بوقت ضرورت ہمارے دفاع کی بے لوث حفاظتی لائن!) پر کارکردگی سے بہت خوش ہوئے ہیں۔ ( ہمارے دشمن!) ہم نے ہائی پروفائل امریکی مہمان قیدی شکیل آفریدی کے لیے بھی قواعد و ضوابط جیل میں نرم کر دیئے ہیں۔ مدارس کا خوب گھیرائو کیا ہے۔ انہیں سالانہ قربانی کی کھالوں سے پیسہ بنا کر غریب طالب علموں کی دال روٹی چلانے کی عیاشی ختم کر نے کو ، ملکی چمڑے کی صنعت ہی ڈبو دی ہے۔ ایک وقت تھا کہ گائے کی کھال کے 4 ہزار بھی وصول ہوئے اور اس سال یہی کھال 100 تا 300 روپے تک وصول کر پائیFATF! کو ہمارا سافٹ امیج بھی درکار ہے۔با وجود یکہ خبریں ایسی ہیں کہ ہمارا سبھی کچھ اخلاقی اعتبار سے لٹ چکا لیکن ان کو نجانے کتنا مزید درکار ہے۔ جگر تھام کر رپورٹیں نکال دیکھئے اور اخلاقی زوال ( جو ان کی مطلوبہ شق ہے مال دینے کی !) کا حشر دیکھئے۔ 17 اگست روزنامہ ڈان کی رپورٹ میں راولپنڈی میں ایک مرد اور اس کی بیوی نے مل کر 45 لڑکیوں کا شکار کھیلنے کا اقرار کیا۔ بیوی کمسن لڑکی پھانستی اور اسے لا کر شوہر کے ہاتھوں برباد کروا کر وڈیوز عالمی فحش کاری ویب سائٹس کو بیچتے۔ بھاری رقوم کے عوض۔ تآنکہ ایک لڑکی نے پولیس میں رپورٹ درج کروا دی اور یہ تباہ کار جوڑا پکڑا گیا ۔ ایسے ہی ان گنت واقعات ملک بھر سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ پاکستان سافٹ امیج بناتا 18 سالوں میں درندگیوں کی بھینٹ چڑھ گیا ۔ موبائل، نیٹ، سوشل میڈیا، اختلاط، آزادی، بے راہ روی، فحاشی، عریانی کے فراواں مواقع کی فراہمی ، منشیات کا فروغ۔ پیسے کی خدائی پروان چڑھا کر اخلاق روند ڈالے۔ عورت کو با اختیار بنانے کے نتائج میں حال ہی میں 8 افراد اپنی بیویوں کے ہاتھوں، براہ راست یا ان کی ایماء پر قتل ہوئے ہیں۔یوں ہم ترقی یافتہ ممالک میں سر اٹھا کر کھڑے ہونے کے قابل ہو گئے۔ اس سے زیادہ ویمن ’ایمپاورمنٹ‘ کیا ہو سکتی ہے! مزید سافٹ امیج دیکھنا چاہیں تو سندھ حکومت بلاول چیئر مین کے تحت کراچی کے 6 اضلاع کے سرکاری سکولوں میں سکینڈری سطح کے طلبہ طالبات کو ’زندگی گزارنے کی مہارتوں‘ پر مبنی تربیت فراہم کرنے چلی ہے۔ اس کے لیے سندھ کے ہر ضلع سے جنسی تعلیم کے لیے ماسٹر ٹرینرز (18,18 اساتذہ) کا انتخاب ہوا ہے۔ یہ ماسٹر ٹرینر سندھ کے 49,124 ہائی سکول اساتذہ کو یہ تربیت منتقل کریں گے۔ زندگی گزارنے کی مزید مہارتوں کے بعد سافٹ امیج ، سافٹ تر ہو جائے گا۔ خوبصورت اصطلاحوں کے پس پردہ ، اخلاقی تباہی و بربادی کا سونامی تیار ہو رہا ہے۔ سید علی گیلانی کشمیر میں بھارت کی جانب سے نوجوان نسل کی بربادی کے ایسے ہی اہتماموں پر رو پیٹ رہے تھے کہ مودی نے ساری ہی بساط یک بارگی الٹ دی ۔ فتنۂ دجال کے سر پر سینگ تو نہ ہوں گے! کوئی خصوصی بگل تو نہ بجیں گے۔ ہمی کان لپیٹے، آنکھیں موندے رہنا چاہتے ہیں ۔ حقائق تو چیختے چلاتے سبھی کچھ بتا، جتا رہے ہیں!

چلیئے ! زیادہ خون نہ جلائیے۔ جا کر کپڑے کے تھیلے، کاغذ کے لفافے فراہم کیجئے۔ گھر سے نکلتے ہوئے یقینی بنائیے کہ کسی بھی فرد کے ہاتھ میں خدانخواستہ کہیں پلاسٹک شاپر نہ ہو ۔ورنہ دھر لیے جائیں گے۔ حفظِ ما تقدم کے طور پر 5 ہزار روپے کا نوٹ موجود رہے۔ شاپر کا جرمانہ چکانے کو ورنہ حوالات کا منہ نہ دیکھنا پڑ جانے۔ ( خالی خزانہ بھرنے کے نئے منصوبے کے تحت) پچاس روپے کی سبزی خریدنے والے کو صرف نا مراد شاپر کی وجہ سے 5 ہزار کا جرمانہ آ سکتا ہے۔ ہوشیار باش! ملک میں تو تبدیلی آ چکی۔ اب وزیر برائے تبدیلی موسمیات پلاسٹک تھیلوں کے خلاف جنگی عزائم لیے نکلی ہیں۔ سو ٹینڈے ٹماٹر جیبوں میں بھلے ڈال لیں، شاپرانہ جرم سر زد نہ ہو۔ پتہ نہیں، پلاسٹک سرجن کا کیا بنے گا؟ ان کا پلاسٹک بھی قابل دست اندازی، پولیس ہو گا یا نہیں ؟ ایک پلاسٹک سرجن سے مریض نے بھاری بھر کم اخراجات دیکھ کر ( قبل از تبدیلی موسمیات منصوبہ) پوچھا تھا ۔ اگر میں پلاسٹک گھر سے لے آئوں ؟ جواباً سرجن نے کہا تھا ۔ پھر خود ہی لگا بھی لینا۔ نجانے وزیر بی بی زرتاج گل اس بارے اب کیا فرماتی ہیں ! سو پاکستان کی ترجیح اول تو اس وقت یہی ہے ۔ پلاسٹک بیگ صنعت ٹھپ کر کے پھر دیگر معاملات بشمول کشمیر کی باری آئے گی ۔صنعت ہائے فروغ بے حیائی کے سوا سبھی صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔

کارواں گم کردہ منزل ، راستے پر پیچ و خم

راہر وانِ خستہ پاکی رہنمائی جرم ہے


ای پیپر