حکومت سندھ کے خلاف چارج شیٹ!
24 اگست 2019 2019-08-24

وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے میئر کراچی وسیم اختر اور صوبائی حکومت کے درمیان تنازع نے نئی شکل اختیار کر لی ہے۔اس موضوع پر دونوں فریقین کے درمیان سخت بیانات کا تبدلہ ہوا۔ روزنامہ’’ پنہنجی اخبار‘‘ اداریے میں لکھتا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا شہر اس کے مالک ہونے کی متعدد گروپ اور سیاسی جماعتیں ہونے کے باجود یہ شہر عملاً لاوارث ہی رہا ہے۔آج تک اس شہر کو منظم حکمرانی نصیب نہ ہو سکی ہے، جو مسائل کا حل ڈھونڈ نکالے اور ترقی کے لئے منصوبہ بندی کرے۔ شہر کے میئر وسیم اختر چارج سنبھالنے کے بعد اختیارات کے معاملے پر مسلسل سندھ حکومت سے جھگڑے میں ہیں۔ جس کی وجہ سے شہری مزید عذاب میں ہیں۔ گزشتہ روز میئر نے کراچی کے شہریوں کو سندھ حکومت کو ٹیکس کی ادائیگی نہ کرنے اور وفاق کو مداخلت کرنے کی اپیل نے جھگڑے کو مزید تیز کردیا ہے۔ میئر کا یہ بیان نہ صرف سول نافرمانی کے زمرے میں آتا ہے بلکہ ایک ذمہ دار منصب پر بیٹھے ہوئے شخص کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو ظاہر کرتا ہے۔ میئر سمیت پوری سندھ حکومت مسائل حل کرنے کی ذمہ دار ہے نہ کہ انارکی پھیلانے کی۔ یہ درست ہے کہ لوکل باڈیز ایکٹ میں کی گئی ترامیم میں اختیارات کے توازن کا خیال نہیں رکھا گیا۔ مشرف دور میں کراچی شہری حکومت سمیت بلدیاتی اداروں کو بہت زیادہ اختیارات دیئے گئے۔ لیکن اس مرتبہ متعدد اختیارات میں کٹوتی کی گئی۔ اب حالت یہ ہے کہ پانی کی فراہمی سے لیکر سیوریج اور گٹر نالوں کی صفائی تک اور گند کچرہ اٹھانے پر بھی اداروں اور عہدیداران کی آپس میں کشمکش چل رہی ہے۔ اب جب بلدیاتی اداروں کی مدت مکمل ہونے والی ہے ، لوکل باڈیز ایکٹ کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میئر کو بھی چاہئے کہ وہ غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کریں۔ اور سیاسی کھیل کے بجائے حقیقی معنوں میں کراچی کے شہریوں کے مسائل حل کرنے پر توجہ دیں۔

گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی نے مکمل ایک روز صوبے میں کتوں پر صرف کیا۔ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے ایوان کو بتایا کہ رواں سال صوبے میں کتے کے کاٹنے کے 92 ہزار کیسز ہوئے ہیں۔ ایوان میں بتایا گیا کہ صرف کراچی میں اڑھائی لاکھ کتے ہیں۔دو ماہ قبل ایچ

آئی وی کے پھیلنے پر محکمہ صحت موضوع بحث بنا تھا، لیکن تاحال اس ضمن میں بھی اطمینان بخش اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ ایوان نے کتا مار مہم شروع کرنے کی قرارداد منظور کی۔ وزیر صحت کے بتائے گئے اعدا وشمار انکشاف سے کم نہیں ، لگتا ہے کہ چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات میں خاص طور پر بچے کتوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ حکومتی سطح اور خاص طور پر محکمہ صحت کے غیر سنجیدہ رویے نے سانحے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ کیونکہ کتے کاٹنے کی ویکسین کئی ہسپتالوں میں دستیاب نہیں۔ حکومت نے نہ کتا مار مہم شروع کی اور نہ ہی سرکاری ہسپتالوں میں ویکسین کی دستیابی یقینی بنائی۔ پہلے یہ ویکسین انڈیا سے منگوائی جاتی تھی، لیکن تنازع کشمیر کی حالیہ صورتحال کے بعد وہاں سے ویکسین منگوانا بند کردی گئی ہے۔ اب دوسرے ممالک سے ویکسین منگوانے پر غور ہوگا اور سمری منظور کر کے آرڈر دیا جائے گا، تب تک سندھ کتوں کے حوالے رہے گا؟

روز نامہ کاوش ’’ سندھ میں سرگرم اغوا انڈسٹری ‘‘ کے عنوان سے اداریے میں لکھتا ہے کہ سندھ میں مزاحمت اور سیاسی شعور کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ اس سیاسی شعور اور مزاحمت کو دبانے کے لئے ایک منظم طریقے سے سماج کو غیر سیاسی بنانے اور لوگوں کو خوف اور دہشت کے خوف میں رکھنے کے لئے دیہی علاقوں میں ڈاکو اور شہری علاقوں میں دہشتگرد پیدا کئے گئے۔ سماج کو الٹے پائوں تنزلی کی راہ پر چلانے کی کوشش کی گئی۔ اب بھی جب یہ طاقتور حلقے چاہتے ہیں سندھ میں جرائم میں اضافہ ہو جاتا ہے، اغوا برائے تاوان کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ لگتا ہے کہ جرائم کے ایکسیلیٹر پر بعض حلقوں کا پائوں موجود ہے جو ان جرائم کی رفتار تیز یا سست کرتا رہتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران صوبے میں اغوا برائے تاوان کے واقعات میں بیحد اضافہ ہوگیا ہے۔ جس کی تازہ مثال فنکار اور گائیک نبی بخش عرف جگر جلال کا پانچ ساتھیوں سمیت اغوا ہے۔ ڈی آئی جی لاڑکانہ کا کہنا تھا کہ جگر جلال کو اغوا نہیں کیا گیا تھا بلکہ وہ ڈاکوئوں کی دعوت پر وہاں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے جارہے تھے۔ بعد میں پولیس نے یرغمالیوں کی بازیابی کے لئے شکارپور کے ناپر کوٹ علاقے میں کیا گیا آپریشن غلط منصوبہ بندی اور انتظامی نقائص کے باعث ناکام ہو گیا۔ پولیس ڈاکوئوں کو کوئی نقصان دینے کے بجائے اپنا ہی نقصان کر کے لوٹ آئی، آپریشن میں ڈی ایس پی شفیع اللہ کی شہادت کے بعد آپریشن بند کر کے ڈاکوئوں سے سرداروں کے ذریعے رابطہ کیا۔ ڈاکوئوں نے یرغمالیوں کا ان کے رشتہ داروں سے فون پر رابطہ کیا۔ یوں آپریشن ختم کر نے اور مغویوں کی باحفاظت رہائی کا مطالبہ کیا۔ مغویوں کے ورثاء کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں کو ایسی جگہ پر رکھا گیا ہے جہاں پولیس یا فوج نہیں پہنچ سکتی۔ضلع شکارپور جرائم میں آگے ہے۔ یہاں پولیس آپریشن ناکام ہو جاتے ہیں۔ ڈاکوئوں کے پاس اتنا اسلحہ ہے کہ پولیس ان کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اور غلط منصوبہ بندی کے نیتجے میں ہر مرتبہ اپنے اہلکار شہید کروا کر واپس آجاتی ہے۔ ڈی ایس پی کی شہادت کے بعد پولیس نے سرداروں کے ذریعے مذاکرات کئے۔ جب قانون ہی مجرموں سے مذاکرات کرے، پولیس ان کے سامنے بے بس ہو، تو عام شہری کے پاس کیا تاثر جائے گا؟ پولیس تو خود ڈیل ڈپارٹمنٹ بنا ہوا ہے۔ مسائل کی جڑ اچھی حکمرانی کا فقدان ہے لگتا ہے کہ حکومت سندھ کے خلاف جو چارج شیٹ بن رہی ہے اس میں کراچی، امن و امان اور صحت کے معاملات اہم ہونگے۔


ای پیپر