ہانگ کانگ: ون کنٹری، ٹو سسٹم فارمولا خطرے میں
24 اگست 2019 2019-08-24

تاریخ جغرافیہ اور سیاسیات کے ماہرین اور طالب علموں کے لیے اس وقت ایک بڑی دلچسپ اور حیران کن صورت حال پیدا ہو چکی ہے۔ ایک طرف جموں و کشمیر کو غیر آئینی اور زبردستی انڈیا نے ایک طرح سے ناجائز قبضہ کر لیا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف ہانگ کانگ جسے ایک معاہدے کے تحت برطانیہ نے چین کے حوالے کیا تھا دہاں فسادات پھوٹ پڑے ہیں اور چین کے مسائل میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ عالمی طاقتیں کشمیر کے معاملے میں مکمل خاموش ہیں بلکہ انڈیا کی حمایت میں ہیں مگر ہانگ کانگ کے بحران میں ہر کوئی اندر سے خوش ہے اور چین کی در پردہ اور اعلانیہ دونوں سطح پر مخالفت کی جا رہی ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے جا رہے ہیں اس سے دنیا بالخصوص امریکہ کا چہرہ بے نقاب ہو چکا ہے۔ کشمیریوں کی حمایت اس لیے نہیں کی جا رہی کہ وہ مسلمان ہیں جبکہ دوسری طرف ہانگ کانگ کا ذکر ہوتا ہے تو امریکہ کا دل درد سے بھر جاتا ہے اور انگلینڈ کے دل میں بھی کانٹے چبھنے لگتے ہیں۔ یہ ڈبل سٹینڈرڈ ایک افسوسناک صورت حال ہے جس سے آنے والے وقت میں عالمی سطح پر کئی مزید فلیش پوائنٹ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

ہانگ کانگ کی تاریخ بڑی پر آشوب ہے یہ زمانہ قدیم میں سائوتھ چین کا ایک شہر تھا 1840 ء میں برطانیہ اور چین کے درمیان طویل جنگ ہوئی جسے Opium war کہا جاتا ہے برطانیہ کا چین سے مطالبہ تھا کہ افیون کے بدلے میں چین ہمیں مصالحہ جات اور دیگر تجارتی پراڈکٹ دے مگر چین نے انکار کر دیا ان افیونی جنگوں میں برطانیہ نے چین کے شہر ہانگ کانگ پر قبضہ کر لیا جنگ عظیم دوم کے بعد ہانگ کانگ کافی عرصہ تک جاپان کے زیر تسلط رہا۔ 1898 ء میں برطانیہ نے 99 سالہ لیز پر ایک دفعہ پھر ہانگ کانگ کو اپنی حکومت میں شامل کر لیا جسے وائسرائے ہند کے زیر نگیں چلایا جاتا تھا ۔ 1984 ء میں برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر اور چینی حکومت کے درمیان ایک جوائنٹ ڈیکلریشن سائن کیا گیا جس میں برطانیہ اس شرط پر ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کرنے پر رضا مند ہوا کہ ہانگ کانگ کی خود مختاری بر قرار رکھی جائے گی اس معاہدے کے تحت 99 سالہ لیز مکمل ہونے پر 1997 ء میں ہانگ کانگ پھر چین کے پاس آ گیا جسے ون کنٹری ۔ ٹو سسٹم فارمولا کے تحت چلایا جا رہا ہے ۔ جس میں ہانگ کانگ کو محدود خود مختاری حاصل ہے ۔ چین نے کئی بار دھمکی دی ہے کہ وہ ہانگ کانگ کو اپنے مین لینڈ چین میں شامل کر لیں گے مگر عالمی دبائو کے تحت چین یہ نہیں کر سکتا۔ ہانگ کانگ کی موجودہ Status یہ ہے کہ یہ نہ تو چین کے ما تحت ہے اور نہ ہی یہ چین سے مکمل آزاد ہے۔

ہانگ کانگ دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ سنگاپور ایئر پورٹ اور دوبئی کے بعد دنیا کا مصروف ترین ایئر پورٹ ہے گزشتہ سال 80 ملین مسافر بطور سیاح یہاں آئے۔ چینی سیاسی طور پر کسی قیمت پر ہانگ کانگ سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں ہیں۔ مارگریٹ تھیچر کے ساتھ معاہدے میں یہ بھی قرر پایا تھا کہ 1997 ء سے اگلے 50 سال یعنی 2047 تک چین ہانگ کانگ کی خود مختاری کا احترام کرنے کا پابند ہے جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے ہانگ کانگ پر مکمل قبضے کے لیے چین کی

بے چینی بڑھتی جا رہی ہے مگر دوسری طرف ہانگ کانگ کے شہری چین کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں جیسے جموں کشمیر والے انڈیا کو۔ گویا 2047 ء تو بہت دور ہ چین اور ہانگ کانگ کا فیصلہ اس سے پہلے ہو جانا ہے۔ امریکہ برطانیہ اور مغربی ممالک ہانگ کانگ میں چینی مفادات کو نقصان پہنچانے اور ہانگ کانگ میں مظاہروں کی پشت پناہی کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ امریکہ کو تجارتی جنگ میں چین سے جو شکست ہوئی ہے وہ اس کا بدلہ لینے کے لیے تلملا رہا ہے۔ اس لیے وہ ہانگ کانگ میں شورش کو ہوا دے رہے ہیں مگر میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ چین کو جب بھی یہ محسوس ہوا کہ معاملات اس کے قابو سے باہر ہو رہے ہیں تو کیمو لسنٹ پارٹی آف چین نے ہانگ کانگ پر قبضہ کر لینا ہے ۔ اس کے بعد کیا ہو گا حالات کا فیصلہ وقت کرے گا۔

چینی صدر شی جن پنگ 2012 ء میں بر سر اقتدار آئے تھے ہانگ کانگ میں کئی ہفتوں سے جاری مظاہرے ان کے اقتدار کا سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ ہانگ کانگ کی آئینی سربراہ مسز Carrie Lama ایک طرح سے چین کی کٹھ پتلی ہیں کوئی سربراہ چین کی آشیر باد کے بغیر عہدہ نہیں سنبھال سکتا۔

حالیہ مظاہروں کی وجہ جون میں ہونے والا ایک فیصلہ تھا جس کے تحت ہانگ کانگ میں سنگیین جرائم میں ملوث ملزمان کو چینی حکومت کے حوالے کرنے اور چین میں ان پر مقدمہ چلانے کا قانون پاس ہوا۔ اس قانون کو ہانگ کانگ کے شہریوں کے شدید احتجاج پر معطل کرنا پڑا اور چین ایک طرح سے بیک فٹ پر چلا گیا ۔ مگر مظاہرین اب بہت آگے جا چکے ہین اب ان کے مطالبات مذکورہ قانون کے خلاف نہیں بلکہ انہوں نے اور بھی مطالبات شروع کر دیئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قانون کی عارضی معطلی کافی نہیں اسے مستقل ختم کیا جائے۔ تمام گرفتار شہری رہا کیے جائیں اور شخصی آزادیاں بحال کی جائیں ۔ ہمارے احتجاج کو ہنگامہ آرائی یا غیر قانونی کہنا بند کیا جائے دوسری طرف چین حکومت کہتی ہے کہ یہ لوگ غیر ملکی طاقتوں کے ایماء پر ایسا کر رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ دونوں طرف شدت پسندی اور بے چینی بڑھ رہی ہے ۔ چین نے ہانگ کانگ کی حدود سے 4 کلو میٹر کے فاصلے پر چینی شہر Shenzen میں اپنی فوج کو چوکس کر رکھا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورت میں وہاں سے 10 منٹ میں ہانگ کانگ پہنچ سکے۔

امریکی جریدے فارن پالیسی میگزین کے حالیہ شمارے میں مضمون شائع ہوا ہے کہ چین اپنے پائوں پر خود کلہاڑی مار رہاہے۔ یہ ایک طرح کی Hybrid جنگ ہے جس میں سوشل میڈیا کا بے پناہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ فیس بک اور ٹویٹر نے الزام لگایا ہے کہ گوگل کے ذیلی ادارے یو ٹیوب پر بہت سے پلیٹ فارم ہانگ کانگ مظاہرین کے خلاف چینی پراپیگنڈا میں ملوث ہیں گوگل نے ایسے چینل بند کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ جنگ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی لڑی جا رہی ہے۔

ملین ڈالر کا سوال یہ ہے کہ عالمی میڈیا اور سپر پاورز کو ہانگ کانگ میں ہونے والے گزشتہ 10 ہفتوں کے مظاہروں کی تو بڑی فکر ہے مگر کشمیر جہاں مسلمان کا وسیع پیمانے پر قتل عام ہو رہا ہے۔ اس کی کسی کو فکر نہیں۔


ای پیپر