’’مریم نواز‘‘ کی گرفتاری
24 اگست 2019 2019-08-24

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی موجودہ حکومت کی جانب سے بیماری کی حالت میں جیل میں ڈالے جانے اور وہاں امتیازی سلوک روا رکھے جانے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے جیل میں رہنا پسند کیا ہے جبکہ دوسری جانب اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف کے خلاف کئی ترقیاتی منصوبوں میں انکوائریاں کی گئیں لیکن ان انکوائریوں کے نتیجے میں فی الحال قوم کے سامنے کسی قسم کے ثبوت نہیں لائے گئے جس کے باعث اورنج لائن سمیت بڑے منصوبے نہ صرف رک گئے ہیں بلکہ ان منصوبوں کی لاگت میں اربوں روپے کا اضافہ بھی ہوا ہے ، اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ محمد شہباز شریف کے شروع کردہ منصوبے ہیں اس لئے موجودہ حکومت اس کی طرف توجہ نہیں دے رہی ہے ۔سپریم کورٹ کی جانب سے اس پر نوٹس لینے اورکام کو تکمیل تک پہنچانے کے احکامات کے بعد حکومت نے محمد شہباز شریف کے بیٹوں کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا اور حمزہ شہباز کو مسلسل نیب کے ذریعے نیب آفس بلایا جاتا رہا ہے اور پھر انہیں گرفتار کر کے جیل پہنچایاگیا ۔اس سب کے باوجود جب شریف خاندان نے حکومت پر تنقید کرنا بند نہیں کی تو سابق وفاقی وزیر و مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق اور اُن کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کو گرفتار کیا گیا اس کے بعد رانا ثناء اللہ اور مفتاح اسماعیل کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق شاہد خاقان عباسی کو گرفتاری سے قبل پیغام دیا گیا کہ محمد نواز شریف کو یہ پیغام پہنچا دیں کہ وہ ملک چھوڑ دیں تاہم انہوں نے انکار کردیا جس کے بعد اُنہیں بھی حراست میں لے لیا گیا۔ حکومت نے سیاسی مخالفین کو گرفتار کرنا شروع کردیا ہے جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے ۔ ایسے وقت میں مریم نواز کو گرفتار کیا گیا جب ملک میں قومی یکجہتی کی ضرورت تھی ۔ اور مریم نواز 15 اگست کو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر مظفر آباد آزاد کشمیر میں جلسہ کرنا چاہتی تھی لیکن نیب نے مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کیس میں گرفتار کرلیا۔ نیب حکام کے مطابق مریم نواز سے چوہدری شوگر مل کے شیئرزکی خریداری کیلئے فنڈز کا ریکارڈ طلب کیا گیا تھا اور اس کیس میں محمد نواز شریف کے بھتیجے یوسف عباس کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے ۔

مریم نواز نے سرگودھا ، خوشحاب، فیصل آباد، جہلم ، پاک پتن اور کوئٹہ میں کامیاب جلسے کئے تھے جس سے موجودہ حکومت خوفزدہ تھی اور مریم نواز کی آواز کو دبانے کیلئے اُن کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ شدید گرمی اور حکومتی رکائوٹوں کے باوجود مریم نواز کے جلسوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شرکت کرتے تھے ۔ حکومت کی جانب سے سخت دبائو اور میڈیا سنسر شپ کے باوجود بھی ان کے جلسے کامیاب تھے مریم نواز اپنے والد محمد نواز شریف کی بیانیہ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کو آگے بڑھا رہی تھی اور جلسوں میں ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو پذیرائی مل رہی تھی ۔ مریم نواز کو بھی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے پیغامات مل رہے تھے لیکن بہادر باپ کی بہادر بیٹی نے سیاست سے علیحدگی اختیار کرنے کی بجائے عوام میں جانے کا فیصلہ کیا اور عوام کی جانب سے جگہ جگہ پر اُن کا والہانہ استقبال کیا جارہا تھا اور جب جلسوں کیلئے مریم نواز جاتی امراء رائیونڈ سے نکلتی تو جگہ جگہ پر اُن کا عظیم الشان استقبال کیا جاتا تھا۔ مریم نواز نے اپنے بہادر باپ کی طرح حکمرانوں سے کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کی بجائے جیل جانا قبول کرلیااور ووٹ کو عزت دو کے بیانیئے پر قائم رہی۔

صدر ایوب خان کے دور حکومت سے سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کیاگیا تھا اور جو سیاستدان ایوب خان کی مخالفت کرتا تھا تو اسے (EBDO)اسمبلیوں سے ناا ہلی کا قانون کے تحت سات سال تک نا اہل کیا جاتا تھا اور ایوب خان اپنے اقتدا ر کو طول دیتے رہے ۔ایوب خان نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کو الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے شکست دلائی اور سقوط ڈھاکہ کی بنیاد رکھی تھی ۔ڈکٹیٹر ایوب خان کے بعد ضیاء الحق نے بھی سیاسی مخالفین کو دبانے کے لئے انتقامی کارروائی کے ذریعے منظر عام سے ہٹادیا اور یہاں تک کہ سیاسی کارکنوں کو کوڑے مارے جاتے تھے ۔سیاسی مخالفین کے خلاف من گھڑت مقدمات قائم کر کے جیلوں میں ڈالا جاتا تھا ۔جب ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے منتخب جمہوری حکومت کا خاتمہ کیا اور مارشل لاء کا نفاذ کیا نیب کے ذریعے سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات قائم کر کے گرفتاریاں کیں اور اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے نیب کے ذریعے پہلے ہم خیال لیگ اور پھر ق لیگ تشکیل دی اور جو سیاستدان (ن)لیگ چھوڑ کر (ق)لیگ میں شامل ہوتا تھا نیب میں ان کے خلاف فائلیں بند کر دی جاتی تھیں اور انہیں وزیر یا مشیر بنایا جاتا تھا اور سیاسی مخالفین کی جائیدادیں اور بینک اکائونٹس منجمد کئے جاتے تھے ۔پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور حکومت میں یہ کھیل جاری رہا ۔ماضی میں سیاستدانوں کی آواز کو دبانے کے لئے جو اقدامات اٹھائے جارہے تھے موجودہ حکومت میں وہی اقدامات شروع کئے گئے ہیں ۔حکمرانوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو نیب کے ذریعے گرفتار کیاجاتا ہے ۔حکومتی وزراء اور اتحادیوں کو کلین چٹ دی گئی ہے ۔قیام پاکستان کے 72سالوں میں پسند اور نا پسند گڈ اور بیڈ کے نام پر احتساب کا کھیل کھیلا جارہا ہے ۔اس سے ملک کا نقصان ہو ا ہے ۔ملک کی معیشت کا پہیہ رک گیا ہے ۔ملک کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہو ا ہے لیکن حکمران ماضی کے تلخ تجربات سے سبق نہیں سیکھتے ۔دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ۔احتساب کے لئے پہلے اداروں کو مضبوط بنایاگیا اور بلا امتیاز سب کا یعنی سیاستدانوں،جرنیلوں،ججوں اور بیوروکریٹس کا احتساب کیاگیا لیکن ہمارے ملک میں احتساب سیاسی مخالفین کا کیا جارہا ہے اور یہ کھیل گزشتہ 72سالوں سے جاری ہے رکتا نہیں ۔


ای پیپر