تنازعہ کشمیر اور بھارتی جارحیت کا خطرہ
24 اگست 2019 2019-08-24

تنازعہ کشمیر کے حوالے سے ماضی کے کچھ اہم واقعات کا تذکرہ آگے لے کر چلتے ہیں۔ جون 1947میں تقسیم ہند کے منصوبے کا اعلان ہوا تو ایک بار پھر کشمیری مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے19جولائی 1947کو واضع لفظوں میں یہ مطالبہ کیا کہ "چونکہ جغرافیائی ، مذہبی ، تاریخی اور ثقافتی ہر لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ ریاست جموں و کشمیر اور گلگت ولداخ کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو، لہٰذا مہاراجہ ہری سنگھ کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اگر اس نے اس کے برعکس کوئی فیصلہ کیا تو کشمیری عوام اس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونگے۔"

پھر یہی ہوا، 14 اگست 1947کو ہندوستان میں دو آزاد مملکتوں پاکستان اور بھارت کے وجود میں آنے کے بعد کشمیری عوام کے کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے مطالبے میں شدت آگئی ۔ اس مطالبے کے حق میں پورے کشمیر میں مسلمان ڈوگرہ راج کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔ پاکستان سے ملحقہ کشمیر کے علاقوں کو ڈوگرہ راج سے آزاد کروا لیا گیا اور 24اکتوبر 1947کو آزاد کشمیر حکومت کے قیام کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا ڈوگرہ راجہ ہری سنگھ نے بھارتی گورنر جنرل لارڈ مونٹ بیٹن ، وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو اور وزیر داخلہ سردار پٹیل کے دبائو پر 26اکتوبر 1947کو کشمیر کے بھارت سے الحاق کا اعلان کر دیا ۔ اس کے بعد پاکستان اور بھارت کی فوجوں میں جنگ شروع ہوگئی اس جنگ میں پاکستان کے لیے سری نگر پر قبضہ جمانے کے اچھے مواقع موجود تھے لیکن ہم ان سے بوجوہ فائد ہ نہ اٹھا سکے۔ بھارت کشمیر کے مسئلہ کو اقوامِ متحدہ میں لے گیا۔ اقوام متحدہ کی کوششوں سے پاکستا ن اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ہوگئی اور طے پایا کہ کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہونگے اور آزادانہ رائے شماری (استصواب رائے) کے ذریعے پاکستان یا بھارت میں سے جس کے ساتھ چاہیں الحاق کر سکیں گے۔ بھارت کشمیر میں استصواب رائے کے حق میں منظور کی جانے والی اقوام متحدہ کے قرادیں تسلیم ہی نہیں کرتا رہا ان پر عمل در آمد کی یقین دہانی بھی کراتا رہا ۔ لیکن گزشتہ صدی کی 50کی دہائی کے وسط میں بھارت جہاں ان قرار داوں پر عمل در آمدکرانے سے منکرہوگیا وہاں وہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ بھی قرار دینے لگا۔

تنازعہ کشمیر کے حوالے سے اس سے زیادہ تفصیل بیان کرنے کی یہاں گنجائش نہیں لیکن یہ اہم سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کشمیر پر تین جنگیں لڑنے کے باوجود بھی پاکستان اس مسئلہ کو حل کرنے یا کروانے میں کامیاب کیوں نہیں ہو سکا۔ اس کا مختصر جواب یہ بھی دیا جا سکتا ہے کہ ہم نے مواقع کا بھر وقت اور بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا۔ 1947میں مجاہدین کے دستے سری نگر کے نواح میں پہنچ چکے تھے لیکن سری نگر پر قبضہ جمانے میں ناکام رہے کہ انھوں نے کچھ دوسرے معاملات کو اپنی ترجیحات میں شامل کر لیا تھا۔ جولائی، اگست 1965میں ہم نے کشمیر کی آزادی کے لیے "آپریشن جبرالٹر"کی منصوبہ بندی کی لیکن ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے یہ آپریشن مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہا تو یکم ستمبر کو ہماری افواج لائن آف کنٹرول یا حد متارکہ جنگ کو عبور کرکے چھمب جوڑیاں سیکٹر میں مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوگئیں۔ ہمارے دستوں کی پیش قدمی جاری تھی کہ 6ستمبر کی رات کو بھارت نے بین

الاقوامی سرحد عبور کرکے پاکستان پر حملہ کر دیا اس طرح مقبوضہ کشمیر میں ہماری پیش قدمی رُک گئی ۔ ستمبر 1965کی جنگ 17روز تک جاری رہی اور جنوری 1966میں روسی وزیر اعظم کوسی جن کی ایما پر ہمیں "معاہدہ تاشقند " پر دستخط کرنے پڑے اور مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کا دو طرفہ معاملہ قرار دیئے جانے کی کڑوی گولی بھی نگلنی پڑی۔ دسمبر 1971میں مشرقی پاکستان میں ہماری فوجوں کوبھارت کے مقابلے میں ہتھیار ڈالنے پڑے اور 90ہزار کے لگ بھگ پاکستانی قیدی بھارت کے جنگی کیمپوں میں پہنچا دیئے گئے تو قیدیوں کی رہائی اور پاکستانی علاقوں کی واپسی کے لیے ہمارے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو "شملہ معاہدہ"پر دستخط کرنے پڑے۔ یہاں ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھار ت کے مابین تنازعہ قرار دیکر باہمی بات چیت پر رضامندی کا اظہار کیا گیا۔فروری 1999میں بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی لاہور کے دورے پر آئے تو اعلانِ لاہور سامنے آیا جس میں ایک بار پر مسئلہ کشمیر کو پاکستا ن اور بھارت کے درمیان دو طرفہ تنازعہ قرار دیکر اس پر باہمی بات چیت پر اتفاقِ رائے کا اظہار کیا گیا۔1999میں کارگل کی معرکہ آرائی ہوئی جس میں بقول ہمارے مجاہدین نے کارگل ، رداس اور بٹالک کی بلند برف پوش چوٹیوں پر بنی ہوئی بھارتی چوکیوں پر قبضہ جمالیا اور لداخ تک بھارتی فوج کی سپلائی لائن کو کاٹ کر رکھ دیا ۔ یہ پاکستان کی بہت بڑی کامیابی تھی لیکن دنیا ہمارے اس موقف کو تسلیم کرنے پر تیار نہ ہوئی کہ بھارتی چوکیوں پر قبضہ جمانے والے مجاہدین ہیں پاکستانی فوجی نہیں ۔ عالمی طاقتوں نے پاکستان کو دراندازی کا مرتکب قرار دیا مجبورا ہمیں اپنے مسلح دستوں کی واپسی اور پسپائی کی راہ اختیار کرنی پڑی۔ ہمارا بے پناہ جانی نقصان ہوا اور دنیا کے سامنے ندامت ہمیں الگ برداشت کرنی پڑی۔ یہ سب مواقع تھے جن سے ہم بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے فائدہ اٹھاتے ہوئے کشمیر کی آزادی کا اہم مقصد حاصل کر سکتے تھے لیکن اس کے بجائے کشمیر کے حوالے ہم نے کچھ ایسے انداز فکر و عمل کو اپنایا کہ جس سے کشمیر پر ہمارا موقف دن بدن کمزوری سے دو چار ہوا۔

معذرت کے ساتھ یہاں اس حقیقت کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ پچھلے سات عشروں میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی عوام کے رویوں میں بے العموم اور پاکستان کے حکمرانوں، سیاسی جماعتوں، اہم رہنماوں اور خود آزاد کشمیر کے حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں میں ایک اجتماعی بے حسی، لا پرواہی، مفاد پرستی، بے اصولی، بد انتظامی ہر صورت میں اقتدار کے حصول کو اپنا مطمع نظر قرار دینا اور کشمیر کے الحاق پاکستان کے بنیادی مقصد کو نظر انداز کرنے کی روش پروان چڑھی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کشمیر کے الحاق پاکستان کے مطالبے اور نظریے کی سب سے بڑی داعی جماعت چلی آرہی ہے۔ مختلف ادوار میں ہمارے ناعاقبت اندیش حکمرانوں، سیاسی جماعتوں اور ان کے محدود سوچ کے مالک قائدین نے اپنی انا پرستی یا ذاتی اغراض یا اپنی سیاسی جماعتوں سے وابستہ بعض اپنے چہیتوں کی دل جوئی کے لیے اس جماعت کو کمزور کرنے اور اس کے حصے بخرے کرنے کے انداز فکر و عمل کو اپنائے رکھا ہے۔ جس سے تحریک آزادی کشمیر اور کشمیر کے پاکستان سے الحاق کے بنیادی نظریے اور مقصد کو انتہائی زک پہنچی ہے۔ یہاں تفصیل میں جانے کا موقع نہیں لیکن تھوڑا سا تذکرہ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے قائد مرحوم سردار محمد عبدالقیوم خان کا کیا جاتا ہے کہ ان کی ذات سے لاکھ اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن وہ کشمیر بنے گا پاکستان کے موقف کے زبردست حامی ہی نہیں تھے بلکہ ان کی آواز عالمی فورمز پر بھی سُنی جاتی تھی اور ان کے موقف کو پذیر ائی ملتی تھی۔افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کشمیر میں الحاق پاکستان کے حامی عناصر کو کمزور کرنے میں پاکستان کی بڑی قومی سیاسی جماعتوں کا کچھ نہ کچھ عمل دخل ضرور بنتا ہے۔ خیر تاریخ آج نہیں تو کل اس حقیقت کو ضرور سامنے لے کر آئی گی کہ آخر ایسا کیوں ہوتا رہا اور کس کس نے کشمیر کے حوالے سے میر جعفر کا کردار ادا کیا۔

آخر میں میں یہ کہنا چاہوں گا کشمیریوں کی بھارت کے خلاف جاری جدوجہد آزادی دبنے والی نہیں ۔ ہمیں اپنی کوتاہیوں کا مداوہ کرنا ہوگا ۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کا ہر گام پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند کرنا اور اپنے شہیدوں کو پاکستانی پرچم کے کفن پہنانا اور ان کے تابوت پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کر نا کیا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ بھارت سے آزادی اور الحاق پاکستان ان کی آخری منزل ہے ۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم نے کشمیری قیادت جو الحاق پاکستان کی حامی ہے خواہ وہ آزاد کشمیر میں ہو یا مقبوضہ کشمیر میں ہو اُس کو کمزور کیا ہے۔ ماضی اور حال کی ہماری کوتاہیاں اپنی جگہ ، لیکن اب ہمیں مواقع کو اپنے حق میں بدلنا ہوگا اس کے لیے اگر ہمیں بھارت کے ساتھ کوئی جنگ بھی مول لینی پڑی تو اس سے بھی ہمیں پیچھے نہیں ہٹنا ہوگا کہ شاید ہمارے لیے کشمیر کی آزادی کا آخری موقع ہے۔


ای پیپر